نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی نیوز ڈیسک)امریکا نے ایک بار پھر غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کردی۔ یہ سلامتی کونسل میں امریکا کا اس نوعیت کا چھٹا ویٹو ہے، جس سے اسرائیل کیلئے امریکی حمایت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔
“سلامتی کونسل کی کارروائی”
نیوزرپورٹس کے مطابق مطابق جمعرات کو پیش کی گئی قرارداد 15 میں سے 14 اراکین نے منظور کی، تاہم امریکا نے ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ مسودہ قرارداد میں نہ صرف جنگ بندی بلکہ غزہ میں امداد کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ یہ قرارداد سلامتی کونسل کے 10 منتخب اراکین نے تیار کی تھی۔
گزشتہ ہفتے امریکا نے ایک بیان کی حمایت کی تھی جس میں قطر پر حالیہ حملوں کی مذمت کی گئی تھی، تاہم اس بیان میں اسرائیل کا ذکر شامل نہیں تھا۔
“امریکی سیاست اور فلسطینی ریاست کا مطالبہ”
امریکی ڈیموکریٹ سینیٹرز نے ایک علیحدہ قرارداد پیش کی ہے جس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ ایوان میں اس کی منظوری کے امکانات کم ہیں کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے، تاہم یہ قرارداد امریکا پر زور دیتی ہے کہ وہ ایک غیر مسلح فلسطینی ریاست کو محفوظ اسرائیل کے ساتھ تسلیم کرے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر جیف مرکلی نے کہا کہ ’’امریکا کی ذمہ داری ہے کہ قیادت کرے، اور وقت آگیا ہے کہ عمل کیا جائے۔‘‘
“جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس اور پاکستان کا کردار”
اگلے ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس شروع ہوگا جس میں تقریباً 150 سربراہانِ مملکت اور ہزاروں سفارت کار شریک ہوں گے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ اجلاس ’’بہت ہنگامہ خیز اور غیر متوقع حالات‘‘ میں ہو رہا ہے۔ فلسطینی مندوب ریاض منصور کے مطابق ’’فلسطین اس اجلاس کا سب سے بڑا اور مرکزی مسئلہ ہوگا۔‘‘
وزیر اعظم شہباز شریف نہ صرف جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے بلکہ فلسطین کے مسئلے اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے موضوع پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔ پاکستانی وفد عرب اور مسلم رہنماؤں سے قریبی مشاورت کرے گا۔
“پاکستان کی علاقائی اہمیت اور سفارتی سرگرمیاں”
اسلام آباد نے حال ہی میں قطر پر اسرائیلی فضائی حملے کی مذمت کی تھی، جس کے بعد ہونے والی سفارتی سرگرمیوں نے پاکستان کے کردار کو مسلم دنیا میں مزید نمایاں کیا۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ بھی پاکستان کو خطے میں ایک اہم فریق بنا رہا ہے۔
“شہباز-ٹرمپ ملاقات کا امکان”
واشنگٹن میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم شہباز شریف کی طے شدہ ملاقات کا شیڈول غزہ اور قطر کے بحران کے باعث تبدیل ہو سکتا ہے۔ممکنہ طور پر یہ ملاقات نیویارک میں جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک مختصر سائیڈ لائن ملاقات تک محدود رہے، تاہم اسلام آباد وائٹ ہاؤس میں باضابطہ ملاقات کو ترجیح دیتا ہے تاکہ دو طرفہ اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہو سکے۔
اس ملاقات کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شرکت بھی متوقع ہے، جو اس سے قبل صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کر چکے ہیں۔
سلامتی کونسل میں امریکا کے تازہ ترین ویٹو اور جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے باعث غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال عالمی سفارتی منظرنامے پر غالب دکھائی دے رہی ہے، جس کے اثرات پاکستان-امریکا تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

