سینیٹ اجلاس: 27ویں آئینی ترمیم پر اراکینِ سینیٹ کا اظہارِ خیال

علی ظفر، پرویز رشید، اعظم سواتی، مسرور احسن، محسن عزیز، دنیش کمار اور دیگر سینیٹرز کی تفصیلی تقاریر
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس 27ویں آئینی ترمیم پر اظہارِ خیال کیلئےمنعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز علامہ اقبال کی یومِ پیدائش کے موقع پر اُن کی یاد میں ہوا۔

آج کے اجلاس کا ایجنڈا صرف ایک نکتہ پر مشتمل تھا ،آئینِ پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم پر غور۔ 26 صفحات پر مشتمل یہ بل گزشتہ روز وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ایوانِ بالا میں پیش کیا گیا تھا، جس پر اپوزیشن نے اس کی تیزی اور وسعت پر شدید اعتراضات کیے۔

سینیٹر علی ظفر: “آئین کی بنیاد سے چھیڑ چھاڑ خطرناک ہے”
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین ریاست اور عوام کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس کی اپنی روح ہے، “جب آپ آئین میں تبدیلی کرتے ہیں تو یہ ایسے ہے جیسے کسی عمارت کی بنیاد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کریں۔”

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کی اصل روح بحال ہوئی تھی، لیکن 27ویں ترمیم کے ذریعے آئین کے پانچ بنیادی ستون وفاقیت، پارلیمانی اختیار، بنیادی حقوق، عدلیہ کی آزادی اور سویلین بالادستی کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

“پرویز رشید: “اپوزیشن تصویر کا ایک رخ دکھا رہی ہے””
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے علی ظفر کی تقریر کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے عدلیہ سے متعلق شق پر تو بات کی، مگر باقی ترامیم پر خاموش رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دیگر شقوں سے اتفاق رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا، “کچھ افراد نے ججوں کے لبادے میں سیاسی جماعت کا جھنڈا چھپا رکھا تھا، ہمیں عدالتی نظام میں بہتری لانی ہوگی۔”

پیپلز پارٹی کے مسرور احسن: “پی ٹی آئی الجھن کا شکار ہے”
پیپلز پارٹی کے سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین “الجھن کا شکار ہیں”، انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “آپ پارلیمنٹ میں تو ہیں، مگر بات کسی اور سے کرنے پر آمادہ ہیں۔”انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے رہنماؤں کی قربانیاں دیں اور ہمیشہ جمہوری نظام کے تسلسل کی بات کی۔

سینیٹر اعظم سواتی: “یہ کالا بل ہے، عدلیہ کا جنازہ نکل رہا ہے”
سینیٹر اعظم سواتی نے ترمیم کو “قومی مفاد کے خلاف” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم آئین اور قانون کے ساتھ بڑی زیادتی کر رہے ہیں، عدلیہ اب آزاد نہیں رہ سکے گی۔”انہوں نے کہا کہ “یہ عجلت خطرناک ہے، ایک دن سب کہیں گے کہ بہت بڑی غلطی ہو گئی۔”

سینیٹر محسن عزیز: “اتنی جلدی کیا ہے؟”
پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ آئینی ترمیم جیسے حساس معاملے پر “عجلت مناسب نہیں”، انہوں نے کہا کہ “ہم اداروں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں مگر بلڈوز عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کی تجاویز پر سنجیدگی سے مشاورت کی جائے۔

سینیٹر دنیش کمار: “ایسی ترمیم لائیں کہ غیر مسلم بھی وزیراعظم بن سکیں”
سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ آئینی ترامیم ایسی ہونی چاہئیں جن سے اقلیتوں کو برابری کے حقوق ملیں۔ انہوں نے کہا کہ “میں ہندو ہوں، مگر داتا دربار اور سیہون شریف بھی جاتا ہوں، ہمیں دیوار سے کیوں لگایا جاتا ہے؟”

“قراردادِ اقبال ڈے متفقہ طور پر منظور”
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے اقبال ڈے کی مناسبت سے قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں علامہ اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے “خودی، مساوات اور جہدوجہد کا پیغام دیا۔”

حکومتی موقف: “ترمیم سے پارلیمنٹ مضبوط ہو رہی ہے”
سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ آئینی عدالت میثاقِ جمہوریت کا حصہ تھی، اور ان ترامیم سے عدلیہ نہیں بلکہ پارلیمنٹ مضبوط ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ “منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہونا چاہیے۔”

سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے اپنی نشستوں پر عمران خان کی تصاویر رکھیں، جبکہ ایوان میں شور شرابہ بھی دیکھنے میں آیا۔ اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں