سینیٹ اجلاس: نومنتخب سینیٹرز کی حلف برداری، غیرت کے نام پر قتل پر مذمت کی متفقہ قرارداد منظور

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)سینیٹ آف پاکستان کے اجلاس میں اہم پیش رفت دیکھنے میں آئیں، جہاں نومنتخب سینیٹرز نے حلف اٹھایا، دو قانون سازی بل منظور ہوئے اور بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، جس میں نومنتخب سینیٹرز طلحہ محمود، روبینہ خالد، فیصل جاوید، نورالحق قادری، نیاز احمد، عطاالحق، دلاور خان اور مرزا آفریدی نے باضابطہ طور پر حلف اٹھایا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ڈپٹی چیئرمین پر قواعد سے لاعلمی اور اپوزیشن کی توہین کا الزام عائد کیا۔ جواب میں چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی کہ ایسی شکایات تحریری طور پر جمع کروائی جائیں۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے بلوچستان میں غیرت کے نام پر ایک شادی شدہ جوڑے کے قتل پر سخت مذمت کرتے ہوئے ایوان میں قرارداد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم کو رسم و رواج کی آڑ میں چھپایا نہیں جا سکتا اور قانون کی عملداری ہر شہری پر یکساں ہونی چاہیے۔

سینیٹر فیصل سبزواری نے سوال اٹھایا کہ اگر جرگہ غیرقانونی ہے تو پھر اس کے فیصلے پر قتل کیسے ہوا؟ سینیٹر محسن عزیز اور سینیٹر عبدالشکور نے واقعے کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ریاست کی رٹ اور انصاف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور سزا دینا صرف عدالت کا اختیار ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ 2016 کی قانونی ترمیم کے بعد غیرت کے نام پر قتل میں راضی نامہ ہونے کے باوجود عدالت کی جانب سے عمر قید دینا لازم ہے۔

وزیر مملکت بلال کیانی نے نان فائلرز سے متعلق تفصیلی موقف پیش کیا، جبکہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کے-الیکٹرک کے نرخوں پر بحث کے دوران بتایا کہ نیپرا کے فیصلے پر نظرثانی کی گئی ہے، جس سے قومی خزانے کو ممکنہ طور پر 650 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

سینیٹ نے “تحفظِ مخبران و نگرانی کمیشن بل” اور “پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025” کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔سینیٹ کا آئندہ اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں