ششی تھرور اور بلاول بھٹو زرداری: سفارت کاری کا موازنہ

پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور فوجی تصادم کی فضا پیدا ہوئی۔ اس پس منظر میں دونوں ممالک نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن واضح کرنے اور بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی وفود بیرون ملک روانہ کیے۔ انڈیا نے پانچ سفارتی وفود بھیجے، جبکہ پاکستان کی جانب سے صرف ایک وفد گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا کے ایک وفد اور پاکستان کے اس واحد وفد کو سب سے زیادہ توجہ ملی۔

انڈین وفد کی قیادت کانگریس کے سینئر رہنما اور اقوام متحدہ کے سابق اہلکار ششی تھرور نے کی، جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سنبھالی۔ دونوں نے اپنے ملک کا موقف دنیا کے سامنے رکھنے کی کوشش کی، لیکن ان کی پیشکشوں، انداز بیان، اور سفارتی اثرات کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں نے زیادہ تر اپنے اپنے ملک کی اندرونی سیاسی ضرورتوں کو مدِنظر رکھا۔ گویا دونوں نے اپنے اپنے “نقار خانے” میں اپنی “طُوطی” بجائی۔

دونوں وفود کی سرگرمیوں کو اپنے ملکوں کے میڈیا نے خوب کوریج دی، لیکن امریکی اور بین الاقوامی میڈیا میں ان کی سرگرمیاں خاص جگہ نہ بنا سکیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی نئی یا ٹھوس بات نہ تھی، اور دونوں اپنے اپنے ملک کی انتہا پسند پالیسیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ شاید ششی تھرور کے پاس تجربے کی وجہ سے کچھ کہنا کو تھا، لیکن پاکستانی وفد کے پاس کوئی بیانیہ ہی نہیں تھا جس کا اقرار خود حنا کھر نے کیا۔

ششی تھرور اور “آپریشن سندور”
ششی تھرور کی قیادت والے انڈین وفد نے 3 سے 5 جون 2025 کے دوران واشنگٹن ڈی سی کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کے “آپریشن سندور” کے حوالے سے عالمی برادری کو آگاہ کرنا تھا۔ تھرور نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے “آپریشن سندور” کے نام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نام اس واقعے سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے جس میں ایک خاتون کے سامنے اس کے شوہر کو قتل کیا گیا تھا، اور یہ بھارت کی ثقافتی اور جذباتی وابستگی کی علامت ہے۔

ششی تھرور: تجربہ، حکمتِ عملی اور واضح مؤقف
ششی تھرور نے اپنی سابقہ سفارتی خدمات، خاص طور پر اقوام متحدہ میں اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے انڈیا کا مقدمہ نہایت مہارت سے پیش کیا۔ انھوں نے امریکی حکام اور تھنک ٹینک اداروں سے ملاقاتوں میں انڈیا کی فوجی کارروائی “آپریشن سندور” کو صرف ایک دفاعی ردِعمل نہیں، بلکہ ایک ثقافتی اور سٹریٹیجک پیغام کے طور پر بیان کیا۔ انہوں نے اس حملے کو “سندور کا بدلہ خون” قرار دیا اور متاثرہ خاندانوں کے غم کو جذباتی انداز میں اجاگر کیا۔

تھرور نے ہیلری کلنٹن کا وہ معروف جملہ بھی دہرایا کہ “آپ اپنے صحن میں سانپ پال کر یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ وہ صرف آپ کے پڑوسی کو کاٹے گا”، اور اس کے ذریعے پاکستان پر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مبینہ تعلقات پر تنقید کی۔ ان کی زبان و بیان، توازن اور حکمت عملی نے امریکی پالیسی حلقوں میں کچھ اثر ضرور چھوڑا۔ پاکستان کے پالیسی ساز ادارے اس وہمے میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ دنیا دہشت گردی کے بارے اُن کی باتوں پر یقین کرتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری اور “مشن فار پیس”
پاکستانی وفد، جس کی قیادت سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کی، نے بھی واشنگٹن ڈی سی میں امریکی قانون سازوں سے ملاقاتیں کیں۔ بلاول نے “مشن فار پیس” کے تحت جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے امریکی حمایت طلب کی۔ انہوں نے انڈیا کی جارحانہ پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازعہ نیوکلیئر تصادم کی جانب بڑھ سکتا ہے اور اس کے ساتھ انھوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری: کمزور سفارتکاری، غیر مؤثر پیغام
ششی تھرور کے برعکس بلاول بھٹو زرداری کا وفد کمزور سفارتی تیاری کے ساتھ میدان میں اترا۔ ان کے بیانات میں زیادہ تر روایتی نکتہ نظر دیکھنے کو ملا، مثلاً امریکہ اور چین کے درمیان “پُل” بننے کی باتیں، جنہیں موجودہ عالمی تناظر میں زیادہ پذیرائی نہیں ملی (اور مل بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ پاکستان کی اب وہ حیثیت نہیں ہے جو 1961 میں تھی، اب امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات کے باوجود براہ راست بات چیت کے چینلز موجود ہیں)۔کشمیر سے متعلق ان کے بیانات بین الاقوامی میڈیا یا پالیسی حلقوں میں کوئی خاص توجہ حاصل نہ کر سکے۔ ان کی سفارتی زبان، تیاری اور پیغام میں وہ مہارت نظر نہ آئی جو ایک عالمی سطح کے مؤقف کو تقویت دے سکے۔ اگر اُدھر متنازعہ مسئلہ کشمیر ہے تو اِدھر بلوچستان ہے، جسے کشمیر کے متوازی ایشو خود پاکستان نے بنایا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری ایک جانب پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ جنگ کے تناظر میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال جیسے سنجیدہ خدشات کی نشاندہی کرتے ہیں، تو دوسری جانب انڈین وزیر اعظم مودی کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا “ٹیمو ورژن” (Temu version) قرار دیتے ہیں — جو کہ ایک چینی ایپ کے سستے اور غیر سنجیدہ متبادل کی طرف اشارہ ہے۔ یہ طرزِ کلام اُن کے سوشل میڈیا کے آڈیئنس کے لیے شاید طنز و مزاح کا رنگ رکھتا ہو، لیکن کیا خارجہ پالیسی اور سفارتی بیانیے میں اس طرح کے نازک اور خطرناک موضوع کے ساتھ اس درجے کی غیر سنجیدگی مناسب ہے؟ خاص طور پر اُس وقت جب بات خطے میں ایٹمی جنگ کے خدشات پر ہو۔

