سیاست دانوں کا دوہرا معیار اور نہ ختم ہونے والا چکر

اپوزیشن میں واویلا، اقتدار میں خاموشی، یہی پاکستان کی سیاست کا المیہ ہے۔ سیاست دان وہی نظام گلے لگاتے ہیں جس پر کل تنقید کرتے تھے۔

پاکستانی سیاست دانوں نے ایک خاص روش اپنا رکھی ہے۔ جب وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو فوج کی سیاست میں مداخلت، عدلیہ کی سیاسی انجینئرنگ اور میڈیا کے کنٹرول کے خلاف بھرپور آواز بلند کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی اقتدار میں آتے ہیں، انہی طاقتوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ فخر سے کہتے ہیں کہ ’’ہم ایک صفحے پر ہیں‘‘، فوجی سربراہ کو ’’قوم کا باپ‘‘ قرار دیتے ہیں اور ریاستی اداروں کو مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

یہ کوئی نئی کہانی نہیں، بلکہ دہائیوں سے چلتا ہوا ایک سیاسی تسلسل ہے۔ اس کی تازہ اور نمایاں مثال عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی ہے۔

عمران خان کی سیاسی زندگی کئی سالوں تک ناکامیوں سے بھری رہی۔ 1990 کی دہائی میں سیاست میں قدم رکھا، کئی انتخابات لڑے مگر ایک نشست بھی نہ جیت سکے۔ پھر طاقتور حلقوں نے انہیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ایک متبادل کے طور پر تراشنا شروع کیا۔

2010 کی دہائی میں حمید گل، ظہیرالاسلام، احمد شجاع پاشا، قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید جیسے جرنیلوں نے عمران خان کے عروج میں مرکزی کردار ادا کیا۔ عدالتی فیصلوں، میڈیا پر دباؤ اور سیاسی جبر کے ذریعے میدان صاف کیا گیا۔ 2014 کا دھرنا اور 2017 میں نواز شریف کی نااہلی نے اس منصوبے کو مزید تقویت دی۔ 2018 کے انتخابات سے پہلے میڈیا پر پابندیاں، مخالفین پر مقدمات اور ‘الیکٹیبلز’ کو تحریک انصاف میں شامل کرانا اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔

سب سے خطرناک پہلو یہ تھا کہ عمران خان کے گرد ایک ’’کلٹ‘‘ تشکیل دیا گیا۔ منصوبہ بندی کے ساتھ سیاسی کارکنوں کی بجائے ایسا ہجوم پیدا کیا گیا جو سوچنے کے بجائے صرف تالی بجاتا تھا۔ جب عمران خان نے جنرل باجوہ کو ’’قوم کا باپ‘‘ کہا تو تالیاں بجیں، اور جب اسی جنرل کو ’’غدار‘‘ کہا گیا تو پھر تالیاں بجیں۔ یہی رویہ ججوں کے ساتھ بھی اپنایا گیا: فیصلے حق میں ہوں تو ہیرو، اور اگرفیصلے خلاف ہوں تو غدار اور بکاو قرار پاتے ہیں۔

یہی اندھی تقلید پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا زہر ہے۔ سیاسی جماعتوں نے کارکن نہیں، اندھے عقیدت مند پیدا کیے ہیں، ایسے لوگ جو سوال نہیں کرتے، صرف مانتے ہیں۔

اقتدار میں آ کر عمران خان نے اسی ملی جلی حکومت کے نظام کو مضبوط کیا جسے آج وہ برا کہتے ہیں۔ فخر سے اعلان کیا کہ حکومت اور فوج ’’ایک صفحے‘‘ پر ہیں۔ احتساب بیورو اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ مخالفین کے خلاف ہتھیار بنے۔ میڈیا دباؤ میں رکھا گیا اور سماجی رابطوں کی آوازوں کو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت خاموش کیا گیا۔

پھر وہی تاریخ پلٹ کر ان پر آ گئی۔ جب اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بگڑے تو وہی مشینری ان کے خلاف چل پڑی، گرفتاریاں، مقدمات، سنسرشپ اور سیاسی جوڑ توڑ۔ جو طعنے کل دوسروں کو دیتے تھے، آج وہ خود دہرا رہے ہیں۔

کئی تحریک انصاف کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے ساتھ ماضی کے سیاست دانوں سے زیادہ سختی ہو رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اسی نظام کے سہارے اقتدار میں آئے، جسے آج برا کہتے ہیں ، اور اسی نظام کو تقویت بھی دی۔ 2018 کے انتخابات سے قبل جرنیلوں اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ سے مخالفین کو گرفتار کروانا، نااہل کرانا اور انتخابات میں دھونس دھاندلی کو جائز سمجھنا اسی کہانی کا حصہ تھا۔

انتخابات کے بعد جس طرح کسی کو لالچ دے کر اور کسی کا بازو مروڑ کر ایک کٹھ پتلی حکومت بنائی گئی، پھر اپوزیشن رہنماؤں کو جھوٹے اور سنگین مقدمات میں پھنسا کر گرفتار کیا گیا اور عدالتوں میں سالوں تک ضمانتیں نہ سنی گئیں، یہ سب اسی نظام کا تسلسل تھا۔ عمران خان خود مان چکے ہیں کہ بجٹ سے لے کر بلوں تک فوجی افسران نے فیصلے کروائے۔ اُس وقت سب کچھ بالکل قانونی اور آئینی تھا، آج وہی عمل ’’آئین کا قتل‘‘ کہلاتا ہے۔

یہی وہ سیاسی دائرہ ہے جو پاکستان کو جکڑے ہوئے ہے۔ ہر لیڈر اسٹیبلشمنٹ کے سہارے آتا ہے، اسی کے ذریعے حکومت کرتا ہے اور پھر اسی کے ہاتھوں انجام کو پہنچتا ہے۔ عوام ہر بار نئے مسیحا کے نعروں پر تالی بجاتے ہیں اور ہر بار دھوکہ کھاتے ہیں۔

مستحکم جمہوریتوں میں عوام اپنے رہنماؤں سے کارکردگی کا حساب مانگتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور صرف کارکردگی پر ووٹ دیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ لیڈر کتنا “ہینڈسم” ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں شخصیت پرستی اندھی عقیدت میں بدل جاتی ہے، اور آج کی سیاست اس کی زندہ مثال ہے۔

اصل سبق سیاست دانوں کے لیے نہیں، عوام کے لیے ہے۔ کوئی لیڈر مسیحا نہیں ہوتا، کوئی جنرل نجات دہندہ نہیں۔ جمہوریت سوال کرنے سے مضبوط ہوتی ہے، اندھی تقلید سے نہیں۔ عوام اگر اپنی آواز خود نہ بنیں تو کوئی طاقت انہیں آواز نہیں دے گی۔ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو سزا دیتی ہے جو سوال نہیں کرتیں اور ہر بار نئے بت تراش کر ان کی پوجا شروع کر دیتی ہیں۔

تاریخ خود کو دہراتی نہیں، لیکن پاکستان میں یہ حیرت انگیز تیزی سے دہراتی ہے۔ چہرے بدل جاتے ہیں، مگر کھیل وہی رہتا ہے۔ اگر عوام نے سبق نہ سیکھا، تو یہ چکر کبھی نہیں ٹوٹے گا اور ہر نیا “مسیحا” اسی پرانے نظام کو مزید مضبوط کرتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں