عدیل اکبر کی خود کشی،سوالیہ نشان؟

اسلام آباد پولیس کے ایک ایس پی عدیل اکبر کی خود کشی نے ایک دفعہ پھر ہمارے بیوروکریٹک نظام ، خصوصی طور پر پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے افسران اور اہلکاروں کے حالات پر سوالات اٹھا دیے ہیں ، اس واقعہ نے موجودہ ڈنگ ٹپاو سسٹم کو بھی ایکسپوز کر دیا ہے ،پولیس افسر نے کن حالات سے مجبور ہو کر اتنا بڑا قدم اٹھایا ،اس کی وجوہات جلد یا بدیر سامنے آ جائیں گی ، ایک قابل اور فرض شناس پولیس افسر علی ناصر رضوی،آئی جی اسلام آباد پولیس ہے ،وہ اس خوکشی کے محرکات کا ضرور جائزہ لے گا تاکہ کوئی اور عدیل اکبر اس نظام کی بھینٹ نہ چڑھ سکے ، عدیل مرحوم کے برادر نسبتی علی اکبر بڑے فرض شناس اور محنتی سینئر سپر نٹنڈنٹ جیل ہیں ،کینیڈا میں ہونے کی وجہ سے میں ان سے تعزیت کے لئے بھی نہیں جا سکا،ان کا خاندان یہ صدمہ کیسے برداشت کرے گا،یہ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے،اس واقعہ کے بعد میں کینیڈا کے بیوروکریٹک نظام کے متعلق عام لوگوں سے پوچھ بھی رہا ہوں اور اس پر تحقیق بھی کر رہا ہوں کہ یہاں کا سسٹم ،پولیس نظام کامیاب اور ہمارا سسٹم ڈیلیور کیوں نہیں کر رہا؟

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک کینیڈا اپنی شفاف، منظم اور میرٹ پر مبنی دفتری ساخت کے باعث ایک ماڈل اور اس کے برعکس پاکستان میں دفتری نظام ایک لمبے نوآبادیاتی پس منظر اور سیاسی مداخلتوں کے زیرِ اثر کئی چیلنجز سے دوچار ہے، دونوں ملکوں کے نظام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جانیں کہ ان کے کام کے حالات کیا ہیں اور ریاست ان کے نفسیاتی و سماجی تحفظ کو کس حد تک یقینی بناتی ہے۔ کینیڈا میں ہر عہدے کے لیے پبلک سروس کمیشن آف کینیڈاشفاف طریقہ کار سے بھرتیاں کرتا ہے، امیدوار کی تعلیم، تجربہ، ابلاغی صلاحیت اور کردار کا تجزیہ کیا جاتا ہے، کینیڈا کے افسر کو سیاسی دباو برداشت کرنا پڑتا ہے نہ کسی وزیر یا پارلیمنٹیرین کے ذاتی مفاد کی خدمت کرنا ہوتی ہے ، اگر کوئی سیاست دان کسی افسر پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو وہ براہِ راست قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے، جس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ کینیڈین بیوروکریسی ادارہ جاتی آزادی اور جوابدہی کے امتزاج پر چلتی ہے، ہر فیصلہ دستاویزی ہوتا ہے، ہر اقدام کی رپورٹ بنتی ہے، اور ہر سرکاری عمل شہریوں کے سوالوں کے جواب دینے کا پابند ہے، یہی وہ بنیادی فرق ہے جو کینیڈا کو پاکستان جیسے ممالک سے ممتاز کرتا ہے۔ پاکستان میں دفتری نظام اب میرٹ بمقابلہ مصلحت میں بدل چکا ہے ، بدقسمتی سے اس میں سیاسی اثر، سفارش، گروہی دباؤ اور عدم تحفظ جیسے عناصر گہرے ہو چکے ہیں، ایک افسر مقابلے کے مشکل امتحان سے گزر کر سول سروس میں آتا ہے مگر عملی زندگی میں اسے ہر موڑ پر سیاسی، انتظامی یا مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سینئر افسران کی تعیناتی اکثر میرٹ کے بجائے ’’وابستگی‘‘ یا ’’پسند‘‘ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ نتیجتاً، کئی محنتی افسران مایوسی، تنہائی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، یہی دباؤ بعض اوقات افسوسناک خودکشیوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، یہ سماجی و نفسیاتی المیہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے مختلف صوبوں میں سول سروس کے افسروں میں سرائت کرتا نظر آ رہا ہے۔

ان واقعات کے پسِ پردہ چند بڑی وجوہات میں سب سے پہلے تو ا نتظامی دباؤ اور سیاسی مداخلت ہے ، اکثر افسران کو حکم دیا جاتا ہے کہ فلاں سیاستدان یا بااثر شخص کی خواہش پوری کی جائے، چاہے وہ قانون کے خلاف ہی کیوں نہ ہو،انکار کرنے والے افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا جاتا ہے یا انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کام کا غیر انسانی دباؤ بھی ایک وجہ ہے ، ایک ڈپٹی کمشنر یا پولیس افسر کو دن رات چوبیس گھنٹے ہنگامی حالات، وزارتی دورے، میڈیا دباؤ، عوامی شکایات اور سیاسی مطالبات سے نبرد آزما رہنا پڑتا ہے اور اسے آرام یا ذاتی زندگی کے لیے وقت ہی نہیں ملتا اور یوں احساسِ تنہائی اور نفسیاتی عدم تحفظ کا مسئلہ پیش آتا ہے ، افسران کے پاس نہ تو نفسیاتی مشاورت کا نظام ہے اور نہ ہی ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے کوئی مؤثر ادارہ جاتی ذرائع، یہی وجہ ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ایک افسر جب ہمہ وقت تناؤ اور پریشانی میں رہتا ہے تو اس کی ازدواجی اور خاندانی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے،یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا دباؤ پیدا کرتے ہیں جس میں بعض حساس طبیعت افسر اپنی جان لینے کا انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں جو کہ نہ صرف ذاتی سانحہ ہوتا ہے بلکہ اسے ادارہ جاتی ناکامی کا اعلان بھی کہا جا سکتا ہے۔

⸻ اس کے برعکس، کینیڈا میں ہر سرکاری ملازم کو ذہنی صحت کے حوالے سے مکمل ادارہ جاتی تحفظ حاصل ہے، افسران کے اوقاتِ کار محدود اور انسانی بنیادوں پر متعین ہیں ، کسی افسر سے چوبیس گھنٹے دستیاب رہنے کی توقع نہیں کی جاتی، اگر کسی عہدے پر اضافی ذمہ داری ہو تو اس کے بدلے اوور ٹائم معاوضہ یا چھٹی دی جاتی ہے، کینیڈا میں کسی افسر کو اپنی ساکھ یا عہدہ بچانے کے لیے غیر قانونی احکامات ماننے کی ضرورت نہیں، یہاں ادارے مضبوط ہیں، شخصیات نہیں اور یہی ادارہ جاتی استحکام افسران کے لیے ذہنی سکون کا باعث ہے۔

⸻ پاکستان میں پولیس عام طور پر ہر وقت ’’آن کال‘‘ رہتی ہے، ایک ایس ایچ او یا ڈی ایس پی کو دن رات ہر ہنگامی واقعہ، احتجاج، دورے یا سیاسی حکم کے لیے دستیاب رہنا پڑتا ہے، پولیس افسران کے پاس اکثر چھٹی، نیند یا خاندان کے لیے وقت نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پولیس فورس کے اندر تھکن، چڑچڑاہٹ، بدتمیزی، اور کرپشن جیسے رجحانات عام ہیں، کیونکہ ایک تھکا ہوا انسان اخلاقی طور پر مستحکم رہتا ہے نہ عوام کے ساتھ نرم جبکہ کینیڈا کی پولیس بالکل مختلف طرزِ عمل پر چلتی ہے، یہاں ڈیوٹی شفٹس ہوتی ہیں، پولیس افسر اپنے فرائض کے دوران اختیارات اور ذمہ داریاں رکھتا ہے مگر ڈیوٹی کے بعد مکمل آزاد ہوتا ہے، اسے گھر فون کر کے نہیں بلایا جاتا ، ہر افسر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ دوستانہ اور مددگار رویہ رکھے اس لیے یہاں پولیس کو عوام کا دوست سمجھا جاتا ہے، ’’طاقت کا مظہر‘‘ نہیں۔ کینیڈا میں عام شہری پولیس افسر سے بات کرتے ہوئے خوفزدہ نہیں ہوتے، پاکستان میں بدقسمتی سے عوام اور افسر کے درمیان اعتماد کا فاصلہ بڑھ چکا ہے، عوام سمجھتے ہیں کہ افسر طاقت کا نمائندہ ہے، خدمت کا نہیں۔

کینیڈا نے اپنے نظام کو عوامی خدمت پر، جبکہ پاکستان نے طاقت و اختیار پر استوار کیا ہے، سوال یہ ہے کہ ہمیں اب کیا سیکھنا چاہیے؟ پاکستان میں بھی اگر بیوروکریسی کو سیاسی اثر سے آزاد کیا جائے، پولیس کے لیے انسانی اوقاتِ کار مقرر ہوں اور اداروں میں جوابدہی و عزت کا توازن قائم کیا جائے تو ہم ایک ایسا نظام تشکیل دے سکتے ہیں جہاں افسر صرف کام نہیں بلکہ خوشی سے خدمت کرے گا ، کینیڈا نے یہ منزل شفافیت، قانون کی بالادستی اور انسانی احترام کے ذریعے حاصل کی ہے اور پاکستان کے لیے بھی یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی بیوروکریسی اور پولیس کو بحران سے نکال سکتے ہیں

اپنا تبصرہ لکھیں