اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی)اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عدالت نے وزیراعظم، وفاقی کابینہ اور متعلقہ حکام کو عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے کیس کی سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیے اور 2 ہفتوں کے اندر تحریری جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزار ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے دائر کردہ کیس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت، قانونی معاونت اور رہائی کے لیے حکومت پاکستان مؤثر اقدامات کرے۔
جسٹس اعجاز اسحٰق خان نے ریمارکس دیے”وفاقی حکومت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔”انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود حکومت نے مطلوبہ رپورٹ جمع نہیں کرائی۔کیس کی نوعیت حساس ہے اور مسلسل تاخیر ناقابل قبول ہے۔انصاف کو شکست کا سامنا نہیں کرنے دوں گا، جوڈیشل پاور استعمال کروں گا۔
تحریری حکم نامے میں جسٹس اعجاز اسحٰق نے انکشاف کیا کہ ان کے کیسز کو کاز لسٹ سے نکال دیا گیا۔چیف جسٹس آفس کو روسٹر کی تبدیلی پر دستخط کیلئےوقت نہیں ملا۔انصاف کی راہ میں ایڈمنسٹریٹیو پاورز کو رکاوٹ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا”26ویں آئینی ترمیم کے بعد اس عدالت میں ’ڈیمولیشن اسکواڈ‘ لایا گیا، انصاف کے ستونوں پر ایک کے بعد ایک حملہ ہوا۔”
درخواست گزار کے وکیل عمران شفیق نے کہا”اگر حکومت اسٹے لینا چاہتی تو آج ہی سپریم کورٹ میں بینچ بن جاتا، ہمیں نظام کی اندرونی کہانی معلوم ہے۔”انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں کیس تاحال فکس نہیں ہوا، کیونکہ جسٹس منصور علی شاہ کی موجودگی میں بینچ نہیں بن سکتا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام فریقین، بشمول وزیراعظم پاکستان، کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتے کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ آئندہ سماعت چھٹیوں کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر ہوگی۔
یہ پیش رفت اس حساس کیس میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ نہ صرف ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے کو سنجیدگی سے لے بلکہ عدالتی احکامات کی تعمیل بھی کرے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس سخت مؤقف نے عدلیہ کی خودمختاری، عدالتی احکامات کی اہمیت اور نظام انصاف کے تحفظ کی ایک واضح مثال قائم کر دی ہے۔

