پورے ملک میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے۔ خیبرپختونخوا میں کچھ وقفہ آیا کہ پھر سے بونیر پر آفت ٹوٹ پڑی۔ اب سیلاب پنجاب میں اپنے نشان چھوڑتا ہوا۔ سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج اور کل سکھراور غلام محمد بیراج سے قریباً 8لاکھ کیوسک پانی کا ٹکراؤ اور اخراج ہوگا ملک بھر کے ادارے اور صوبائی حکومتیں اور انتظامیہ پریشان افراد کی مدد میں کوشاں ہیں، سیلاب نے صرف وسیع تر اراضی ہی کو متاثر نہیں کیا بلکہ سینکڑوں دیہات بھی دریا برد ہوئے اور سینکڑوں میں پانی نے داخل ہو کر مکینوں کو بے دخل کر دیا، گھروں میں سکون سے بیٹھے افراد یکایک ہی مہاجر ہو گئے اور اب امداد کے منتظر ہیں، ان حالات میں تاحال کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ فوج اور رینجرز کے جوان بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، کھلے آسمان تلے لوگوں کا بے گھر ہو کر رہنا مشکل تر ہو گیا کہ اکثر علاقوں میں بارش بھی ہوتی ہے۔ ان حالات میں سرکاری سطح پر تو کام ہو ہی رہا ہے تاہم متعدد نجی تنظیمیں بھی کام کررہی ہیں۔ ادارہ منہاج قرآن نے روائتی عالمی محفل میلاد کا مقام اور دن تبدیل کر دیا، یہ عالمی کانفرنس چالیس سال سے مینار پاکستان کے سائے تلے 11،12ربیع الاول کی شب کو ہوتی ہےّ اس بار بھی یہی طے تھا، تاہم سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر منہاج القرآن کے بانی ڈاکٹر طاہر القادری کی ہدایت کے مطابق اس کانفرنس کا مقام اور تاریخ تبدیل کر دی گئی۔ ادارہ کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ اب یہ کانفرنس 5ستمبرکو ایوان اقبال میں ہوگی اور مینار پاکستان پر کانفرنس کے لئے متوقع تمام اخراجات سیلاب زدگان کی امداد کے لئے وقف کر دیئے گئے ہیں۔ اب عوامی سطح پر بھی کچھ حرکت ہوئی اور مخیر حضرات تعاون کررہے ہیں۔
انہی حالات میں گزشتہ روز کی دو مختلف وارداتوں نے پوری قوم کو دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق سریاب روڈ کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی طرف سے جلسہ ہوا، انتظامیہ کی طرف سے حفاظتی انتظام بھی کئے گئے تھے، تاہم جلسے کے اختتام پر اختر مینگل کی گاڑی گزر جانے کے بعد بم دھماکہ ہوا، اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس سے چودہ افراد جاں بحق اور دو درجن کے قریب زخمی ہو گئے۔یہ دھماکہ خودکش تھا۔ دوسری خبر خیبرپختونخوا سے متعلق ہے کہ بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی چوکی کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی گئی جس سے چھ اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ خودکش دھماکہ تھا، ملک دشمن اسے کور بھی دے رہے تھے۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی جوابی کارروائی میں پانچ دہشت گرد مار لئے گئے۔
ان واقعات کے ذکر سے یہ باور کرانا مقصود ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں جب ملکی توجہ سیلاب کی طرف ہے۔ ملک دشمن عناصر باز نہیں آئے اور انہوں نے اس پریشانی کو اپنے اہداف کے لئے استعما ل کیا ہے، کیا اب بھی کوئی ابہام ہے کہ یہ دہشت گرد کون ہیں اور ان کا تعلق کہاں سے ہے۔ پوری قوم ایک طرف تو سیلاب سے نبردآزما ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کے لئے بھی اسی موقع کو آزمایا گیا ہے اس سے تو پھر ثابت ہو گیا کہ یہ پاکستان مخالف حضرات یقینی طور پر بھارت کے ایماء اور اس کی حمائت سے یہ سب کررہے ہیں۔
آیئے ذرا ایک دوسرے پہلو سے غور کرلیں کہ تحریک طالبان پاکستان کا دعویٰ مسلمان ہونے اور شریعت کے نفاذ کا ہے کیا کوئی جواب دے گا کہ اس وقت جب مسلمانوں پر کڑا وقت آیا ہوا ہے، اس وقت بھی دہشت گردی کی کارروائیاں ”اسلامی“ ہیں۔ یہ حضرت بزعم خود ملا عمر کے پیروکار ہیں اور یہ عمل کرکے خود ہی خارجی ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔یہ ماہ مبارک ربیع الاول ہے، اسی مہینے میں پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی دنیا میں آمد ہوئی، بارہ ربیع الاول میں دو روز رہ گئے، پوری دنیا میں میلاد النبیؐ منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی سیلاب کی تباہی کے باوجود تقریبات بھی ہورہی ہیں اور یوم ولادت بڑے پرجوش انداز ہی سے منایاجائے گا، یوں بھی یہ پندرہ سواں پیدائشی سال ہے۔ حکومت نے پورا مہینہ جشن کا اعلان کیا اور انتظامات بھی جاری ہیں، یہ دوسری صورت ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ملک میں دکھ والی صورت حال ہے اس میں تو سب کو مل کر حصہ لینا اور متاثرین کی مدد کرنا چاہیے چہ جائیکہ کہ یہاں دہشت گردی کی جائے، حکومت الرٹ تو ہے تاہم اب ہمارے شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ملی جذبے کا مظاہرہ کریں۔

