سعودی عرب میں امریکا کے ساتھ مذاکرات تعمیری انداز میں شروع ہوئے:یوکرین

جدہ(نامہ نگار)سعودی عرب میں جنگ بندی پر جاری بات چیت پر یوکرین نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات تعمیری انداز میں شروع ہوئے، جبکہ روس کے ساتھ جزوی جنگ بندی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔

وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق یوکرین جنگ کے خاتمے پر امریکا اور یوکرین کے درمیان مذاکرات سعودی عرب کے شہر جدہ میں شروع ہو گئے۔

امریکی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ مارکو روبیو جبکہ قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز بھی شریک ہیں، یوکرینی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ آندرے سبیہا کر رہے ہیں۔ملاقات سے قبل میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا تھا کہ یوکرینی وفد روس سے محدود پیمانے پر جنگ بندی کی تجویز دے گا، جو تین سال سے جاری ہے۔

رپورٹ میں ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے حوالے سے بتایا گیا کہ یوکرین کے 2 اعلیٰ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ یوکرینی وفد کی جانب سے امریکی حکام کو ابتدائی طور پر جنگ بندی کی تجویز دی جائے گی، جس میں بحیرۂ اسود اور دور تک مار کرنے والے میزائل حملے روکنے کا معاملہ شامل ہو گا، اس کے علاوہ قیدیوں کے تبادلے کی تجویز بھی دی جائے گی۔

حکام نے بتایا کہ یوکرینی وفد بات چیت کے دوران یوکرین کی معدنیات تک امریکا کی رسائی کے معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے تیار ہے۔جدہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ہونے منگل کو ہونے والے مذاکرات میں یوکرین روس شریک نہیں۔یوکرین کو امید ہے کہ فضائی اور سمندری جزوی جنگ بندی کی پیشکش امریکا کو کیف کے لیے امداد بحال کرنے پر قائل کر لے گی۔

واضح رہے کہ کیف 28 فروری کو اوول آفس میں ملاقات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ولادیمیر زیلنسکی کی تلخی سے ہونے والے نقصان کے ازالے کی کوشش کر رہا ہے۔امریکا نے یوکرین کو روس کے ساتھ جنگ میں فوجی مدد اور انٹیلی جنس کی معاونت فراہم کی ہے، تاہم اب واشنگٹن جنگ بندی کا خواہاں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں