شہزاد اکبر کا ایک ہفتے میں خود پر دوسری مرتبہ سنگین حملے کا الزام

کیمبرج شائر (نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق مشیرِ احتساب شہزاد اکبر نے الزام عائد کیا ہے کہ انگلینڈ میں ان کی رہائش گاہ کو ایک ہفتے کے اندر دوسری مرتبہ سنگین اور ہدف شدہ مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں شہزاد اکبر نے کہا کہ 31 دسمبر کی شام کیمبرج شائر، انگلینڈ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر جان بوجھ کر حملہ کیا گیا، جس کا مقصد شدید نقصان پہنچانا تھا۔ ان کے مطابق ملزمان نے جائیداد کو نقصان پہنچایا اور آگ لگانے کی کوشش کی، جس کے باعث فوری طور پر جانوں کو خطرہ لاحق ہوگیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک ہفتے کے اندر دوسرا سنگین حملہ ہے، اس سے قبل 24 دسمبر کو ایک ہدف شدہ حملے میں انہیں جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں شدید چوٹیں آئیں۔

شہزاد اکبر کے مطابق برطانوی حکام دونوں واقعات کی فعال تحقیقات کر رہے ہیں اور انہیں ہدفی حملوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے برطانوی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے تمام دستیاب وسائل استعمال کریں تاکہ ملک ہر فرد، خصوصاً سیاسی مخالفین اور خطرے سے دوچار افراد کے لیے محفوظ رہے۔

واضح رہے کہ مرزا شہزاد اکبر سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں مشیر برائے احتساب و امور داخلہ رہ چکے ہیں اور ان کے خلاف پاکستان میں متعدد مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان حکومت نے برطانیہ سے دو پاکستانی شہریوں، عادل راجا اور مرزا شہزاد اکبر، کی حوالگی کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے برطانوی ہائی کمشنر کو شواہد فراہم کیے تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اگرچہ مجرموں اور غیرقانونی پناہ گزینوں کی حوالگی سے متعلق ایک معاہدہ موجود ہے، تاہم باضابطہ ایکسٹراڈیشن ٹریٹی نہیں، اور قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی شخص کی برطانیہ سے پاکستان حوالگی ایک پیچیدہ قانونی عمل ہے۔