ممبئی (این ڈی ٹی وی، انڈین ایکسپریس، انڈیا ٹوڈے)بالی ووڈ اداکارہ تنوشری دتہ نے سینئر اداکار نانا پاٹیکر کی موت پر اپنے متنازع بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی شخص کی موت سے اس کی زندگی میں کیے گئے مبینہ غلط کام ختم نہیں ہوجاتے، جبکہ آل انڈیا سینی ورکرز ایسوسی ایشن نے ان کے بیان کو غیر حساس اور قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق نانا پاٹیکر کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد تنوشری دتہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ انہیں اس خبر کا علم ہوگیا ہے، تاہم وہ لکھنؤ میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جارہی ہیں اور فی الحال اپنی توجہ کام پر مرکوز رکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے نانا پاٹیکر کے اہلِ خانہ سے تعزیت بھی کی تھی۔
بعد ازاں اداکارہ نے سوشل میڈیا پر ’’ایول از ڈیڈ‘‘ یعنی ’’شیطان مر گیا‘‘ کا جملہ استعمال کیا، جس پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جمعرات کی شب جاری کیے گئے ایک اور ویڈیو پیغام میں انہوں نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے ان کا ذاتی تجربہ حقیقت ہے اور کسی شخص کی موت اس کے مبینہ اقدامات کو مٹا نہیں دیتی۔
تنوشری دتہ نے کہا کہ اگر کسی شخص نے دوسروں کو پریشان کیا ہو یا انہیں مبینہ طور پر نقصان پہنچایا ہو تو اس کی موت کے بعد یہ سوال ختم نہیں ہوجاتا کہ ان واقعات کا حساب کون دے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے خلاف منفی ردِعمل پر بھی اعتراض کیا اور دعویٰ کیا کہ 2018ء میں می ٹو مہم کے دوران الزامات سامنے آنے کے بعد، خصوصاً 2020ء کے بعد، انہیں شدید مشکلات اور مبینہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب آل انڈیا سینی ورکرز ایسوسی ایشن کے صدر سریش شیام لال گپتا نے تنوشری دتہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نانا پاٹیکر کی موت پر اس نوعیت کے الفاظ استعمال کرنا نامناسب ہے۔ تنظیم نے نانا پاٹیکر کی فلمی خدمات اور سماجی کاموں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت بھی کی۔
یاد رہے کہ تنوشری دتہ نے 2018ء میں می ٹو مہم کے دوران الزام لگایا تھا کہ فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کی شوٹنگ کے دوران نانا پاٹیکر نے انہیں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا تھا۔ نانا پاٹیکر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے جون 2019ء میں ناکافی شواہد کی بنیاد پر مقدمہ بند کردیا تھا۔

