کراچی(نمائندہ خصوصی)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے الزام لگایا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے قتل کروایا۔ کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ الطاف حسین نے 25 سال تک بھارتی خفیہ ایجنسی را سے پیسے لیے اور نشے کی حالت میں عمران فاروق کو ان کی سالگرہ کے دن قتل کروا کر 17 ستمبر 2010 کو خود کو سالگرہ کا تحفہ دیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم ڈرامہ باز انسان ہے اور ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ کی لاش پر بھی ڈرامہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں عمران فاروق کی اہلیہ کے انتقال پر میت پاکستان بھیجنے کیلئے چندا اکٹھا کیا گیا، جبکہ بانی ایم کیو ایم کے پاس بھاری رقوم ہونے کے باوجود اہلخانہ کیلئےپیسے موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ عمران فاروق کے قتل کے بعد اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں رکھا گیا اور اب بچوں کو لندن میں اس شخص سے بچنے کا مشورہ دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اپنے والد کے قتل کی تحقیقات کیلئےعدالت جائیں اور مقدمہ دائر کریں۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کو معلوم تھا کہ عمران فاروق کو کس نے قتل کیا، اسی لیے قتل کے بعد بچوں کو 15 دن تک چھپا کر رکھا گیا۔
وفاقی وزیر صحت نے بانی ایم کیو ایم کو مہاجر قوم کا سب سے بڑا غدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شہر کو تباہ کیا، تاہم ہم اس شہر کو دوبارہ اسی مقام پر لے جائیں گے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ صرف ٹریلر ہے اور الطاف حسین کو چیلنج کیا کہ آکر ہم سے بات کریں۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن میں ان کی رہائشگاہ کے قریب قتل کیا گیا تھا، جبکہ اس مقدمے میں 2015 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

