اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پاکستان کی معروف سینئر نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے پی ٹی وی کے بعد ریڈیو پاکستان کو بھی الوداع کہہ دیا ہے۔ عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان میں 45 برس تک خدمات انجام دیں اور نشریاتی صحافت میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے جذباتی پیغام میں عشرت فاطمہ نے اللہ تعالیٰ، والدین اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو پاکستان سے علیحدگی کا فیصلہ ان کے لیے نہایت مشکل اور ذاتی نوعیت کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ الوداع کہنے سے قبل وہ دل کی گہرائیوں سے اپنے سامعین اور ریڈیو پاکستان کی شکر گزار ہیں۔
انہوں نے مداحوں کو مستقبل میں رابطے کیلئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر موجود رہنے کی بھی اپیل کی۔ عشرت فاطمہ کی رخصتی پر صحافت اور نشریات سے وابستہ متعدد معروف شخصیات نے سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور اردو زبان و نشریاتی صحافت کے لیے ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہا۔
ایک اور ویڈیو پیغام میں عشرت فاطمہ ریڈیو پاکستان چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ کام نام یا شہرت کیلئےنہیں کیا بلکہ انہیں اپنے پیشے سے عشق تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 1983 سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہیں اور 1984 میں خبریں پڑھنا شروع کیں یہ ان کا جنون اور جنونی وابستگی تھی۔
عشرت فاطمہ نے کہا کہ شکر ہے کہ اب تک ان کی آواز، سانس اور چہرے نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور انہوں نے ہمیشہ اپنے کام سے انصاف کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق پیسہ ان کی ترجیح نہیں تھا، مگر جب کام کرنے کی صلاحیت موجود ہو تو انسان کو کام کرنے کی جگہ اور عزت ملنی چاہیے، تاہم جب مقابلہ کام سے نہ کیا جا سکے تو منفی رویے اپنائے جاتے ہیں جو تکلیف دہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے طویل عرصے تک انتظار کیا کہ انہیں وہ مقام دیا جائے جس کی وہ مستحق تھیں، مگر بار بار یہ احساس دلایا گیا کہ اب ان کی ضرورت نہیں رہی۔ ویڈیو کے اختتام پر عشرت فاطمہ نے سامعین سے دعاؤں کی درخواست کی۔سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے معروف صحافی اسما شیرازی نے لکھا کہ عشرت فاطمہ ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور وہ ایک آئیکون، تحریک اور رول ماڈل ہیں، جبکہ دیگر صارفین نے بھی انہیں نیوز براڈکاسٹنگ کی ایک حقیقی لیجنڈ قرار دیا۔

