لاہور(ایجنسیاں)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت یا مذاکرات ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔ انہوں نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔
انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران عمران خان سے کسی کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ملاقاتوں کے بغیر کسی قسم کے مذاکرات کا آغاز نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی اور کہا کہ حکومت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔
اپوزیشن اتحاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں شریک ہوئے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اس سے قبل محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے کے بعد قوم اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھرپور احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور اپوزیشن سے مذاکرات اور عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار ہو گی۔
پی ٹی آئی نے پنجاب پولیس پر بھی اپنے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ قافلے کی آمد سے قبل کارکنوں کو رات گئے چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا جبکہ صوبائی دارالحکومت کی جانب آتے ہوئے قافلے پر نقاب پوش افراد نے حملہ بھی کیا۔

