امریکہ جس نے کبھی جمہوریت، قانون اور انسانی حقوق کی قیادت کا دعویٰ کیا تھا، آج طاقت کی سیاست کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے اپنے اصول اور عالمی ساکھ دونوں ایک سخت آزمائش سے گزر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طاقت کے نشے میں مست ہو کر ہمیشہ کی طرح اپنے غیر دانشمندانہ فیصلوں سے دنیا کو ایک بار پھر سنگین بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر بلاجواز حملے نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا بھر میں عدم استحکام کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اس وقت ٹرمپ کی ایک لاحاصل جنگ کی وجہ سے دنیا کا نظام درہم برہم ہے، ایک پورا خطہ بارود کے دھوئیں میں ڈوبا ہوا ہے اور بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔
امریکہ کی جمہوری تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ محض اقتدار کی منتقلی کی داستان نہیں بلکہ اقدار، وژن اور قیادت کے معیار کی کہانی بھی ہے۔ اسی تاریخ میں ہمیں ابراہیم لنکن جیسے رہنما ملتے ہیں جنہوں نے خانہ جنگی کے طوفان میں بھی اتحاد، آزادی اور انسانی وقار کو مقدم رکھا۔ لنکن نے غلامی کے خاتمے کا اعلان کر کے نہ صرف اپنے ملک کی تقدیر بدلی بلکہ امریکہ کو اخلاقی برتری کا وہ مقام دیا جس کا اثر دہائیوں تک عالمی سیاست پر محسوس کیا گیا۔
اسی طرح فرینکلن ڈی روزویلٹ نے عظیم کساد بازاری اور دوسری جنگِ عظیم کے مشکل دور میں قیادت کی۔ ان کی نیو ڈیل پالیسیوں نے معیشت کو سہارا دیا جبکہ عالمی سطح پر اتحادی قوتوں کی قیادت کرتے ہوئے فسطائیت کے خلاف جدوجہد میں مرکزی کردار ادا کیا۔ بعد ازاں جان ایف کینیڈی نے سرد جنگ کے نازک ترین مرحلے پر سفارت کاری اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ کیوبا میزائل بحران کے دوران ان کے تحمل اور حکمت نے دنیا کو ایٹمی تباہی سے بچایا۔
ان ادوار میں بھی متعد د اعتراضات اور اختلافات کے باوجود ایک اصول غالب رہا: طاقت کے ساتھ ذمہ داری۔ ایک اور قدر مشترک یہ تھی کہ امریکہ کی عالمی ساکھ کو برقرار رکھا جائے اور جمہوری اقدار کو بطور اخلاقی سرمایہ استعمال کیا جائے۔ امریکی ووٹر طویل عرصے تک قیادت میں بصیرت، کردار اور عالمی ذمہ داری کو اہم سمجھتے رہے۔ سیاست دانوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ طاقت کے ساتھ احتساب، ذاتی کردار اور شائستگی کو بھی ملحوظ رکھیں گے۔
لیکن وقت کے ساتھ سیاسی ماحول بدلتا گیا۔ میڈیا کے پھیلاؤ، سوشل پلیٹ فارمز کی شدت اور اندرونی تقسیم نے جذباتی نعروں کو تقویت دی۔ اسی پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کا عروج ہوا۔ ان کی سیاست نے روایتی سفارتی آداب، عالمی اتحادوں اور ادارہ جاتی توازن کو چیلنج کیا۔ “امریکہ فرسٹ” کا نعرہ بظاہر قومی مفاد کی بات کرتا ہے، مگر اس کی عملی شکل میں اتحادیوں سے فاصلے، عالمی معاہدوں سے علیحدگی، سخت لب و لہجہ اور طاقت کے نشے میں عالمی امن کو نقصان پہنچانے کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے پیرس ماحولیاتی معاہدے سے دستبرداری اختیار کی، عالمی ادارۂ صحت سے علیحدگی کا اعلان کیا، ایران کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے نکلنے کا فیصلہ کیا اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا کی۔ امیگریشن پالیسیوں، سرحدی دیوار، مسلم ممالک پر سفری پابندی اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر بلاجواز حملے جیسے اقدامات نے دنیا بھر میں امریکہ کے امیج کو متاثر کیا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای , ان کی چودہ ماہ کی معصوم نواسی سمیت خاندان کے دیگر افراد اور ۱۶۰ سے زائد اسکول طالبات کی بمباری میں شہادت جیسے واقعات نے اس تنقید کو مزید شدت دی۔ داخلی سطح پر بھی اداروں، میڈیا اور عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی نے یہ تاثر پیدا کیا کہ شخصی اقتدار ادارہ جاتی توازن پر غالب آ رہا ہے۔
آج کی دنیا میں بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور جنگی اخلاقیات ایسے اصول تھے جنہیں بڑی طاقتیں کم از کم زبان کی حد تک مانتی تھیں۔ مگر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے ان اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ انہیں طاقت کے نیچے کچل دیا۔ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک فوجی کاڑوائی میں گرفتار کر کے امریکہ لے جانا، اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا مشترکہ امریکی۔اسرائیلی حملے میں مارا جانا، یہ دونوں واقعات اس امر کی علامت ہیں کہ طاقت اب قانون کی جگہ لے رہی ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسی آگ میں جھونکا جا رہا ہے جس کے شعلے صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتے۔ جب عالمی نظام کے قواعد کمزور پڑ جائیں تو نفرت، عدم اعتماد اور انتقام کی سیاست پھیلتی ہے اور پھر امریکہ کی ساکھ بھی محض طاقت کی علامت بن کر رہ جاتی ہے، انصاف کی نہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اس طرزِ سیاست کے اثرات گہرے ہیں۔ جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت کثیرالجہتی نظام سے پیچھے ہٹتی ہے تو خلا پیدا ہوتا ہے جسے دیگر طاقتیں پُر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس سے عالمی توازن غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یورپ میں اتحادیوں نے خودمختار دفاعی ڈھانچے پر غور تیز کیا جبکہ ایشیا میں طاقت کا مقابلہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر ایشیا پیسیفک تک امریکہ کی پالیسیوں نے پرانے اتحادوں کو کمزور اور نئے تنازعات کو جنم دیا۔
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایک پیچیدہ خطہ ہے۔ ایران، اسرائیل، خلیجی ریاستیں، یمن، شام اور لبنان جیسے محاذ پہلے ہی باہم جڑے ہوئے تنازعات کا حصہ ہیں۔ امریکہ کی کسی بھی سخت پالیسی کے اثرات فوری طور پر پورے خطے میں محسوس ہوتے ہیں۔ ٹرمپ کی زبان اور اندازِ سیاست اکثر جارحانہ رہا، جس سے سفارتی دروازے سکڑتے دکھائی دیے۔ یہ بات واضح ہے کہ طاقت کے مظاہرے سے وقتی دباؤ تو ڈالا جا سکتا ہے، مگر طویل المدتی استحکام کے امکانات انتہائی کمزور ہو جاتے ہیں۔
اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عالمی رائے عامہ میں امریکہ کے بارے میں تاثر بدل گیا۔ جہاں کبھی انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا حوالہ دیا جاتا تھا، وہاں اب داخلی تقسیم، نسلی کشیدگی اور سیاسی افراتفری کی تصاویر نمایاں ہوئیں۔ اگر کسی ملک کے لیے نرم گوشہ اس کی اقدار کی بنیاد پر تھا تو وہ بھی کمزور پڑ گیا۔ طاقت وقتی برتری تو دے سکتی ہے مگر اخلاقی ساکھ ایک بار ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ قائم کرنا دہائیوں کا کام بن جاتا ہے۔
