صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے؟

اپنی خواہش تھی اور ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان باقاعدہ جمہوری تعلق ہو، اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہوں اور ملک کے اندر سیاسی استحکام ہو جائے کہ مستعمل یہی ہے کہ معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام کا ہونا ضروری ہے لیکن یہاں تو اونٹ کسی کروٹ بیٹھنے کو تیار نہیں، بلکہ اس محاورے والی بات ہے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی، صورت حال یہ ہے کہ حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف ہر ایک میں رائے کا اختلاف ہے تاہم حزب اقتدار سے چونکہ خود قائد ایوان وزیراعظم محمد شہبازشریف کی طرف سے دعوت ہے اس لئے اگر مسلم لیگ (ن) کا کوئی وزیر یا رہنما مذاکرات سے انکار کرے تو فیصلہ قائد ایوان کے ہاتھ میں ہوگا لیکن تحریک انصاف کی حالت بڑی پتلی ہے کہ اس میں موجود سنجیدہ طبقہ مذاکرات کی بات کرتا ہے تو انتہا پسند حضرات دودھ میں مکھی ڈالنے میں تاخیر نہیں کرتے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان تو اب واضح طور پر مذاکرات کے حق میں تاہم سیکرٹری جنرل سلمان اکبر، عمران خان کی ہمشیرگان کے ساتھ ساتھ نہ صرف مخالف ہیں بلکہ الزام تراشی بھی کررہے ہیں، انتہا پسند افراد کا موقف ہے کہ بانی جماعت عمران خان کی اجازت کے بغیر ہاں کرنا ممکن نہیں، جبکہ یہ ملاقات ہو نہیں پا رہی البتہ خود تحریک انصا ف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فیصلے کا اختیار بانی جماعت کے پاس ہے جبکہ مذاکرات کے حامی حضرات کا موقف ہے کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو یہ ذمہ داری دی ہوئی ہے کہ وہ مذاکرات یا تحریک کا فیصلہ جو بھی کرینگے ان کو ان(بانی) کی حمایت حاصل ہوگی اس کے باوجود کوئی صورت نظر نہیں آ رہی، اس ساری صورت حال کی موجودگی ہی میں تحریک تحفظ آئین کے نائب صدر مصطفی نواز کھوکھر کا کھلم کھلا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، ان میں بانی کی رہائی کی شرط نہیں ہوگی اور مذاکرات غیر جانب دارانہ ایجنڈے پر ہوں گے جس میں آئین کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی اولیت حاصل کرے گی۔ اس کے باوجود ابھی تک ابتداء نہیں ہو سکی۔

میرے چھ دہائیوں سے بھی زیادہ صحافتی تجربے میں کبھی ایسی صورت حال پیش نہیں آئی۔ رپورٹنگ کے عرصے میں ایوب خان کیخلاف یونیورسٹی آرڈی ننس سے شروع ہوکر سیاسی مخالف تحریک کی کوریج سے لے کر پیپلزپارٹی اور پی این اے کی محاذ آرائی کی رپورٹنگ کے علاوہ جماعتوں کے اختلاف والی خبریں تلاش کیں اور پھر کئی بار اچانک ہونے والی تبدیلیوں کو بھی غور سے دیکھا، سخت ترین محاذ آرائی کے باوجود ایسی صورت حال کبھی نہ دیکھی کہ ”صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں، یہ کیسا پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں“۔

اب بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ امید سے ہیں کہ مذاکرات ہوں گے اگرچہ ایسے آثارنظر نہیں آتے اگر کوئی امید یا توقع تھی تو کے پی کے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور نے پھر سے حالات کا رخ موڑ دیا اور اب الزام جواب الزام کا سلسلہ شروع ہے۔ میں اس حوالے سے کسی فریق کے موقف کی تائید و تردید نہیں کرنا چاہتا، افسوس کا اظہار کرتا ہوں کہ سہیل آفریدی کا یہ دورہ بدمزگی کا شکار ہوا۔ فریقین اب اپنی صفائی اور دوسروں کیخلاف الزام تراشی ہی کوسیاست بنائے ہوئے ہیں اور یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ سہیل آفریدی کی میزبانی کی بجائے ان کو پریشان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میں ایک مبصر کے طور پر اگر جائزہ لوں تو یہی ظاہر ہوتا ہے وزیراعلیٰ کے پی کے قافلے اور ان کا ارادہ خبر بنوانے کا تھا جو ہمارے اپنے مہربانوں کی بدولت بن ہی گئی اور سلسلہ اب تک چل رہا ہے حالانکہ اس میں اصل سوال یہ کہ اس کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا قافلہ سرکاری حکام اور وزراء پر ہی مشتمل نہیں تھا بلکہ اس میں درجنوں گاڑیوں میں کارکن بھی تھے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طاقت کا مظاہرہ بھی کرنا چاہتے تھے اور اسی سے بدمزگی بھی پیدا ہوئی، ورنہ پروٹوکول کے مطابق کے پی کی وزارت داخلہ کو پنجاب کی وزارت داخلہ سے باقاعدہ رابطہ کرکے تحریری طور پر بتانا چاہیے تھا کہ وزیراعلیٰ لاہور میں جو تین روزگزاریں گے، ان کی مصروفیات کیا ہوں گی۔ تفصیل مل جاتی تو وزارت داخلہ پنجاب باقاعدہ وی وی آئی پی روٹ طے کرتی اور اسی حساب سے سیکیورٹی اور ٹریفک کے انتظام کئے جاتے۔ یہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ یہاں تو کسی ایسے رہنما کے گزرنے پر بھی ٹریفک خراب ہوتی ہے جو وی آئی پی نہ ہو لیکن اس کی حفاظت ضروری ہو۔

