شق 37AA کالا قانون قبول نہیں: لاہور چیمبر و صنعت و تجارت تنظیموں کا اعلان

لاہور (کامرس رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ملک کی مختلف تجارتی و صنعتی تنظیموں نے وفاقی بجٹ میں شامل شق 37AA کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ان تنظیموں نے متفقہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یہ شق کاروباری برادری کیلئے ناقابل قبول ہے اور اس کا ہر فورم پر سختی سے مقابلہ کیا جائیگا۔

یہ اعلان لاہور چیمبر میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس سے صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد، نائب صدر شاہد نذیر چودھری، سابق صدور میاں انجم نثار، محمد علی میاں اور دیگر نامور تجارتی و صنعتی رہنماؤں نے خطاب کیا۔

صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد نے کہا کہ”شق 37AA ٹیکس حکام کو محض شک کی بنیاد پر کسی بھی ٹیکس دہندہ کو گرفتار کرنے کا اختیار دے دیتی ہے، چاہے اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو۔ یہ شق کاروباری برادری کے سر پر لٹکتی تلوار ہے اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس قوانین میں پہلے ہی ٹیکس فراڈ کی تعریف کو غیر معمولی حد تک وسیع کر دیا گیا ہے، جس کے باعث معمولی اکاؤنٹنگ غلطی بھی سنگین جرم کے زمرے میں آتی ہے۔

انہوں نے حکمرانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ 40سالوں سے بیٹھے ہیں.بیوروکریسی کھاگئی ہے اس ملک کہ آپ لوگوں کاکوئی ایک کامیاب پراجیکٹ ہے توبتائیں.سٹیل مل،پی آئی اے،پاکستان ریلوے کوئی ایک کامیاب پراجیکٹ ہے آپ کا جواب ہے کہ نہیں.

مقررین نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر شق 37AA کو بجٹ سے نکال دے اور کاروباری طبقے کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس شق کو واپس نہ لیا گیا تو ملک بھر میں کاروباری برادری احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

تجارتی نمائندگان نے واضح کیا کہ پاکستان کی معیشت پہلے ہی بے یقینی، ٹیکسوں کے بوجھ اور سرمایہ کاری کے فقدان جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں کاروباری طبقے کو مزید خوف و ہراس میں مبتلا کرنا کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں