سعودی عرب اور یمن کے حوثی تحریک کے درمیان تنازع ایک پیچیدہ تاریخ پر مبنی ہے جس میں علاقائی تنازعات، نظریاتی اختلافات، اور بدلتے ہوئے اتحاد شامل ہیں۔ 20ویں صدی کے اوائل میں سرحدوں اور اثر و رسوخ پر شروع ہونے والی یہ کشمکش سرد جنگ کی جغرافیائی سیاست، سیاسی اسلام کے عروج، اور عرب بہار کے وسیع تر ہلچل کی وجہ سے ایک طویل اور کثیر الجہتی تنازع میں تبدیل ہو گئی۔ آج، سعودی-حوثی تعلقات مشرق وسطیٰ کے سب سے متنازعہ معاملات میں سے ایک ہیں، جہاں ایک دیرپا امن کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔
ابتدائی کشیدگی: علاقائی تنازعات اور معاہدہ طائف (1934)
سعودی-حوثی تناؤ کی جڑیں 20ویں صدی کے اوائل میں ملتی ہیں، جب نئی تشکیل پانے والی مملکت سعودی عرب اور یمن کی زیدی امامت کے درمیان علاقائی دعووں پر تصادم ہوا۔ 1933 میں، یمن کے زیدی امام یحییٰ نے ابن سعود نے کہا کہ ہماری امامت نو سو سال سے چلی آ رہی ہے، سعودی عرب کا بانی بدو کہاں سے آ گیا ہے۔
جس کے بعد سعودی لشکر نے یمن پر حملہ کردیا۔ عسیر، نجران، اور جیزان کے سرحدی علاقوں پر جنگ چھڑ گئی۔ سعودی افواج نے حملہ کر کے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا اور یمن کو 1934 میں معاہدہ طائف پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس معاہدے نے سعودی عرب کے ان تینوں صوبوں پر قبضے کو رسمی شکل دی، لیکن یمنیوں میں ان علاقوں کے نقصان کے بارے میں شکایات برقرار رہیں، جو مستقبل کے تناؤ کی بنیاد بنیں۔
معاہدہ طائف (1934) سعودی عرب اور یمن کے زیدیوں کے درمیان برطانویوں نے طے کرایا تھا، وہ سعودی عرب کے زیادہ قریب تھے اور اُس وقت اُن کا خطے میں خاصا اثر و رسوخ تھا، خاص طور پر جنوبی یمن (عدن) اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں پر۔ انہوں نے دونوں فریقوں—یمن کے امام یحییٰ اور شاہ عبدالعزیز ابن سعود—کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد کئی دہائیوں تک دونوں کے درمیان لائی بڑی جنگ نہیں ہوئی۔
سرد جنگ کی سیاست: سعودی عرب اور زیدی (1960 کی دہائی)
1960 کی دہائی میں خطے کی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم تبدیلی آئی۔ 1962 میں، یمن کے آخری زیدی امام، محمد البدر، کو مصر کے جمال عبدالناصر کی حمایت یافتہ بائیں بازو کی قوتوں نے بغاوت کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا۔ اس کے نتیجے میں مصری حمایت یافتہ ریپبلک فورسز اور سعودی حمایت یافتہ زیدی “بادشاہت پسندوں” کے درمیان ایک خانہ جنگی چھڑ گئی۔ سعودی عرب، جو اپنے جنوبی سرحد پر صدر ناصر کے “پان عرب ازم” اور سوویت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوفزدہ تھا، نے زیدیوں کو مالی اور فوجی امداد فراہم کی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ زیدیز، جن کی سعودی عرب نے اس دور میں حمایت کی تھی، بعد میں حوثی تحریک کی شکل اختیار کرتے ہیں، جو اب سعودی عرب کے سب سے بڑے دشمنوں میں سے ایک ہیں۔
یمن کی ساٹھ کی دہائی میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران مصر نے اپنی فوج بھی بھیجی تھی لیکن ہزاروں فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد پسپائی ہوئی۔ مصر یمن میں فوجی کارروائی کے بعد کمزور ہو گیا تھا اور جب 1967 میں اسرائیل سے جنگ ہوئی تو شکست فاش ہوئی۔1970 میں یہ خانہ جنگی ایک سمجھوتے کے ساتھ ختم ہوئی جس کے تحت یمن عرب جمہوریہ (شمالی یمن) قائم ہوا، تاہم سعودی عرب نے ملک پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ تاہم، عسیر، نجران، اور جیزان کے کھوئے ہوئے علاقوں کو واپس لینے کے بارے میں یمنی بیانات نے تعلقات کو کشیدہ رکھا۔
متحدہ یمن کے بعد کشیدگی اور حوثیوں کا عروج (1990 کی دہائی-2000 کی دہائی)
1990 میں، شمالی اور جنوبی یمن متحد ہو کر جمہوریہ یمن بن گئے، لیکن نئی ریاست کو فوری چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ جب یمن نے 1990-91 میں عراق کے خلاف پہلی خلیجی جنگ کے دوران امریکہ کی قیادت میں اتحادیوں کی جنگ کی مخالفت کی، تو اس نے سعودی عرب کو غصہ دلایا، جس نے ہزاروں یمنی مزدوروں کو ملک بدر کر کے یمن میں معاشی بحران پیدا کر دیا۔ اس اقدام نے یمنیوں میں سعودیوں اور امریکیوں کے خلاف نفرت کو گہرا کر دیا۔ (یمنی تاریخی طور پر اسرائیل مخالف تو رہے ہیں۔)
اسی دوران سعودی عرب کی شمالی یمن میں وہابی نظریات کو پھیلانے کی کوششوں، خاص طور پر زیدی آبادی میں، نے شدید رد عمل پیدا کیا۔ زیدی، جو شیعہ اسلام کی ایک مخصوص شاخ کی پیروی کرتے ہیں، نے وہابیت کو اپنے مذہبی اور ثقافتی تشخص کیلئےخطرہ سمجھا۔ یہ تناؤ 2000 کی دہائی کے اوائل میں زیدی شیعہ عالم حسین الحوثی کی قیادت میں حوثی تحریک کے عروج کا باعث بنا۔ یہ تحریک، جو باضابطہ طور پر انصاراللہ کے نام سے جانی جاتی ہے، ابتدائی طور پر سعودی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت اور زیدی روایات کے دفاع پر مرکوز تھی، لیکن بتدریج ایک وسیع تر سیاسی اور فوجی قوت میں تبدیل ہو گئی۔
حوثیوں کے مذہبی نظریات
حوثی، جو باضابطہ طور پر انصاراللہ کے نام سے جانے جاتے ہیں، زیدیہ شیعہ اسلام کی پیروی کرتے ہیں، جو اثنا عشری شیعہ سے مختلف ہے۔ اگرچہ وہ ایران کے ساتھ کچھ نظریاتی ہم آہنگی رکھتے ہیں، لیکن ان کے مذہبی نظریات یمن کی منفرد زیدی روایت سے جڑے ہوئے ہیں، نہ کہ تہران کے اثنا عشری شیعہ نظریے سے۔ اثنا عشری شیعوں کے برعکس، زیدی شیعہ پہلے تین خلفاء، ابوبکر، عمر، اور عثمان کو جائز خلیفہ سمجھتے ہیں۔ زیدیز کے امام، شیعہ مسلمانوں کے چوتھے امام، امام زین العابدین کے بیٹے زید کی اولاد ہیں جنھوں نے بنو امیہ کے خلاف خروج کیا تھا اور مارے گئے تھے۔ اکسیویں صدی کے زیدی اپنے فرقے کی نشاۃ ثانیہ کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور وہابی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔
2004 میں، سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے حوثیوں، انصاراللہ، پر کریک ڈاؤن کیا اور ان کے رہنما حسین الحوثی کو ہلاک کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک بڑی بغاوت پھوٹ پڑی جو جلد ہی نئی خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی۔ 2009 تک، سعودی عرب نے براہ راست مداخلت کرتے ہوئے حوثی پوزیشنوں پر فضائی حملے کیے۔ تاہم، یہ مداخلت مہنگی اور غیر موثر ثابت ہوئی، جس نے حوثیوں کے عزم کو مزید مضبوط کیا اور اُن کے حوصلے بڑھ گئے۔
“عرب بہار” اور حوثیوں کا اقتدار پر قبضہ (2011-2014)
2011 کے “عرب بہار” کے احتجاج نے یمن میں نئی بے چینی پیدا کر دی۔ تیونس کے ایک چھابڑی فروش بوعزیزی کی خودسوزی کے بعد پورے عالم عرب میں حکومتوں کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ یمنیوں نے اُس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کی کرپٹ اور آمرانہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔ ابتدائی طور پر، حوثیوں نے ان پرامن مظاہروں میں حصہ لیا، لیکن جب حکومت نے طاقت کا استعمال کیا، تو احتجاج ایک خانہ جنگی میں بدل گیا۔ علی عبداللہ اللہ صالح کو سعودی حمایت حاصل تھی۔
2014 تک، حوثیوں نے سیاسی عدم استحکام کے بڑھنے کے دوران یمن کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا، جس میں دارالحکومت صنعاء سمیت تمام بڑے شہر شامل تھے، سوائے عدن کے۔ اس تیزی سے پھیلاؤ نے سعودی عرب کو پریشان کر دیا، جس نے حوثیوں کو ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کا پراکسی سمجھا۔ مارچ 2015 میں، سعودی عرب نے عرب ممالک کا اتحاد بنایا اور صدر عبدربہ منصور ہادی کی حکومت کو بحال کرنے کے لیے فوجی مہم شروع کی۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کی حمایت سے کی گئی یہ مداخلت ایک تباہ کن تنازع کا آغاز تھی، جس نے وسیع پیمانے پر یمن میں انسانی المیے کو جنم دیا۔ امریکہ اور سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کو جائز قرار دلوایا۔ اس قرارداد کی چین نے حمایت کی تھی، جبکہ روس نے ووٹ نہیں ڈالا تھا۔
“ایران کی حمایت یافتہ”؟
سعودی اتحاد کی یمن کے حوثیوں پر حملے سے پہلے، “ایران کے حمایت یافتہ حوثی” (Iran-backed Houthis) کی اصطلاح کبھی نہیں سنی گئی تھی۔ یہ اصطلاح 2010 کی دہائی کے وسط میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے یمنی تنازع کو ایران کے ساتھ پراکسی جنگ کے طور پر پیش کرنے کیلئےاستعمال کی گئی۔ اگرچہ ایران کی حوثیوں کو حمایت دینے کے الزامات میں کچھ صداقت ہو سکتی ہے، لیکن یہ اصطلاح اکثر ان مقامی اور تاریخی عوامل کو نظر انداز کر دیتی ہے جنہوں نے حوثیوں کی اس تحریک کو تشکیل دیا ہے۔ 2025 تک، یہ اصطلاح ایک متنازع اور سیاسی مقاصد کیلئےاستعمال کی جاتی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں وسیع تر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔
چین اور روس نے کھل کر حوثیوں کی حمایت تو نہیں کی ہے، لیکن انہوں نے سعودی اتحاد کے یمن پر حملوں پر تنقید کی ہے اور سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک حوثیوں کے اہم اتحادی، ایران کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں اور انہوں نے حوثیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی بعد کی دیگر قراردادوں کو ویٹو بھی کیا ہے۔ سعودی عرب ان اقدامات کو خطے میں حوثی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی اپنی کوششوں کو کمزور کرنے کے طور پر دیکھتا ہے، جو اس کے علاقائی سلامتی کے اہداف اور امن مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
حالیہ پیشرفت اور امن کی کوششیں (2020 کی دہائی)
سعودی اتحاد کی فوجی مداخلت اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور تنازع جلد ہی ایک جمود کا شکار ہو گیا۔ سعودی قیادت والے اس اتحاد میں شامل متحدہ عرب امارات کے سعودی عرب سے یمن کی پالیسی پر اختلافات بڑھ گئے ہیں۔ حوثیوں نے، ناکہ بندی اور مسلسل فضائی حملوں کا سامنا کرتے ہوئے، شمالی یمن پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا اور جدید فوجی صلاحیتیں بھی حاصل کر لی ہیں، جو مبینہ طور پر ایران کی حمایت سے حاصل کی گئیں۔ اس کے جواب میں، اتحادیوں نے حوثیوں کو سفارتی اور معاشی طور پر دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔
2022 تک، سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان خفیہ مذاکرات نے رفتار پکڑ لی، جس میں عمان اور اقوام متحدہ نے ثالثی کی۔ اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک جنگ بندی نے جنگ سے عارضی ریلیف فراہم کیا، لیکن چھوٹی جنگیں جاری رہیں۔ ستمبر 2023 میں، سعودی-یمنی سرحد پر حوثیوں کے حملے میں بحرینی فوجی ہلاک ہو گئے، جس سے موجودہ عدم استحکام جاری رہنے کے خدشات میں اضافہ ہوا۔
اکتوبر 2023 میں، جب حوثیوں نے غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی کے جواب میں بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں اسرائیل سے متعلق جہاز رانی کو روکنے کا اعلان کیا، تو سعودی-یمنی کشیدگی نے ایک نیا موڑ لیا۔ اگرچہ سعودی عرب اس تصادم میں غیر جانبدار رہا، لیکن اس اقدام نے حوثیوں کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ اور عالمی تجارت کو متاثر کرنے کی ان کی صلاحیت کو بڑھا دیا۔ اور جب تمام مسلمان ممالک فلسطینیوں کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے سے گریز کرتے رہے، یمن کے حوثیوں نے اسرائیل کے بحری جہازوں اور اسرائیل پر براہ راست میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کاسلسلہ شروع کیا جو جنگ غزہ میں جنگ بندی تک جاری رہے۔
حوثیوں کے ان حملوں سے اُن کی عالم عرب میں ساکھ اور مقبولیت بہت بڑھ گئی ہے جو ظاہر ہے کہ سعودی عرب کو پسند نہیں ہے جو خود عالم عرب کی قیادت کے دعویدار ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد حوثیوں نے اسرائیل پر حملے کرنے کے عزم کا اظہار کیا جس پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن پر جہنم کے دروازے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئی کئی دنوں تک مسلسل بھاری بمباری کی۔ لیکن اب ردعمل میں حوثیوں نے طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پیری ٹرومن پر چار حملے کیے۔ اس سے قبل بھی حوثیوں نے امریکی نیوی پر قریبی پانیوں میں حملے کیے ہیں۔ یہ پیش رفت خطے کو اور بھی زیادہ غیر مستحکم کر سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال (2025)
20 مارچ 2025 تک، سعودی-حوثی تعلقات میں عدم اعتماد برقرار ہے، حالانکہ جاری مذاکرات کی وجہ سے فوجی تصادم کم ہو گئے ہیں۔ دونوں فریق سلامتی کے خدشات اور سیاسی نمائندگی کو حل کرنے کیلئےبات چیت میں مصروف ہیں، جس میں بین الاقوامی برادری احتیاط کے ساتھ ان کوششوں کی حمایت کر رہی ہے۔ تاہم گہرے شکوک و شبہات اور علاقائی رقابتیں ایک دیرپا امن حاصل کرنے کیلئےاہم رکاوٹیں ہیں۔
سعودی-حوثی تناؤ اس وقت اور بڑھ گیا جب امریکہ، اسرائیل، اور برطانیہ نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہاز رانی پر حوثی حملوں کے جواب میں یمن پر بمباری کی۔ اگرچہ سعودی عرب اپنی جنوبی سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے حوثیوں کے ساتھ امن چاہتا ہے، لیکن بمباری مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ریاض غیر جانبدار رہا، علاقائی استحکام اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن کر رہا ہے۔ یہ تنازع یمن کے جاری بحران میں مقامی تنازعات اور عالمی جغرافیائی سیاست کے پیچیدہ انٹر ایکشن کو ظاہر کرتا ہے۔
سعودی-حوثی ایکویشن میں امریکہ
امریکہ یمن کے حوثیوں کے اسرائیل اور اسرائیل سے منسلک شپنگ پر میزائل اور ڈرون حملوں کو اہم خطرے کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے حوثی اہداف کے خلاف فیصلہ کن فوجی حملوں کی اجازت دی۔ ٹرمپ نے ایران کو ایسے اقدامات جاری رکھنے پر “سخت” نتائج کی دھمکی دی، اور تہران کو حوثی جارحیت کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ یہ موقف امریکہ-ایران تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے اور سعودی-حوثی تعلقات کو مزید خراب کر سکتا ہے، جس سے علاقائی تنازعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یمن: “حملہ آوروں کا قبرستان”
تاریخ گواہ ہے کہ یمن کو رومن حملوں سے لے کر سعودی بمباری تک کوئی طاقت فوجی مہمات کے ذریعے فتح نہ کر سکی۔ یہاں تک کہ یمن کو “حملہ آوروں کا قبرستان” کہا جاتا ہے۔ یمن کا اسلامی حکومت میں انضمام بھی پرامن طریقے سے ہوا، جو مکالمے اور تعلیمات کے ذریعے ممکن ہوا تھا، نہ کہ کسی جنگ کی وجہ سے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے دور میں یمنی قبائل آپ کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد آپ نے علی ابن ابی طالب کو یمن میں اسلام کی تعلیمات پھیلانے کیلئے بھیجا۔ مباہلہ کا واقعہ، جس میں یمن کے قریبی خطے نجران کے عیسائیوں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے درمیان مباحثہ ذالحج 10 ہجری میں ہوا، اور علی ابن ابی طالب کا یمن کا تبلیغی سفر 10 ہجری رمضان ہوا، دونوں
بالترتیب مارچ اور دسمبر، 631 عیسوی کے اہم واقعات ہیں۔
بہرحال، سعودی-حوثی تنازع تاریخی علاقائی تنازعات، نظریاتی اختلافات، اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی اتحادوں کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ حالیہ امن کی کوششیں حل کی امید پیش کرتی ہیں، لیکن یمن اور وسیع تر خطے میں استحکام کا راستہ ابھی غیر یقینی ہے۔اسرائیل غزہ جنگ بندی کے خاتمے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یمن پر حملوں، ایران-اسرائیل کشیدگی یہ سب عوامل سعودی-حوثی کشیدگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

