سوات:اے این پی رہنما کی گاڑی پر بم حملہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

مٹہ کے قریب سڑک کنارے نصب دھماکا خیز مواد پھٹ گیا، گاڑی تباہ، رہنما محفوظ رہے

سوات (نامہ نگار) خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مٹہ میں اے این پی رہنما ممتاز علی خان کی گاڑی کو نشانہ بنانے کیلئے سڑک کنارے نصب بم پھٹ گیا، تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

پولیس کے مطابق ممتاز علی خان ایک جنازے میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے ہی تھے کہ تقریباً 300 فٹ کے فاصلے پر نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا۔دھماکے سے گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا، مگر رہنما اور ان کے ساتھی محفوظ رہے۔

دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔پولیس کے مطابق شرپسندوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ واقعے کی نوعیت اور استعمال شدہ مواد کا تعین بم ڈسپوزل اسکواڈ کر رہا ہے۔

ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا”ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ایک ریموٹ کنٹرول بم تھا جو خاص طور پر ممتاز علی خان کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کیا گیا تھا۔ خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے۔”

ممتاز علی خان کافی عرصے سے مقامی سطح پر ترقیاتی سرگرمیوں میں مصروف تھے، اور کچھ عرصہ قبل انہیں دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات مختلف زاویوں سے کی جا رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ مہینوں میں سوات اور مٹہ کے علاقوں میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔حکام کے مطابق ضلعی امن کمیٹیوں اور سکیورٹی اداروں کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے واقعات کا قبل از وقت تدارک ممکن ہو سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں