شفقت علی کاحکومتی اقدامات، معیشت، دفاع اور سی پی پی سے متعلق تفصیلی مؤقف

برامپٹن(اشرف خان لودھی سے) چنگواکوسی پارک سے رکنِ پارلیمنٹ اورصدر ٹریژری بورڈ شفقت علی نے میڈیا راؤنڈٹیبل کی میزبانی کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور خاص طور پر میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جو کینیڈین عوام کو درست معلومات فراہم کرنے، انہیں باخبر رکھنے اور اپڈیٹ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ جاتی دفتر اور اوٹاوا میں موجود ٹیم کی معاونت کے بغیر وہ کینیڈین عوام کیلئے اپنی خدمات انجام نہیں دے سکتے۔

شفقت علی نے کہا کہ یہ تقریب 2025 کے اختتام سے قبل نئی حکومت کی پیش رفت اور بطور رکنِ پارلیمنٹ اور صدر ٹریژری بورڈ اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھنے کیلئےمنعقد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں متعدد چیلنجز اور نئی حقیقتیں سامنے آئیں، تاہم وزیرِ اعظم مارک کارنی کی قیادت میں حکومت نے ان چیلنجز کو قبول کیا اور نہ صرف ان بحرانوں سے نمٹا بلکہ کینیڈین عوام کیلئے نئے مواقع بھی تلاش کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت نے فیصلہ کن اور جرات مندانہ اقدامات کیے تاکہ جی سیون میں سب سے مضبوط معیشت بنائی جا سکے اور کینیڈا کو مضبوط کیا جا سکےاور یہی وہ مینڈیٹ ہے جو کینیڈین عوام نے حکومت کو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا پہلا بڑا اقدام کنزیومر کاربن ٹیکس کا خاتمہ تھا جو کینیڈین عوام میں تقسیم کا باعث بن رہا تھا، جس کے نتیجے میں فی لیٹر تقریباً 20 سینٹ کی بچت ہوئی اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ 22 ملین کینیڈینز کیلئےٹیکس میں کمی کی گئی، جس سے چار افراد پر مشتمل خاندان کو 840 ڈالر تک کی بچت ہوئی۔

شفقت علی نے کہا کہ حکومت نے چائلڈ بینیفٹ میں اضافہ کیا، ہاؤسنگ پر جی ایس ٹی اور ایچ ایس ٹی میں چھوٹ دی اور میجر پراجیکٹس آفس کا قیام عمل میں لایا تاکہ انفراسٹرکچر، ہاؤسنگ اور بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے آپریشنل بجٹ کو متوازن کرنے کیلئے جامع اخراجاتی جائزہ بھی شروع کیا تاکہ کم خرچ کیا جائے اور کینیڈین آرمڈ فورسز، انفراسٹرکچر، ہاؤسنگ اور انرجی سیکٹر جیسے اہم شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈین عوام نے حکومت کو سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ کا مینڈیٹ دیا، جس کے تحت کینیڈین آرمڈ فورسز کیلئےتاریخی اقدامات کیے گئے۔ مسلح افواج کیلئے 9 ارب ڈالر کا اضافہ اور 20 فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا جو تاریخ کا سب سے بڑا تنخواہ میں اضافہ ہے تاکہ افواج کو بہتر آلات اور تربیت فراہم کی جا سکے۔

شفقت علی نے کہا کہ بدلتی عالمی تجارتی صورتحال کے پیش نظر تجارت کو متنوع بنانا ضروری تھا، جس کے تحت جی سیون کے تمام ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ 70 ارب ڈالر کا تاریخی تجارتی معاہدہ طے پایا، جبکہ انڈونیشیا اور فلپائنز کے ساتھ بھی تجارتی معاہدے کیے گئے تاکہ کسی ایک تجارتی شراکت دار پر انحصار کم کیا جا سکے اور انحصار سے مضبوطی کی جانب بڑھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ انرجی سیکٹر میں صوبہ البرٹا کے ساتھ تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات بھی کیے گئے، جس سے کینیڈا کو انرجی سیکٹر میں ایک سپر پاور بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈینٹل کیئر اور فارما کیئر میں بھی توسیع کی گئی تاکہ کینیڈین عوام کو افورڈیبلٹی کے مسائل میں سہولت دی جا سکے اور کینیڈین اداروں پر بین الاقوامی اعتماد کو مضبوط کیا جا سکے۔

سی پی پی سے متعلق سوال کے جواب میں شفقت علی نے کہا کہ کینیڈا پینشن پلان مکمل طور پر مستحکم حالت میں ہے اور اس سے متعلق واضح قوانین اور ضوابط موجود ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر پینشن فنڈ میں 125 فیصد سے زائد سرپلس ہو تو قانون کے مطابق اسے کنسولیڈیٹڈ ریونیو فنڈ میں منتقل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس سال 0.9 ارب ڈالر یعنی 900 ملین ڈالر سرپلس ہونے پر قوانین کے مطابق کنسولیڈیٹڈ ریونیو فنڈ میں منتقل کیے گئے، جو مکمل طور پر قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہو سکتی ہیں، تاہم ٹریژری بورڈ ایک مرکزی ادارہ ہے جو پورے حکومتی نظام میں قواعد و ضوابط کے نفاذ اور نگرانی کا ذمہ دار ہے اور حکومت ان قوانین کی پابند ہے۔ آخر میں شفقت علی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