گلاسگو سکاٹ لینڈ (نامہ نگار)سکاٹ لینڈ میں ذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹرز خالد نواب اور ڈاکٹر صدف ریاض نے بچوں کو لاحق ذہنی امراض آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر اور آے ڈی آیچ ڈی بارے آگاہی اور اسکی روک تھام بارے میٹ دا پریس کا انعقاد کیا اور اس بات پر زور دیا کہ والدین کو اپنے بچوں کی نشو نماء کے ساتھ ساتھ تین سال کی عمر سے ہی انکی ذہنی صحت پر بھی توجہ دینی چائیے اور کچھ مخصوص علامات کی صورت میں تشخیص کیلئے ڈاکٹرز سے رجوع کرنا چائیے .
گلاسگو میں سائیکائیٹرسٹ ڈاکٹرز خالد نواب اور ڈاکٹر صدف ریاض نے بچوں کو لاحق ذہنی امراض خصوصا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر سپیکٹرم اور آے ڈی آیچ ڈی ( ADHD) کی روک تھام کیلئے منعقدہ ورکشاپ کے موقع پر میٹ دا پریس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ھوئے کہا کہ برطانیہ اور سکاٹلینڈ میں آباد ایشیائی اور پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بچوں کی کثیر تعداد میں بچے تین سال کی عمر سے ہی ان ذہنی امراض کا شکار ھو جاتے ھیں ، اور بڑے ھو کر بچے ان امراض کی علامات ظاہر کرتے ھیں , والدین کو خاص طور پر ان بچوں کو فوری طور پر ذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹرز سے تشخیص اور علاج کیلئے رجوع کرنا چائیے جو انتہائی شرمیلے ھوں اور دوسروں سے آنکھ ملا کر بات نہ کرتے ھوں اور تنہائی پسند ھوتے ھیں.
انکا کہنا تھا ان علامات کی تشخیص کے بعد مناسب علاج سے ان امراض پر قابو پایا جا سکتا ھے جو آگے چل کر بچوں کی زندگی کو بہتر بنا سکتا ھے ان امراض کے علاج کیلئے آئے روز بہت سی ڈیویلپمنٹس اور ریسرچز ھو رہی ھیں.
ڈاکٹر خالد نواب کا مزید کہنا تھا کہ ایشیائی کمیونیٹی میں ان امراض سے متاثر خاصی تعداد میں ایسے بچے بالغ افراد پائے جاتے ھیں جو مناسب تشخیص اور علاج نہ ھونے کے سبب زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ھیں ۰ لہٰزا ہمیں ایسے افراد کی زندگی میں بہتری کیلئے ڈاکٹرز کے پاس لانا چائیے اور ہماری خدمات انکے علاج کیلئے حاظر ھیں

