سیلاب گزر گیا ،پلوں ،بیراجوں اور ہیڈ ورکس سے ہوتا ہو ابہت سارا پانی سمندر میں پہنچ چکا ہے ، کچھ پانی ابھی تک مختلف علاقوں اور کھیت کھلیانوں میں کھڑا ہے ، اس دوران لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ، ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں اور سینکڑوں اموات واقع ہوئیں، اب ہمارے پاس سیلاب کی صرف داستانیں ہیں ،کچھ اچھی اور کچھ بری ، یقینی طور پر ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھنا ہے تاکہ آئیندہ سالوں میں وہ نہ ہو جواس سال ہوا ہے ۔ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ یہ سپر فلڈ تھا ، شائد ساٹھ سال بعد پنجاب کے تین دریاوں میں ایک ساتھ سیلابی ریلہ آیا،اب ریلیف کا کام جاری ہے اور اس میں کئی ماہ لگ جائیں گے ،زرعی معیشت پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی ،کاشتکار مزید دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرے گا۔سیلاب سے پہلے،سیلاب کے دوران اور اب سیلاب کے بعد کیا حالات تھے اور ہیں ،ان پر سوچ بچار کرنا ہوگی ،سیلاب سے پہلے اور اس کے دوران محکمہ آبپاشی نے محکمہ موسمیات کے ساتھ مل کر وارننگ سسٹم کیلئے قابل تعریف کام کیا ،اپنے سٹرکچرز مضبوط کئے اور سیلابی پانی کی مانیٹرنگ کیلئےلمحہ بہ لمحہ اقدامات اٹھائے ،سیکرٹری آبپاشی واصف خورشید نے سیلاب سے بچاو کیلئے اپنے کنٹرول روم اور فیلڈ میں اس وقت سے کام شروع کر دیا تھا جب سیلابی پانی شروع بھی نہیں ہوا تھا ،ان کا سٹاف بتاتا ہے کہ وہ کئی کئی روز جاگتے رہے مگر مگر اکثر مقامات پر ضلعی انتظامیہ سوئی رہی، ضلعوں کی انتظامیہ اور مقامی ارکان اسمبلی اپنے اپنے مفادات کے تابع کام کرتی رہی،انتظامیہ تھوڑے کام کو زیادہ دکھانے کیلئےٹک ٹاکنگ اور مقامی ارکان اسمبلی اپنے ووٹ کو تحفظ دینے کیلئےمصروف عمل رہے، جس کا جو کام تھا اگر اس پر اسے ہی فیصلے کرنے کا اختیار دیا جاتا تو بہت ساری مشکلات اور پریشانیاں کم ہو سکتی تھیں۔
نیشنل ہائی ویز اتھارٹی یعنی این ایچ اےایک وفاقی محکمہ ہے مگر وزیر اعظم کی ہدایات پر وہ صوبوں کو مکمل معاونت فراہم کر رہا ہے ،این ایچ اے کی ہائی ویز اور موٹر ویز پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں جو اکثر مقامات پر سیلابی پانی کو روکنے کیلئےقدرتی بند کا کردار ادا کرتی ہیں جس سے نقصانات کم ہو جاتے ہیں ، مگر پانی بے قابو ہونے کی صورت میں شہروں اور بڑے سٹرکچر کو بچانے کیلئےبعض اوقات این ایچ اے کے اس قدرتی بند میں شگاف ڈالنا بھی ضروری ہو جاتے ہیں ،جس کیلئےفوری اور ہنگامی فیصلے ضروری ہوتے ہیں ،اس کیلئےمختلف محکموں اور انتظامیہ کے درمیان کوآرڈینیشن ضروری ہوتا ہے ،این ایچ اے کے چئیرمین شہر یار سلطان ماضی میں پنجاب کے سیکرٹری آبپاشی بھی رہے ہیں ،وہ اپنے موجودہ منصب کے تقاضوں کو تو بخوبی سمجھتے ہیں مگر سابق سیکرٹری آبپاشی ہونے کی وجہ سے وہ سیلاب سے نمٹنے کی حکمت عملی بھی جانتے ہیں، بڑے محنتی،نیک نام اور اپ رائٹ افسر ہیں وہ اپنی ٹیم کے سینئر ممبرز عمر سعید چودھری ، متعلقہ انجینرنگ سٹاف اور دوسرے افسروں کے ساتھ جنوبی پنجاب اور سندھ میں کئی ہفتے موجود رہے اور سیلابی حالات کی خود نگرانی کرتے رہے ،انکی محنت اور کارکردگی قابل تعریف رہی، وہ پنجاب کے موجودہ سیکرٹری آبپاشی واصف خورشید کے ساتھ مل کر موقع پر فوری فیصلوں کا حصہ رہے، جس سے سیلابی پانی کے رخ کو موڑنے کیلئےایسے اقدامات اٹھائے گئے جس سے نقصانات کم ہوئے ۔