عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم کے قریبی ساتھی کا اعترافی بیان

ڈھاکا (بنگلادیشی میڈیا) بنگلادیش کے نوجوان سیاستدان شریف عثمان ہادی کے قتل کیس میں مرکزی ملزم کے قریبی ساتھی نے عدالت میں اعترافی بیان دے دیا ہے۔

بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق قتل کیس کے مرکزی ملزم کریم مسعود عرف راہول کے قریبی ساتھی فیصل روبیل نے عدالت میں اعترافِ جرم کیا۔ فیصل روبیل نے دو مرحلوں کے ریمانڈ کے بعد اعترافی بیان دینے کا فیصلہ کیا، جس سے متعلق تفتیشی افسر نے سی آئی ڈی پولیس کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے عدالت کو آگاہ کیا۔

درخواست کی منظوری کے بعد ڈھاکا میٹروپولیٹن مجسٹریٹ محمد محبوب الرحمان نے ملزم کا بیان قلمبند کیا، جس کے بعد فیصل روبیل کو جیل بھیج دیا گیا۔اعترافی بیان میں فیصل روبیل نے نوجوان سیاستدان عثمان ہادی کے قتل میں اپنے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کارروائی سیاسی انتقام کے تحت کی گئی، جس کا مقصد انتخابی عمل کو متاثر کرنا تھا۔

سی آئی ڈی کے مطابق فیصل روبیل کو 21 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا اور اگلے روز عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ 32 سالہ عثمان ہادی جولائی میں عوامی لیگ پر پابندی کے خلاف تحریک کے ذریعے نمایاں ہوئے تھے اور وہ ڈھاکا سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ 12 دسمبر کو موٹرسائیکل سوار ملزمان نے عثمان ہادی پر فائرنگ کی تھی، وہ 18 دسمبر کو سنگاپور میں دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے تھے، جبکہ پولیس کی جانب سے 17 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے۔