شعبان المعظم، حضرت علامہ ابوالحسنات کی یاد بھی لے آتا ہے!

ہمارے کرنل غلامی جیلانی،بڑے محترم، بہت ہی پڑھنے والے حقیقی (میرے نزدیک) دانشور ہیں، وہ دینی حوالے سے بھی کافی عبور رکھتے اور قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر سے بھی مستفید ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک کالم میں روح اور جِن کے حوالے سے بات کی تھی، جو میرے بھی دل کی بات ہے، عرصہ ہوا، جب میں نے پڑھا کہ امریکہ میں شعبہ طب میں تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ روح کیا ہے کوشش کی اور ناکام ہوئے۔ تحریر میں بتایا گیا تھا کہ ان حضرات نے ایک شیشے کا مضبوط تر تابوت تیار کیا اور اس میں ایک قریب المرگ مریض کو بند کر دیا اور ملاحظہ کے لئے آلات لگا کر بیٹھ گئے اور پھر یوں ہوا کہ یکایک اس شیشے کے بکس سے تڑک کی آواز آئی اور محبوس شخص مردہ ہو گیا جبکہ اوپر والے شیشے کا ایک حصہ کریک ہو چکا تھا یوں یہ کوشش ناکام ہوئی، اللہ جل شان نے خود اپنی کتاب میں فرمایا کہ اے رسولؐ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ روح کیا ہے تو بتا دو یہ حکم ربی ہے۔ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کائنات کے اور بہت سے راز ہیں ان میں یہ سب سے بڑا ہے اور روح حکم ربی ہے کہ جب وہ چاہے واپس بلا لیتا ہے۔

اسی طرح جِن کا مسئلہ ہے جس کی تصدیق قرآن شریف نے کی، حتیٰ کہ سورۃ رحمن میں بتایا کہ جِنوں کو آگ سے پیدا کیا گیا اور یوں یہ نظر نہ آنے والی ناری مخلوق ہیں جبکہ انسان کا وجود مٹی سے بنا کر اس میں روح پھونکی گئی اور اس کا ذکر بھی اسی متبرک سورۃ رحمن میں ہے جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سورج اور چاند ایک مقررہ حساب سے گھومتے ہیں، مجھے یہ سب اس لئے یاد آ گیا کہ گزشتہ شام شعبان المعظم کے مقدس مہینے کا آغاز ہو گیا اور پہلی شعبان ہے، جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، آج (ہفتہ) جب قارئین یہ سطور پڑھیں گے تو شعبان کا ایک روز مزید بڑھ چکا اور 2شعبان المعظم ہے جو میرے لئے بہت ہی اہم ہے۔ ایک تو یہ ماہ مقدس یوں بھی برکت والا ہے کہ اس کے بعد رمضان المبارک شروع ہو گا، اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعاہے کہ صحت و تندرستی کے ساتھ اس بار بھی اس بدنی، جسمانی، روحانی عبادت کی مکمل توفیق عنایت فرمائے۔ میں نے شعبان کا ذکر کیا تو 2شعبان میری یادداشت میں پوری طرح محفوظ ہے کہ یہ میرے بزرگ اور رہنما حضرت علامہ ابوالحسناتؒ سید محمد احمد قادری کا یوم وفات ہے اور اپنے پیچھے اتنی اچھی روایات اور یادداشتیں چھوڑ گئے کہ بھولے بھی نہ بھول سکیں وہ حقیقی عالم بہ عمل تھے کہ ان کی ساری زندگی تبلیغ دین اور خدمت مخلوق میں گزری۔

میں نے روح اور جِن کی حوالے سے جو بات شروع کی اس کا ان کی ذات سے بھی بہت تعلق ہے کہ روح کی حوالے سے ان کے وعظ سننے اور محفوظ کرنے والے تھے۔ میں نے ذکرکیا کہ قرآن میں واضح ہے کہ روح حکم ربی ہے، علامہ ابوالحسنات اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکیزگی کا ذکر کرتے تھے اور ہمیشہ کہتے تھے کہ روح تو پاک ہے، جب اللہ کا حکم ہو اور انسانی جسم میں داخل ہو تو یہ پاکیزہ ہی ہوتی ہے اور اسی طرح واپس بھی چلی جاتی ہے لیکن انسانی نفس گمراہ ہوتا ہے اور پھر ہر دور میں یہ روح جس خاندان میں بیدار ہو اور اس کا جس بھی مذہب سے تعلق ہو، یہ بھی اس خاکی جسم کے ساتھ اسے قبول کرکے پنجرے کے قیدی کی طرح گھومتی، پھرتی اور پھڑپھڑاتی رہتی ہے، لیکن ہدائت کا بھی ایک اپنا اصول و پیمانہ ہے جب یہ روح ہدائت قبول کرتی ہے تو سب زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں اور انسان کی ہیئت تبدیل ہو جاتی ہے۔ یوں بڑے بڑے سخت گیر اور روح پر قابض لوگ بھی کبھی کبھی پنجرہ توڑ کر راہ راست اختیار کرلیتے ہیں۔حضرت جب یہ ذکر چھیڑتے تو پھر روانی میں بہتے۔