ضلعی انتظامیہ کا کام معاونت اور ریلیف کا تھا مگر ہمارے اکثر ریلف کیمپوں کا حال یہ تھا کہ وہاں پینے کا پانی تک نہ تھا ،اس کی وجہ سے اکثر سرکاری ریلیف کیمپ خالی رہے اور اس کے مقابلے میں ،الخدمت فاونڈیشن ،المصطفیٰ فاونڈیشن اور دوسری این جی او ز کے کیمپوں میں سیلاب زدگان کو پانی،کھانا اور رہنے کو جگہ ملتی رہی ،ضلعی افسران ،سیلاب زدگان کے درد کا داماں بننے کی بجائے وزیر اعلیٰ اور دوسرے حکومتی اکابرین کو خوش کرنے اور انہیں اپنا چہرہ دکھانے میں مصروف رہے پتہ نہیں یہ افسر کل کلاں کو اللہ کو اپنا چہرہ کس طرح دکھائیں گے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ پنجاب پاکستان کا وہ خطہ ہے جسے دریاؤں کا صوبہ کہا جاتا ہے، اس کی زمین کو زرخیزی عطا کرنے والے یہی دریا ہیں، مگر انہی دریاؤں کی طغیانی کبھی کبھی تباہی کا سبب بھی بن جاتی ہے،بارشوں اور پہاڑی ریلوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب ہمیشہ سے پنجاب کیلئےایک بڑا چیلنج رہے ہیں، ایسے حالات میں صوبے کے سب سے اہم اداروں میں سے ایک محکمہ آبپاشی ہے، جو نہ صرف زراعت کے نظام کو چلانے بلکہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے، محکمہ آبپاشی کا بنیادی کردار محض نہروں کے ذریعے پانی کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت ادارہ ہے جس کی کئی اہم ذمہ داریاں ہیں جن میں سر فہرست نہری نظام کی دیکھ بھال ہے ، پنجاب کا نہری نظام دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نظاموں میں سے ایک ہے، اس کی مرمت، صفائی اور بہاؤ کو قابو میں رکھنا محکمہ کی اولین ذمہ داری ہے ،ڈیمز اور بیراجز کی نگرانی بھی اس کا ہی کام ہے ، دریاؤں پر قائم بیراجز اور ڈیمز پانی کے ذخیرے، تقسیم اور کنٹرول کا اہم ذریعہ ہیں ان کی مضبوطی اور بروقت مرمت کے ذریعے محکمہ آبپاشی سیلاب کے خطرات کو کم کرتا ہے۔ سیلابی بند اور حفاظتی پشتے دریاؤں کے کنارے بنائے گئے حفاظتی بند سیلاب کے دوران بستیاں اور کھیت بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان کی مضبوطی اور دیکھ بھال بھی محکمہ آبپاشی کی ذمہ داری ہے۔ زرعی معیشت کی حفاظت پانی کی مناسب فراہمی یقینی بنانا نہ صرف کسانوں بلکہ صوبے کی معیشت کیلئےبھی ضروری ہے، کیونکہ پنجاب کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔
سیلاب ایک قدرتی آفت ہے، مگر جدید منصوبہ بندی اور مضبوط حکمت عملی کے ذریعے اس کے نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے، مستقبل کیلئےمحکمہ آبپاشی کو کئی اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، سب سے پہلے تو فلڈ سیزن کو ریویو ہونا چاہئے،ہر سال مارچ اپریل تک ،بندوں ، حفاظتی پشتوں کی ریپئیراور انسپلشن مکمل ہونی چاہئے،انکی استعداد کار بھی بڑھانی چاہئے،دریاوں کے ساتھ ساتھ فلد پلین ایریاز میں سے انکروچمنٹ ختم ہونی چاہئے،ڈیمز اور ریزروائرز کی تعمیر چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیمز بنا کر بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ زرعی زمینوں کیلئے نئی حکمت عملی بنانا ہو گی اور ایسے علاقوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے جہاں ہر سال سیلاب آتا ہے، ان علاقوں کو خصوصی زرعی پالیسیوں کے تحت استعمال کیا جائے تاکہ نقصان کم ہو، حکومت کو چاہئے کہ محکمہ آبپاشی کے بجٹ میں اضافہ کرے تاکہ یہ ادارہ جدید مشینری، کشتیاں اور ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کر کے مزید بہتر خدمات فراہم کر سکے۔ محکمہ آبپاشی پنجاب نہ صرف زراعت کیلئےریڑھ کی ہڈی ہے بلکہ قدرتی آفات کے مقابلے میں ایک مضبوط ڈھال بھی ہے، حالیہ سیلاب میں اس ادارے نے محدود وسائل کے باوجود بہترین کوششیں کیں اور عوامی جان و مال کو بڑے پیمانے پر نقصان سے بچایا، تاہم مستقبل میں اس ادارے کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر منصوبہ بندی اور مضبوط انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے ۔