گو کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام امریکی عوام یکساں منفی اور جارحانہ سوچ نہیں رکھتے۔ امریکہ کے اندر بھی مضبوط جمہوری آوازیں موجود ہیں۔عدلیہ، میڈیا، سول سوسائٹی اور نوجوان نسل میں ایسے حلقے ہیں جو ادارہ جاتی توازن اور عالمی ذمہ داری کی بحالی چاہتے ہیں۔ امریکی تاریخ میں اصلاح اور احتساب کی روایت رہی ہے۔ واٹرگیٹ اسکینڈل سے لے کر سول رائٹس موومنٹ تک امریکی معاشرہ خود احتسابی کی صلاحیت دکھا چکا ہے۔ اب ایک بار پھر وقت آ گیا ہے کہ ایسی تمام آوازیں یکجا ہو کر ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں اور دنیا کو مزید تباہی سے بچانے کی کوشش کریں۔
سوال یہ ہے کہ آئندہ راستہ کیا ہوگا؟ کیا امریکہ اپنی شناخت کو محض عسکری اور معاشی طاقت تک محدود کرے گا، یا دوبارہ اخلاقی قیادت کی طرف لوٹے گا؟ دنیا ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ ماحولیاتی بحران، عالمی وبائیں، معاشی عدم مساوات اور علاقائی جنگیں مشترکہ حکمت عملی کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں اگر قیادت یکطرفہ فیصلوں اور جذباتی بیانیے پر انحصار کرے تو نتائج دور رس اور بعض اوقات ناقابلِ واپسی ہو سکتے ہیں۔
امریکی عوام کے سامنے چیلنج واضح ہے۔ وہی قوم جس نے لنکن، روزویلٹ اور کینیڈی جیسے رہنما پیدا کیے، کیا وہ اپنی سیاسی روایت کو دوبارہ بلند معیار پر لا سکتی ہے؟ کیا وہ ایسے رہنماؤں کا انتخاب کرے گی جو طاقت کے ساتھ ذمہ داری اور قومی مفاد کے ساتھ عالمی انصاف کو بھی پیش نظر رکھیں؟
طاقت کے نشے میں دنیا کو زیر کرنے کا تصور وقتی طور پر پرکشش ہو سکتا ہے، مگر تاریخ ہمیشہ کردار، انصاف اور انسان دوستی کو یاد رکھتی ہے۔ امریکیوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ ان کا ملک نفرت کی علامت بنے گا یا انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کا محافظ۔
یہاں فیصلہ کن سوال ٹرمپ سے بھی بڑا ہے: امریکہ اپنے آپ کو کس آئینے میں دیکھنا چاہتا ہے؟ ایک ایسا ملک جو قانون اور اخلاقیات کی بات کرے مگر عمل میں ان کی نفی کرے، یا ایک ایسا ملک جو اپنی طاقت کو عالمی ذمہ داری کے ساتھ جوڑے؟ اگر امریکہ واقعی اپنے تاریخی تشخص—جمہوریت، ادارہ جاتی توازن اور انسانی حقوق، کو بچانا چاہتا ہے تو اس کا راستہ ایک فرد کی شخصیت پرستی سے نہیں بلکہ قومی احتساب سے نکلے گا، اور یہ احتساب صرف عدالتوں یا کانگریس سے نہیں بلکہ سب سے پہلے ووٹر کے ضمیر سے شروع ہوتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب امریکی عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا: کیا وہ چاہتے ہیں کہ تاریخ انہیں طاقت کے خمار میں مست قوم کے طور پر یاد کرے، یا ایک ایسی قوم کے طور پر جس نے وقت پر خود کو درست کیا اور اپنے ملک کی اخلاقی بنیادوں کو دوبارہ مضبوط کیا۔ اگر امریکہ اپنے اصولوں سے منہ موڑ لے تو وہ صرف ایک طاقتور ریاست رہ جائے گا، مگر اگر وہ اصولوں کی طرف لوٹ آئے تو وہ دوبارہ ایک مثال بن سکتا ہے۔
طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے وقتی فتح دے سکتے ہیں، مگر تاریخ کی عدالت میں ان کا حساب ہمیشہ قوموں سے لیا جاتا ہے۔ آج کا سوال صرف ٹرمپ کا نہیں بلکہ امریکہ کے ضمیر کا ہے۔