المختصر بلاول سفارت کاری میں اپنی پارٹی کی دو تجربہ کار شخصیات—حنا ربانی کھر اور شیری رحمان—کی نگرانی میں کام کرتے ہوئے نظر آئے، جس سے ان کا دورہ زیادہ تر ایک “اپرینٹس” کی تربیتی مشق محسوس ہوا، نہ کہ کسی مؤثر سفارتی مہم کا حصہ۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک موقع ضائع ہونے کے مترادف تھی۔ لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بلاول کی جگہ اور کسے امریکہ بھیجتی! اسحاق ڈار یا خواجہ آصف کو! دونوں ہی ڈپلومیٹک پریزنٹیشن کے لحاظ سے ڈزاسٹر ہیں، پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی یا رؤف حسن تو ناقابل قبول ہیں! یہ بھی سوال بنتا ہے: کیا اس نازک موقع پر شیری رحمٰن یا حنا ربانی کھر کو وفد کی قیادت نہیں سونپی جا سکتی تھی؟ دونوں سفارت کاری میں سنجیدگی اور وقار کی علامت ہیں۔ جب خطے میں ایٹمی خطرات جیسے سنگین خدشات ہوں، تو ایسی شخصیات کی ضرورت ہوتی ہے جو جذباتی نعروں کے بجائے عالمی سطح پر سنجیدہ پیغام دے سکیں۔ یا “ماچوازم” مانع رہے؟

جمہوری نمائندگی کا پہلو
انڈیا نے ششی تھرور جیسے اپوزیشن لیڈر کو نمائندگی دے کر نہ صرف اپنی جمہوری طاقت کا مظاہرہ کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ انڈیا میں سیاسی اختلاف کے باوجود خارجہ پالیسی پر ایک متحدہ مؤقف ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے اپنی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت، پی ٹی آئی، کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ عمران خان جیل میں ہیں اور وفد میں ان کی جماعت کا کوئی نمائندہ شامل نہ تھا۔ اس سے پاکستانی وفد کی قومی نمائندگی پر سوالات اٹھے۔ پیپلز پارٹی اپنے آپ کو حکومت کا حصہ نہیں مانتی ہے ہے لیکن آصف زرداری ن لیگ یا اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے صدر منتخب ہوئے۔

سبق: تجربہ، حکمتِ عملی اور جمہوریت
اگرچہ ششی تھرور بھی نریندر مودی کی انتہا پسند “ہندوتوا” پالیسیوں کے بوجھ تلے تھے، مگر ان کی سفارتکاری نے انڈیا کے مؤقف کو بین الاقوامی طور پر بہتر انداز میں پیش کیا۔ اس کے برعکس بلاول بھٹو، جو فوج کے زیرِ اثر دھاندلی کی شہرت پانے والے الیکشنز کے نتیجے میں بننے والی حکومت کا حصہ ہیں، اپنی سفارتی کوششوں کو مؤثر نہ بنا سکے۔ بہرحال دونوں واپسی پر اپنے نقار خانوں میں اپنی کامیابیوں کا طوطی بجاتے رہیں گے اور اُن کے حامی تعریفوں کے پُل تعمیر کرتے رہیں گے۔

پاکستان کو اپنی بین الاقوامی سفارتکاری میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو اسے تین بنیادی پہلوؤں پر کام کرنا ہوگا: قومی جمہوری نمائندگی، تجربہ کار اور باصلاحیت قیادت اور واضح اور مؤثر پیغام۔ جب تک پاکستان میں اندرونی طور پر سیاسی استحکام پیدا نہیں ہو گا اور جمہوریت پروان نہیں چڑھے گی، تب تک اس کی بین الاقوامی سفارتکاری کمزور ہی رہے گی۔

آخری نکتہ
بین الاقوامی سطح پر مؤثر سفارتکاری صرف وفود بھیجنے یا دورے کرنے سے نہیں چلتی—یہ ایک جامع داخلی استحکام، سیاسی ہم آہنگی، اور ایک واضح قومی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے۔ اور انڈیا کو اپنے بیانیہ پیش کرنے کے لیے صرف اچھے پیش کار ہی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انتہا پسندی کو لگام ڈالنے کی بھی ضرورت ہے اگر وہ واقعی چاہتا ہے کہ دنیا پہلگام جیسے واقعات پر انڈین عوام کا ساتھ دے۔ جنگجویانہ بیانیہ کبھی بھی ہمدردی پیدا نہیں کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں