سعد رضوی سمیت کالعدم ٹی ایل پی کے 290 رہنماؤں اور کارکنوں پر سفری پابندیاں

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وزارتِ داخلہ نے کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی، ان کے بھائی انس رضوی اور دیگر 288 رہنماؤں، مالی معاونین اور سرگرم کارکنوں کے نام عارضی قومی شناختی فہرست (PNIL) میں شامل کر دیے ہیں تاکہ ان کی بیرونِ ملک روانگی کو روکا جا سکے۔

ڈان اخبار کے مطابق، فہرست میں شامل 290 افراد میں 23 سینئر رہنما شامل ہیں جو مالی معاونت، احتجاجی منصوبہ بندی اور تنظیمی نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔ وزارتِ داخلہ کے فیصلے کے بعد ایف آئی اے، امیگریشن حکام اور سرحدی سیکورٹی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں، زمینی سرحدوں اور چیک پوسٹوں پر ان کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھیں۔

رپورٹس کے مطابق، حکام کو خدشہ ہے کہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کراچی میں اپنے حمایتی نیٹ ورک کے ذریعے قانونی کارروائی سے بچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

پنجاب کے ایک سینئر سرکاری افسر نے بتایا کہ یہ فہرست صوبائی حکومت کی سفارش پر وفاقی وزارتِ داخلہ کو بھیجی گئی تھی، کیوں کہ یہ افراد 100 سے زائد ایف آئی آرز میں نامزد ہیں، جن میں تقریباً 80 مقدمات دہشت گردی اور دیگر سنگین الزامات پر مبنی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، ٹی ایل پی کے مالی نیٹ ورک کا سراغ جدید جیو فینسنگ، بینک ریکارڈز اور رقوم کی منتقلی کے ڈیٹا کے ذریعے لگایا گیا۔ ان مشتبہ افراد کے نام پولیس کو فراہم کر دیے گئے ہیں تاکہ انہیں دہشت گردی ایکٹ 1997 کے فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی کارروائی کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق، پنجاب پولیس نے حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ 2020 اور 2021 کے احتجاجی تشدد کے مقدمات کی ازسرِ نو تحقیقات کی جائیں گی تاکہ 2025 کے حالیہ فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کو مربوط بنایا جا سکے۔

اسی اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ مسیحی اور احمدی عبادت گاہوں پر حملوں کے پرانے مقدمات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ ان میں ٹی ایل پی کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔

ان تحقیقات کی نگرانی کی ذمہ داری ڈی آئی جی عمران کشور کے سپرد کر دی گئی ہے، جو اس سے قبل 9 مئی کے واقعات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی قیادت کر چکے ہیں۔ انہیں فارنزک شواہد، ڈی این اے، جیو فینسنگ اور کال ڈیٹا ریکارڈ کی نگرانی کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، پنجاب حکومت نے معتدل سنی علما کے ایک گروپ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ٹی ایل پی سے منسلک 300 مساجد اور 125 مدارس کا انتظام ان علما کے سپرد کیا جائے گا تاکہ مذہبی تعلیم اور خطبات کو امن و رواداری کے اصولوں کے مطابق استوار کیا جا سکے۔

ادھر ساہیوال میں 12 ٹی ایل پی کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کر لیے گئے ہیں، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے محکمہ داخلہ کی ہدایت پر جاری کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں