شکریہ صدر زرداری۔۔ کراچی والو مبارک ہو

پیپلز پارٹی نے جنرل پرویز مشرف ”رجیم“ کے خاتمے کے بعد سندھ میں اپنی حکومت قائم کی اور اب تک سندھ پر پیپلز پارٹی ہی حکمران چلی آ رہی ہے. ویسے تو پیپلز پارٹی 1971ء میں سندھ پر حکمران بنی اور”مختصر وقفوں“ کے علاوہ پیپلز پارٹی ہی سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے، مگر اسے ”کراچی کا کنٹرول“ سونپا نہیں گیا اسے جنرل ضیاء الحق کے دور میں کراچی میں پہلے جماعت اسلامی اور پھر ایم کیو ایم کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی۔ ”لبرل ڈکٹیٹر“ جنرل مشرف کے دور میں بھی جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کو ہی موقع ملا لیکن اب 18 سال سے پیپلز پارٹی نے اندرون سندھ کے ساتھ ساتھ کراچی کو بھی اپنے ”پروں کے نیچے“ سمیٹا ہوا ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ کراچی سے ملنے والے انڈے کراچی کے شہریوں کو کھانے نصیب نہیں ہو رہے۔ کراچی کے شہری بار بار اس حوالے سے صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں لیکن ”نقار خانے میں طوطی“ کی آواز کوئی نہیں سن رہا۔

کراچی کبھی پیپلز پارٹی کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا لیکن جب سے پیپلز پارٹی کا ”اقتدار سندھ تک محدود“ ہوا ہے تو اسے سندھ پر حکمرانی کے لئے کراچی کی اہمیت کا اندازہ ہوچکا ہے،ویسے تو سندھ پر حکمرانی کے لئے اندرون سندھ کی سیٹیں کافی ہیں لیکن کراچی کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جا سکتی،اسی اہمیت کے پیش نظر پیپلز پارٹی نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا ایک ”کھیل کھیلا“ اور جب اسے کراچی میں میئر شپ کے لئے اکثریت نہیں ملی تو قیدی نمبر 804 کے بلدیاتی نمائندوں کو ”فارم 47“ دکھا کر ڈرایا گیا اور بلدیاتی نمائندے ”جان، مال اور عزت بچانے“ کے لئے حکومتی سیٹوں پر جا بیٹھے۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کا میئر تو بن گیا، لیکن سندھ حکومت کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کو اختیارات دینے کو تیار نہیں ہے،چنانچہ تمام اختیارات صوبائی حکومت تک محدود کر دیے گئے ہیں۔تین کروڑ آبادی والی میٹروپولیٹن کارپوریشن بغیر دانتوں والا شیر ہے اور اس شیر کو کسی کو ڈرانے کے لئے بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی میں سارا اختیار وزیراعلی سید مراد علی شاہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس اختیار کو جیسے چاہے استعمال کرتے ہیں۔ کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، شہر کے ہر گلی، محلے اور مرکزی شاہراہوں پر بکھرا کوڑا، ابلتے گٹر، سیوریج کے غائب ڈھکن، کھلے گندے نالے، بے ہنگم ٹریفک، ٹینکر مافیا سے مہنگا پانی خریدنے کی مجبوری وہ مسائل ہیں جو ختم ہونے میں نہیں آرہے، رہی سہی کسر کراچی کی سڑکوں پر دن رات دوڑتے ٹرالر،ڈمپر، ٹرک اور ہیوی ڈیوٹی گاڑیاں پوری کر دیتی ہیں۔ گزشتہ سال ٹریفک حادثات میں 830 افراد مارے گئے تھے۔

رواں سال صرف جنوری میں 80 افراد ٹریفک حادثات میں مارے گئے۔ جن میں سے 21 افراد ٹرالر، ڈمپر اور بڑی گاڑیوں کے نیچے کچلے گئے۔ جنوری میں 80 افراد تو حادثات کی نظر ہوئے جبکہ تین خواتین سمیت 32 افراد فائرنگ میں مارے گئے۔ کچرے کے ڈھیروں سے ایک نوزائیدہ بچی سمیت چار بچوں کی لاشیں ملیں۔ ایک معصوم بچی، چار عورتوں سمیت 12 افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملیں۔ جبکہ تین عورتوں سمیت 12 افراد کی پھندا لگی لاشیں بھی ملیں۔ ایک عورت سمیت تین افراد ٹرین کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے۔

فروری کے پہلے ہی ہفتے میں مزید 14 افراد ٹریفک حادثات کی نظر ہوئے اور پھر فروری کے آخر میں سپر ہائی وے پر مسافروں سے بھری بس آئل ٹینکر سے جا ٹکرائی اور 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ دیگر حادثات ان کے علاوہ ہیں جن میں دو سے چار افراد روزانہ دنیا چھوڑ جاتے ہیں۔ فائرنگ اور ڈکیتی کے واقعات اس پر مستزاد ہیں۔

ان معاملات نے بالآخر پیپلز پارٹی کے ”روحانی سربراہ“ اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو مجبور کر دیا کہ وہ ان حالات کا نوٹس لیں۔ صدر صاحب نے کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،ان کی کابینہ کے وزراء، مشیران، کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب اور دیگر ”ذمہ داران“ موجود تھے۔ اجلاس کی اندرونی اطلاعات کے مطابق صدرِ مملکت کراچی کے حالات سے انتہائی ناخوش اور ”ذمہ داروں“ سے سخت ناراض ہیں جس کی وجہ سے سندھ حکومت میں کھلبلی مچ گئی ہے کہ صدرِ مملکت نے سندھ حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کو جھٹلا دیا اور سوال کیا کہ جو انڈر پاس اسلام آباد میں صرف تین ماہ میں مکمل ہو جاتا ہے وہ کراچی میں ایک سال میں بھی کیوں تکمیل نہیں پاتا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ ان کی کابینہ اور میئر کراچی سے سوال کیا کہ کراچی کی سڑکیں لاہور اور اسلام آباد کی طرح صاف اور ہموار کیوں نہیں ہیں انہیں بھی لاہور اور کراچی کی طرح صاف اور ہموار ہونا چاہئے۔ انہوں نے سندھ کے ذمہ داران کو وارننگ بھی دی کہ سڑکوں اور کراچی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کریں کیونکہ اب مزید نا اہلی برداشت نہیں کی جائے گی۔ صدرِ مملکت نے سندھ کے ذمہ داران کو یہ مشورہ دیا کہ اگر انہیں کام نہیں آتا اور وہ سیکھنا چاہتے ہیں تو وہ وزیر داخلہ سید محسن نقوی سے رابطہ کریں، ان سے سیکھیں۔ صدر زرداری نے سندھ اور کراچی کے ”ذمہ داران“ کو تین ماہ کا وقت دیا ہے اور کہا ہے کہ پھر بازپرس بھی ہوگی کاش یہ معاملہ صرف بازپرس تک نہ رہے بلکہ ”سزا و جزا“تک بھی پہنچے۔

صدر زرداری کو وزیراعلیٰ سندھ اور مئیر کراچی سے یہ بھی پوچھ لینا چاہئے تھا کہ کراچی میں روزانہ جو آگ لگ رہی ہے اور جو لوگ جل کے مر رہے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے۔ گزشتہ ماہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ میں دو بچوں،آٹھ عورتوں سمیت 83 افراد جل کر مرے اور کچھ تو ایسے مرے کہ ”خاک“ ہو گئے۔ فروری میں ہی ضلع وسطی میں 30 صدر اور سہراب گوٹھ میں 18-18 ناظم آباد میں 19 لیاری اور کورنگی میں 9 سائٹ میں 11 لانڈھی میں تین اورنگی ٹاؤن اور شاہ فیصل میں 8-8 آتشزدگی کے واقعات ہوئے۔ گل پلازہ کے 83 افراد کے علاوہ ملیر میں ایک بچہ، گلستان جوہر میں ایک شخص اور اورنگی ٹاؤن میں بھی ایک شخص جل کر ہلاک ہوئے۔ کراچی میں آگ لگنے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں مگر تین کروڑ کی آبادی کے لئے آگ بجھانے والے انجن صرف 45 ہیں جبکہ کسی اونچی بلڈنگ تک پہنچنے کے لئے سیڑھیوں والی صرف پانچ گاڑیاں ہیں۔ اس ناکافی سامان کے ساتھ سندھ اور کراچی حکومتیں کس کس کی جان بچائیں گی۔

اب جب صدر آصف زرداری نے کراچی کے مسائل کے ذمہ داروں کو آئینہ دکھا دیا ہے اور تین مہینے کا ٹائم دیا ہے تو اُمید رکھنی چاہئے کہ تین مہینے بعد کام نہ کرنے والوں کو سزا تو ملے گی۔