سٹی کورٹ میں رجب بٹ پر تشدد، درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج

کراچی(نامہ نگار)کراچی سٹی کورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے واقعے کے بعد ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکلا کو نامزد کیا گیا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ریاض علی سولنگی ہی رجب بٹ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کے مدعی بھی ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب رجب بٹ مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے سٹی کورٹ میں پیش ہوئے۔ بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کا کہنا ہے کہ عدالت کے احاطے میں ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو میں رجب بٹ کو پھٹی ہوئی قمیض میں ہجوم کے درمیان سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مقدمہ رجب بٹ کے وکیل کی درخواست پر درج کیا گیا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 147 (فساد)، 148 (مسلح ہو کر فساد)، 382 (جسمانی نقصان کے بعد چوری)، 506 (مجرمانہ دھمکیاں) اور 337-A (سر اور چہرے پر تشدد) شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق رجب بٹ صبح 9 بجے سٹی کورٹ پہنچے تھے، جہاں ویسٹ بلڈنگ کے قریب اندرونی احاطے میں نامزد وکلا نے ان پر حملہ کر کے تشدد کیا، جس سے وہ زخمی ہو گئے۔ مدعی کے مطابق حملہ آوروں نے وکیل میاں اشفاق اور ان کے ساتھیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

میاں اشفاق کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران رجب بٹ کے بیگ میں موجود تین لاکھ روپے چھین لیے گئے، بعد میں بیگ واپس کر دیا گیا تاہم رقم غائب تھی۔ ان کے مطابق بعد ازاں رجب بٹ کو زبردستی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج سینٹرل کے پاس لے جا کر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

جنوبی زون کے ڈی آئی جی پولیس سید اسد رضا کے مطابق تاحال اس کیس میں کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

دوسری جانب ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ رجب بٹ نے قبل از گرفتاری ضمانت کے بعد ایک ولاگ اپ لوڈ کیا تھا جس میں وکلا کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی، جھگڑے کے بعد انہیں کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا جہاں انہوں نے معافی مانگی۔

اسی روز رجب بٹ کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ وکلا کے ایک گروپ کے ساتھ کراچی بار زندہ باد کے نعرے لگاتے نظر آئے، جبکہ اس موقع پر ٹک ٹاکر ندیم مبارک المعروف نانی والا بھی موجود تھے۔