برامپٹن(نمائندہ خصوصی) حکومتِ کینیڈا نے ہاؤسنگ بحران سے نمٹنے کیلئے بِلڈ کینیڈا ہومز کے تحت سستے گھروں کی بڑے پیمانے پر تعمیر اور فنانسنگ کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ یہ نیا وفاقی ادارہ ہاؤس بلڈنگ انڈسٹری میں جدت کو فروغ دیتے ہوئے کم لاگت رہائش کی فراہمی پر کام کر رہا ہے۔ کینیڈین حکومت اور بِلڈ کینیڈا ہومز کے مطابق ادارے کے قیام کے صرف 100 دن میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہزاروں سستے گھروں کے منصوبوں کا وعدہ کیا جا چکا ہے جن پر رواں برس عملی کام شروع ہو جائے گا، جبکہ وفاقی زمین پر چھ منصوبے تعمیر کے مراحل کی جانب بڑھ رہے ہیں، جن میں ماڈیولر اور فیکٹری میں تیار گھروں کے طریقے اپنائے جا رہے ہیں تاکہ رفتار تیز کی جا سکے۔ اس کے علاوہ صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کے ساتھ اہم معاہدے طے پا چکے ہیں جن سے ملک بھر میں نئے ہاؤسنگ مواقع پیدا ہوں گے۔
حکام کے مطابق بڑے شہروں ٹورنٹو، اوٹاوا، ونی پیگ، ایڈمنٹن، لانگوی اور ڈارٹماؤتھ میں وفاقی زمین پر چار ہزار تک براہِ راست گھروں کی تعمیر کا منصوبہ ہے، جبکہ سٹی آف اوٹاوا کے ساتھ شراکت داری کے تحت منظوریوں اور فنانسنگ کے عمل کو تیز کر کے تین ہزار تک نئے گھروں کی راہ ہموار کی جائیگی۔نووا اسکاوشیا میں 1430 گھروں کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے جن میں مارکیٹ سے کم قیمت یونٹس شامل ہوں گے۔
برامپٹن ساؤتھ سے رکنِ پارلیمنٹ سونیا سدھو نے کہا ہے کہ سستا گھر برامپٹن سمیت پورے کینیڈا کے خاندانوں کی اولین ترجیح ہے اور بِلڈ کینیڈا ہومز جدید تعمیراتی طریقوں اور ہزاروں قابلِ استطاعت گھروں کی فراہمی کے ذریعے عملی نتائج دے رہا ہے۔ ان کے مطابق مقصد ہر خاندان کو محفوظ اور سستی رہائش فراہم کرنا ہے۔

