کرم(نامہ نگار)خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کے سرحدی علاقے حسین میلہ میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو سیکیورٹی اہلکار شہید اور سات زخمی ہو گئے۔ حملے کے بعد فورسز کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور گرفتار کر لیا گیا، جب کہ دیگر حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اپر کرم کے علاقے لقمان خیل تنگی کے مقام حسین میلہ میں پیش آیا، جو افغان صوبہ ننگرہار سے ملحقہ سرحدی علاقہ ہے۔ حملے میں لانس نائیک سلیم موقع پر ہی شہید ہوئے، جب کہ زخمی ہونے والے دیگر اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں نائب صوبیدار جاوید حسین، حوالدار موالی خان، حوالدار جہاد حسین طوری، لانس نائیک یوسف، سپاہی ایوب، سپاہی ابرار، اور سپاہی عثمان شامل ہیں۔ دورانِ علاج ایک اور اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔
فورسز نے علاقے میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا پیچھا کیا۔ مقامی قبائل نے بھی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے لاؤڈ اسپیکروں پر اعلانات کے ذریعے عوام کو متحرک کیا۔ اس اشتراک عمل کے نتیجے میں ایک دہشت گرد گرفتار کر لیا گیا، جس نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ انہیں اسلحہ اور حملے کی ہدایت طالبان نے دی تھی۔
رکن قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ قبائل سے پہلے ہی سرکاری طور پر اسلحہ واپس لے لیا گیا ہے، جب کہ افغانستان سمیت مختلف خارجی عناصر قبائلی علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک-افغان سرحد سے متصل علاقوں کے قبائل کو دفاعِ وطن کیلئےسرکاری اسلحہ مہیا کیا جائے تاکہ وہ ملک دشمن عناصر کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
سابق وفاقی وزیر ساجد طوری نے بھی اس دلخراش واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مقامی لوگوں کی بروقت کارروائی کو سراہا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبائل کو غیر مسلح کرنے کی بجائے ان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جائے۔
ادھرواقعے کے بعد پاراچنار اور پشاور کے درمیان مرکزی شاہراہ پر ایمبولنس سروس بھی متاثر ہوئی ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ 9 ماہ سے ضلع کرم میں سیکیورٹی خدشات کی بنا پر آمدورفت کے کئی راستے بند ہیں۔
حکومت پاکستان اور سیکیورٹی ادارے مادرِ وطن کے تحفظ کیلئےہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، اور دہشت گردی کے اس ناسور کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

