اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے جج کے بیٹے حنین طارق کے قتل کیس میں سزائے موت پانے والے سکندر لاشاری اور 25 سال قید کے مجرم عرفان عرف فہیم کو بری کر دیا۔ عدالت نے ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔
سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے جج کے بیٹے حنین طارق کے قتل کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کیس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم سکندر لاشاری کو سزائے موت اور شریک ملزم عرفان عرف فہیم کو 25 سال قید کی سزا سنائی تھی، جسے سندھ ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔
ذرائع کے مطابق، سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے مختصر فیصلہ سنایا جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمے میں ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے سزا کو برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا۔
واضح رہے کہ مقتول حنین طارق، سندھ ہائیکورٹ کے جج خالد شاہانی کے بیٹے تھے، جنہیں 2014 میں قتل کیا گیا تھا۔ یہ کیس طویل عرصے سے زیرِ سماعت رہا اور آج عدالتِ عظمیٰ نے ملزمان کو بری کر کے اس کا حتمی فیصلہ سنا دیا۔اس فیصلے کے بعد دونوں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا گیا، جبکہ تفصیلی فیصلہ آئندہ دنوں میں جاری ہوگا جس میں عدالت کی قانونی وجوہات تفصیل سے بیان کی جائیں گی۔

