اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو معزز ججز، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے سویلین شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کر دیا ہے۔
36 صفحات پر مشتمل اختلافی فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتیں صرف مسلح افواج کے ارکان تک محدود ہیں اور ان کا دائرہ اختیار سویلینز تک وسیع کرنا آئین کے بنیادی ڈھانچے، بنیادی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کے صریح خلاف ہے۔
دو رکنی اقلیتی رائے میں کہا گیا کہ پاکستان آرمی ایکٹ ایک خصوصی قانون ہے جو صرف فوجی اہلکاروں پر لاگو ہوتا ہے۔ سویلین شہریوں کے مقدمات سننے کے لیے آئین کے تحت باقاعدہ عدالتیں موجود ہیں، اور یہ عمل عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل اور انسانی حقوق کی ضمانتوں سے متصادم ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل نہ صرف آئین کے آرٹیکل 175 بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
فوجی افسران کو عدالتی تربیت حاصل نہیں ہوتی، اور ان کے ذریعے دی جانے والی سزائیں منصفانہ ٹرائل کے عالمی معیار پر پوری نہیں اترتیں۔
یہ کہنا کہ سویلین عدالتیں دہشت گردی سے نمٹنے میں ناکام رہی ہیں، درست مؤقف نہیں بلکہ غیر مؤثر تفتیش اور سیاسی مقدمات کی بھرمار اصل وجہ ہے۔
معزز ججز نے سویلینز کی سزاؤں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں عام عدالتوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ اختلافی فیصلہ اس تاریخی مقدمے کا اہم باب ہے، جس میں پہلی مرتبہ 1973 کے آئین کی روشنی میں آرمی ایکٹ کی شق 2(1)(d) کو چیلنج کیا گیا تھا۔
7 مئی 2025 کو سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 2 کے مقابلے میں 5 کی اکثریت سے حکومت کی انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو درست قرار دیا تھا۔ اختلافی ججز کا مؤقف آئینی اقدار اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک مضبوط آئینی یادداشت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

