سوات اور دیامر میں بارشوں سے تباہی، 15 گاڑیاں بہہ گئیں، 8 جاں بحق، 15 لاپتا

گلگت، سوات ( نمائندہ خصوصی)گلگت بلتستان کے ضلع دیامر اور خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں مجموعی طور پر 8 افراد جاں بحق، 4 زخمی اور 15 لاپتا ہو گئے، جبکہ 15 گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق ضلع دیامر کے علاقے تھک بابوسر میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے سیاحوں کی 15 گاڑیاں بہا دیں، جن میں سوار 15 سیاح لاپتا ہو گئے۔ اب تک 3 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 4 زخمیوں کو ریسکیو کر کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والی دو خواتین مشعل فاطمہ اور فہد اسلام کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔ ساہیوال کے سیاحوں سے بھری ایک گاڑی کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

سیلاب کے باعث شاہراہ بابوسر کا 8 کلومیٹر طویل حصہ تباہ جبکہ شاہراہ قراقرم 20 مقامات پر بند ہو چکی ہے۔ ترجمان کے مطابق ریسکیو آپریشن تیز کر دیا گیا ہے جبکہ علاقے کا مواصلاتی نظام درہم برہم اور آپٹک فائبر بریک بھی متاثر ہوئی ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ سیلاب کے باعث ہزاروں سیاح پھنس گئے ہیں، کئی گھروں کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ تاہم حکومت نے شاہراہ بابوسر پر پھنسے سیکڑوں سیاحوں کو کامیابی سے ریسکیو کر لیا ہے اور درجنوں سیاحوں کو مقامی آبادی نے پناہ دی ہے۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

“سوات میں بھی قیامت خیز بارشیں، 5 بچے جاں بحق”

ادھر خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مالم جبہ کے گناجیر سرڈھیرے میں طوفانی بارش کے باعث نالے میں دو بچے، افوان اور محسین اللہ بہہ گئے، جن میں سے ایک بچے افوان کی لاش برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔

سوات کے علاقے گوجر بانڈہ میں بارش کے باعث ایک مکان کی چھت گرنے سے 3 بچے جاں بحق اور ان کی والدہ زخمی ہو گئیں۔ ریسکیو 1122 کی ترجمان شفیقہ گل کے مطابق جاں بحق بچوں میں 11 سالہ مدینہ، 8 سالہ مصطفیٰ اور 4 سالہ موسیٰ شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

“ہری پور میں بھی سیلابی ریلے کا قہر”

خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور کے علاقے غازی بیراج میں 7 بچے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ اس حوالے سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔واضح رہے کہ 27 جون کو بھی دریائے سوات میں طغیانی کے نتیجے میں 75 سے زائد افراد دریا میں بہہ گئے تھے جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ سانحہ سوات کے 21 روز بعد سیالکوٹ کے عبداللہ کی لاش 18 جولائی کو برآمد ہوئی تھی۔

شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں سوات اور دیامر میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے، جبکہ بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکومت نے ریسکیو سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے متاثرین کی مدد کیلئے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں