ہماری سیاست ہمیشہ سے اتحادی حکمت عملیوں، وقتی مفاہمتوں اور پھر اچانک اختلافات کے گرد گھومتی رہی ہے، پنجاب کی سیاست تو بالخصوص اس تناؤ کی جیتی جاگتی مثال ہے، حالیہ دنوں میں پنجاب میں بر سر اقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان کھچاؤ ایک دفعہ پھر نمایاں ہو رہا ہے، یہ محاذ آرائی بظاہر سیلابی نقصانات، گندم کی خریداری اور کسانوں کے مسائل کے حوالے سے شروع ہوئی ہے، لیکن درحقیقت اس کے اثرات پنجاب ہی نہیں بلکہ وفاق کی سیاست اور حکومت تک پھیل سکتے ہیں۔ پنجاب میں حالیہ سیلاب نے بڑے پیمانے پر کھیت، فصلیں اور دیہی انفراسٹرکچر تباہ کیا، کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت متاثرین کو بروقت ریلیف دینے میں ناکام رہی۔ مسلم لیگ (ن) اس کے برعکس دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے تاریخ کی سب سے بڑی ریلیف مہم شروع کی، مگر حقیقت یہ ہے سیلاب متاثرین کی ایک بڑی تعداد اب بھی عدم اطمینان کا شکار ہے، یہ معاملہ محض انتظامی کارکردگی کا نہیں بلکہ سیاسی اثرات کا حامل ہے، پیپلز پارٹی اس کو پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ بنانے کیلئے استعمال کر رہی ہے، جبکہ (ن) لیگ اسے اپنی ساکھ کے خلاف مہم قرار دے رہی ہے، گندم اور سبسڈی کا بحران، گندم کی خریداری ہمیشہ سے پنجاب کی سیاست کا حساس موضوع رہا ہے کیونکہ صوبے کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر مبنی ہے اور اگر کسان مسلم لیگ (ن) سے ناراض ہو گئے تو آئندہ عام انتخابات میں پنجاب کی سیاست کا منظر نامہ یکسر بدل سکتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا موجودہ اتحاد ہمیشہ سے ایک معمہ اورگنجلک مسئلہ ہے،پیپلز پارٹی وفاق میں بڑے آئینی عہدوں سمیت سندھ کی مکمل حکومت پر براجمان ہے مگر دعویٰ کرتی ہے کہ وہ حکومت کا حصہ نہیں،اقتدار کے بھر پور مزے لے رہی ہے مگر کوئی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں،بعض اوقات تو یوںلگتا ہے پیپلز پارٹی حکومت کے اندر رہتے ہوئے اپوزیشن ہے،مگر یہ سب ’’ٹوپی ڈرامہ ‘‘ لگتا ہے،حکومت کو جب بھی کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا ہے پیپلز پارٹی ’’کچھ لو کچھ دو ‘‘کی بنیاد پر اس کی بیساکھی بن جاتی ہے،ہر متنازع قانون سازی میں پیپلز پارٹی نے حکومت کا ساتھ دیکر اسے مقاصد میں کامیاب کیا،البتہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو اقلیت میں ہونے کے باوجود اپنی اہمیت کا احساس ہےلہٰذا وہ ہر مشکل وقت میں حکومت کی مشروط حمائت کرتی ہے،کسی بھی صورت اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد ہی حکومت کے فیصلوں،قانون سازی کی حمائت کی جاتی ہے،یوں کہہ لیں کہ پیپلز پارٹی’’ایک ٹکٹ میں دو مزے ‘‘لے رہی ہے،دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی کمزوریوں ،دلچسپیوں اور خدشات و تحفظات کے ساتھ مطالبات سے بھی پوری طرح آگاہی رکھتی ہیں اس لئے کبھی دونوں میں معاملات الجھے نہیں بلکہ بروقت سمیٹ لئے جاتے ہیں اور انتظامی معاملات ،عہدیداروں کی تعیناتی پر تو دونوں میں اتفاق رائے ہو جاتا ہے مگر سیاسی معاملات میں اہم فیصلوں پر حمائت کے باوجود عوامی سطح پر پیپلز پارٹی حکومت کی مخالفت کرتی دکھائی دیتی رہتی ہے ۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ دونوں جماعتیں اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی چہیتی ہیں اور اسی کے اشاروں پر اقدامات اٹھاتی ہیں،جو فیصلہ اوپر سے آ گیا اس کی مخالفت کرنے کی کسی میں ہمت نہیں ،سیاسی معاملات میں اب بھی کبھی کبھی پیپلز پارٹی حکومت کے اندر رہتے ہوئے اپوزیشن