وزیراعلیٰ نے جس انداز سے لبرٹی، زمان پارک، گلبرگ اور پنجاب اسمبلی کا دورہ کیا وہ اپنے پورے ہجوم کے ساتھ گئے۔ پنجاب اسمبلی کا تو سیدھا سادا طریق کار ہے۔ ہم رپورٹر/ صحافی بھی اسمبلی پاس کے محتاج ہوتے ہیں اور روزانہ کوریج کرنے والے رپورٹر حضرت کوبھی یہ پاس اپنے پاس رکھنا ہوتا ہے۔ غیر متعلقہ فرد اگر مہمان کے طور پر آئے تو اس کے لئے الگ پاس ہوتا ہے جو باقاعدہ فارم بھر کر تصویر کے ساتھ جاری ہوتا ہے لیکن جو تفصیل ٹی وی پر نظر آئی یا بیان جواب بیان سے معلوم ہوئی ہے اس کے مطابق تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حوالے سے جو فہرست دی یا بتایا گیا وہ تیس افراد کی تھی لیکن اسمبلی میں داخل ہونے والا ہجوم تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیراعلیٰ جن حضرات کو ساتھ لے کر آئیں وہ باہر رہیں حالانکہ جو فہرست والے حضرات تھے اگر وہ اطمینان سے اسمبلی میں داخل ہو جاتے تو پھر فہرست سے باہر والوں کے بارے میں بھی غور کیا جا سکتا تھا لیکن ویڈیوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حضرات رکنے پر تیار نہیں تھے یوں دھکم پیل ہوئی اور شکائت پیدا ہوگئی، اب فریقین کی طرف سے شکائتی تحریروں کی نوبت آ چکی ہے جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے تحقیقی کمیٹی بنا کر اس کی رپورٹ منگوائی اور اب یہ رپورٹ متعلقہ اداروں کو کارروائی کی درخواست کے ساتھ بھجوائی جا چکی، جبکہ خود وزیراعلیٰ اور ان کے پختونخوا اسمبلی کے سپیکر نے بھی خط لکھ کر بُرے سلوک کا شکوہ کیا ہے۔

میں یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ یہ دورہ اور ہلاگلا ایسے موقع پر ہوا جب حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان تحریک تحفظ آئین کے بینر تلے مذاکرات کی توقع پیدا ہوئی تھی حالانکہ تحریک انصاف والوں نے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا اب بھی بعض اندرونی خبر لانے والے کہہ رہے ہیں کہ زیرزمین کچھ ہو رہا ہے اگرچہ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے، میرے خیال میں یہ جو کچھ ہوا، بہتر نہیں ہوا۔ تحریک انصاف کو اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا یا پھر ہاتھ کھڑے کرکے کہنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں ایسی صورت میں ان کی وہ کوشش بروئے عمل نہ آ سکے گی جو جماعتی رجسٹریشن کی بحالی اور ”بلے“ کا نشان واپس لینے کے لئے جماعتی سطح پر کی جا رہی ہے، انٹراپارٹی الیکشن کا فیصلہ ہو چکا لیکن اس پر عمل ایسی ہی تحریک نما حرکتوں کے باعث ممکن نہیں ہو پا رہا، چنانچہ ابھی تک ایوانوں میں تحریک استقلال کے اراکین آزاد ہیں اور قومی اسمبلی کے علاوہ سینٹ کے قائد حزب اختلاف کا فیصلہ نہیں ہو پا رہا، تحریک انصاف کے انتہا پسند حضرات کو مذاکرات کی کوشش سبوتاژ نہیں کرنا چاہیے کہ میز پر چائے کی پیالی کے ساتھ ہی کوئی حل نکلے گا۔