جس دوسرے حوالے کا ذکر کیا تو میرے لئے حیرت کے ساتھ ساتھ دلچسپی کا بھی رہا کہ ہم جب بچپن میں حضرت صاحب کی رہائش کے سامنے کھلی جگہ کھیلتے تو ہمارے ماں باپ ہمیں علامہ ابوالحسنات کے گھر جانے سے یہ کہہ کر منع کرتے کہ گھر ”بھاری“ ہے۔ بھاری سے مراد ان کی تو شاید یہی تھی کہ یہاں جِن بھوت ہیں، لیکن ہم لڑکوں کو کبھی فکر نہیں ہوتی تھی۔ ہم اس گھر کی چھت پر پتنگ لوٹنے چلے جاتے اور پھر حضرت کے یونانی طبی کلینک والے حصے میں جانے والے گیند کے لئے بھی ادھر چلے جاتے، انہوں نے اورنہ ہی ان کے صاحبزادے امین الحسنات خلیل احمد قادری نے کبھی غصہ فرمایا اور نہ ہمیں ڈانٹا، ان کا یہی پیار، شفقت اور اخلاص تھا کہ ہم میں سے زیادہ لڑکے نماز جمعہ کے علاوہ دینی تقریبات میں شرکت کے لئے بھی جامع مسجد وزیر خان چلے جاتے تھے۔ جہاں حضرت علامہ ابوالحسنات خطیب تھے اور وعظ فرماتے تھے، حضرت صاحب نہ صرف نماز جمعہ اور عیدین کے خطبے دیتے بلکہ ہر روز نماز فجر مسجد جا کر ادا کرتے اور نماز فجر کے بعد کم از کم ایک گھنٹہ ضرور وعظ فرماتے جو قرآن حکیم کی تفسیر پر مشتمل ہوتا، وہ اپنے نظریات کے پکے تھے لیکن کبھی بھی مسلکی اختلاف میں نہیں پڑے اور یہ انہی کی شان تھی کہ یکم محرم سے 10محرم تک اپنے گھر کی بالکونی میں بیٹھ کر واقعات کربلا تاریخ اور احادیث کے حوالی سے بیان کرتے، گلی کے باہر بجلی کے کھمبے پر لاؤڈ سپیکر نصب ہوتا تھا، اکبری منڈی کا یہ راستہ محلہ شیعان کی گزرگاہ اور نثار حویلی جانے کے لئے یہیں سے ہو کر جانا ہوتا تھا، چنانچہ مظفر علی قزلباش اور حافظ کفائت حسین جیسے معتبر حضرات یہاں تھوڑی دیر رک کر ذکر سن کر آگے جاتے تھے۔ میں نے جِن کا ذکر کیا تو حضرت ابوالحسنات سے موسوم واقعات بھی سن لیں، ہر روز نماز فجر کے وعظ کے بعد وہ مسجد کے حجرے میں آکر بیٹھتے اور لوگوں سے ملاقات اور ان کے سوالات کے جواب دیتے، پھر اس کے بعد ایک گھنٹے کا وقت ایساہوتا کہ حجرہ بند ہو جاتا اور علامہ صاحب اندر اکیلے رہ جاتے، تصور یہ تھا کہ وہ آرام فرماتے ہیں لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ وقت بھی درس قرآن کے لئے مختص تھا اور اس عرصہ میں جِن حضرات آکر تعلیم حاصل کرتے تھے، یہ بات انہوں نے خود کبھی نہ بتائی لیکن ان کے صاحبزادے امین الحسنات خلیل احمد قادری سے دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے دریافت کرلی تھی۔ خلیل صاحب نے یہ بھی بتایا کہ نماز عصر کے بعد حضرت علامہ ابوالحسنات اپنے گھر کی پہلی منزل کے بڑے کمرے میں محفل جماتے جو دوستوں کی تھی۔ اس میں خصوصی طورپر بابو سراج کمبوہ ضرور شریک ہوتے اور یہاں پر مزاح گفتگو بھی ہوتی تھی۔ خلیل صاحب کے بقول کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ محفل کے دوران حضرت اجازت لے کر بڑے کمرے کے ایک طرف تشریف لے جاتے اور کچھ دیر وہاں ٹھہر کر واپس آتے، اس وقت کوئی نہ کوئی جِن ان سے کسی مسئلہ کی تفسیر کے لئے اجازت لے کر آ جاتا تھا، سو دوستو! میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ غلام جیلانی خان صاحب درست فرماتے ہیں کہ جِن کا وجود بھی ہے لیکن ہم سے اوجھل ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں