سعودی قیادت میں نیا علاقائی اتحاد،قطر، مصر، ترکیہ سمیت پاکستان بھی شامل

ریاض(ایجنسیاں، اسرائیلی میڈیا)امریکی جریدے فارن پالیسی نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں ایک نیا علاقائی اتحاد ابھر رہا ہے، جس میں قطر، مصر، ترکیہ اور پاکستان بھی شامل ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اس صف بندی سے الگ دکھائی دے رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات نے خلیجی ریاستوں کی برآمدات، معیشت اور سلامتی کے احساس کو متاثر کیا، جس کے بعد خطے میں نئی سفارتی اور تزویراتی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں۔

فارن پالیسی کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے دائرے سے ہٹ کر تشکیل پانے والے اس غیر رسمی گروپ میں سعودی عرب، قطر، مصر، پاکستان اور ترکیہ شامل ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کی عدم شمولیت نمایاں سمجھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نئی صف بندی میں شامل بعض ممالک حالیہ جنگ کے بعد خود کو نسبتاً فائدہ اٹھانے والوں میں شمار کرتے ہیں، جبکہ دیگر ممالک خطے میں اپنے بڑھتے ہوئے سفارتی اور تزویراتی کردار پر مطمئن ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے اس ابھرتے ہوئے اتحاد کو “توسیع پذیر اسلامی نیٹو” قرار دیا ہے، تاہم تاحال اس اتحاد کا کوئی باضابطہ نام یا تنظیمی ڈھانچہ سامنے نہیں آیا۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے عرب ممالک اور ایران کے درمیان علاقائی سربراہی اجلاس کی میزبانی کا بھی فیصلہ کیا ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور نئی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