کا رول کرتے دکھائی دیتی ہے،پیپلز پارٹی نے پنجاب میں مختلف اوقات قانون سازی کی بھی مخالفت کی اور اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے،ن لیگی رہنمائوں کا شکوہ ہے کہ پیپلز پارٹی تنقید بھی کرتی ہے اور فنڈز میں حصہ بھی برابر کا مانگتی ہے،پیپلز پارٹی نے قومی اداروں کی نجکاری کی بھی مخالفت کی جس کی وجہ سے نجکاری کا عمل سست روی کا شکار ہے جبکہ بعض ادارے قومی معیشت پر باقاعدہ بوجھ بن چکے ہیں،تاہم یہ اہم نوعیت کا مسلۂ اختلافات کا شکار ہے،پیپلز پارٹی نے ’’پیکا ایکٹ‘‘ کی بھی مخالفت کی مگر اس کی منظوری کیلئے ووٹ بھی دئیے،اگر چہ پیکا ایکٹ کسی بھی طرح جمہوری اقدام نہیں، سنا تھا پاور شیئرنگ پر اختلافات کے خاتمہ کیلئے کمیٹی بنا دی گئی ہے،جس سے انتظامی نوعیت کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی مگر سیاسی مسائل پر اختلاف شائد دونوں کی ضرورت ہے اس لئے ان کے حل پر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اختلافات کی اڑتی گرد کو ہمیشہ دونوں جماعتوں میں دراڑ سمجھا گیا،حالانکہ ’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ‘‘ماضی میں محسن نقوی کو پیپلز پارٹی کے حمائت یافتہ ذکا اشرف کی جگہ پی سی بی کا سربراہ لگانے پر بھی گرما گرمی دیکھی گئی مگر ن لیگ کی تعیناتی پر قبولیت کا ٹھپہ لگانا پڑا کہ یہ تعیناتی کہیں اور سے ہوئی تھی،پیپلز پارٹی کو ہمیشہ زعم رہا کہ اس کے 45ارکان کی حمائت کے بغیر شہباز شریف وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے،اب بھی دونوں پارٹیوں کا مطمعٔ نظر آئئدہ الیکشن ہے،دونوں اقتدار میں رہ کر عام انتخابات میں کامیابی کی راہ ہموار کر رہی ہیں،اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دونوں کا حکومت میں رہنا وقت کی ضرورت ہے اس لئے دونوں میں سے کسی کے حکومت سے الگ ہونے کا بظاہر کوئی امکان نہیں،یہ واضح ہے کہ دونوں اگلے الیکشن میں اپنے اپنے پلیٹ فارم سے الگ الگ الیکشن میں زور آزمائی کریں گی،تا ہم آج بھی ’’حکم حاکم‘‘کے علاوہ عمران خان کی دشمنی دونوں میں واحد قدر مشترک ہے،یہی خوف دونوں کو اقتدار میں رکھے ہوئے ہے مگر دونوں بلا شرکت غیرے حکمرانی کے حصول کیلئے بھی اپنی سی کوشش میں مصروف ہیں۔ اقتدار و اختیار نہ ہو تو دونوں جماعتوں کی قیادت کا ملک میں سکونت اختیار کرنا ہی ممکن نہ ہو،مشترکہ دشمن نے دونوں کو ایک پلیٹ فارم اور ایک حکومت میں متحد کر دیا،مگر دونوں کے دل میں ایک دوسرے کیخلاف بغض عناد ،خدشات،تحفظات آ ج بھی ہیں،دونوں اب بھی بے یقینی کا شکار ہیں،یہی وجہ ہے کہ عوام کے دیرینہ مسائل پر کسی کی توجہ نہیں،سیاسی معاملات دن بدن کٹھن اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں،مگر ان کے دیرپا حل کا کسی کو ہوش نہیں،ہر ایک کی خواہش غلبہ ہے اور اسی کیلئے ہر کوشش بروئے کار لائی جا رہی ہے،اسی کیلئے اقدامات ہو رہے ہیں،پولیس نظام آج انتہائی برے حالات سے دوچار ہے مگر حکمران جانتے بوجھتے پولیس ریفارمز لانے میں تساہل سے کام لے رہے ہیں کہ ان کی حکومت ہی پولیس کی بیساکھی پر کھڑی ہے،ضلعی انتظامیہ منتشر ہے جس کے باعث عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل بھی گمبھیر ہو رہے ہیں،نظام انصاف بھی عوام کو آسانی فراہم کرنے سے قاصر ہے لیکن اس طرف پیپلز پارٹی کی توجہ ہے نہ مسلم لیگ ن کی،سب ساون کے اندھے ہیں جنہیں ہر طرف ہرا ہرا نظر آ رہا ہے ،حکومت جتنی مرضی مضبوط کرلیں،جمہوریت کے لبادے میں آمریت نافذ کر دیں مگر جب تک انتظامی ،سیاسی اور معاشی نظام وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہو گا ثبات کا تصور حماقت ہو گا۔

