عمرانی سیاست؟ خان کو غور کرنا ہوگا!

سیاست اور انتخابی دھاندلی ہمارا دیرینہ مسئلہ ہے۔ جہاں تک انتخابی دھاندلی کا تعلق ہے تو یہ اس دور میں بھی ہوتی تھی جب سیاست مالی کرپشن سے ماوراء تھی البتہ سیاسی کرپشن ہوتی تھی، مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ 1951ء میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو مقابلے اچھے تھے۔ میں ان دنوں اپنے ٹیچر محمد یٰسین خان سے ٹیوشن پڑھنے شاہ عالمی دروازہ آیاکرتا تھا، اکبری دروازہ سے سرکلر باغات کی ٹھنڈی چھاؤں میں شاہ عالمی آتے ہوئے موچی دروازہ اور اس کے بعد شاہ عالمی دروازہ کے قریب باغ میں پولنگ ہو رہی تھی۔ میں جب شاہ عالمی والے پولنگ کے نزدیک پہنچا تو کئی جان پہچان والے کمپین کرتے مل گئے ان دوستوں نے روک لیا اور مجھے کہا کہ ایک ووٹ دے جاؤ۔ میری عمر کے حوالے سے ووٹر ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، لیکن دوستوں کا اصرار کہ کچھ نہیں ہوگا تو یقین جانیے میں نے اس عمر میں بھی ووٹ ڈالا اور مجھے روکا نہیں گیا اسے آپ نرم الفاظ میں جعلی ووٹنگ کہہ سکتے ہیں لیکن تھی تو یہ دھاندلی ہی نا، اسی طرح ایم پی اے حضرات کی وفاداریوں کا ایک واقعہ میرے والد محترم نے سنایا جو قیام پاکستان کے بعد کی سیاست میں دولتانہ گروپ سے منسلک تھے، وہ کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی میں دولتانہ صاحب کو ایک ووٹ کی ضرورت تھی، ضلع فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے وہ زمیندار مان نہیں رہے تھے، ممتازمحمد خان دولتانہ نے میرے والد صاحب سے کہا کہ وہ یہ فرض انجام دیں۔ چنانچہ وہ گاڑی لے کر متعلقہ ایم پی اے کے گاؤں پہنچے جو گاؤں سے باہر اپنے ڈیرے پر تھے اور لوگ بھی وہاں جمع تھے۔ خود ایک بڑے پلنگ پر گول تکئے سے ٹیک لگائے حقہ پی رہے تھے۔ میرے والد صاحب نے سلام کیا، اہل محفل نے جواب دیا، زمیندار ایم پی اے اٹھ کر ملے اور گلے لگایا، ساتھ لے کر پلنگ کی طرف گئے، لیکن والد صاحب زمین پر بیٹھ گئے اب تکرار شروع ہو گئی، میزبان کہتے یہ میری توہین ہے کہ لاہور سے مہمان آئے اور اس کی عزت و احرام نہ ہو، تکرار کے بعد والد صاحب نے کہا جب تک ان کی بات یا درخواست کے مثبت جواب کا وعدہ نہیں ہوگا وہ زمین پر ہی بیٹھیں گے، چار و ناچار تکرار کے بعد وعدہ ہو گیا، خاطر تواضع ہوئی اور والد صاحب نے واپس چلتے ہوئے اپنی درخواست سفارش اور دولتانہ صاحب کا پیغام پہنچا کر ووٹ کا تقاضا کر دیا، تب ایسا دور تھا کہ موصوف کو ہاں کہنا پڑی اور انہوں نے وعدہ بھی نبھایا۔

میں نے یہ واقعات اس لئے لکھے ہیں کہ 1958ء سے پہلے تک سیاسی الٹ پلٹ تھی جوڑ توڑ ہوتے تھے لیکن مالی کرپشن نہیں، دھڑے بندی تعلقات اور دوستیاں نبھائی جاتی تھیں، آج ہمارے بے شمار دوست و احباب ہیں جو اس دو رپر بھی تنقید کرتے ہیں جبکہ سکندر مرزا اور جنرل ایوب نے باری باری اقتدار پر قبضہ کے بعد بھی مالی کرپشن کا الزام زیادہ حضرات پر نہ لگایا اور ان کے خلاف بھی ثابت نہ ہوا، البتہ حسین شہید سہروردی کے علاوہ متعدد سیاست دان ایبڈو کے تحت نااہل اور نظر بند کئے گئے مجھے اتنا یاد ہے کہ حسین شہید سہروردی واحد سیاست دان تھے جنہوں نے اپنے خلاف کارروائی کو چیلنج کیا تھا لیکن کامیاب نہ ہوئے۔

ایوب خان کے دور میں مرکز میں جلد جلد وزارتوں کی تبدیلیوں کے پس منظر میں تو پروپیگنڈہ ہوا تھا اور اس سے پہلے جو فضا تھی اس سے عوام نے مارشل لاء کو خوش آمدید کہا تھا اور پھر جب مارشل لائی احکام نازل ہونا شروع ہوئے تو کھانے پینے کی اشیاء والی دکانوں پر جالیاں لگ گئیں تاہم اچھے بھلے چلتے کاروبار کو دھچکا لگایا گیا، مثلاً بلاوجہ خوراک اور اشیاء ضرورت کے نرخ مقرر کئے گئے اور خلاف ورزی پر سزاؤں کا اعلان کیا گیا، حالانکہ معاملات نارمل تھے، مثلاً دیسی گھی ان دنوں مارکیٹ میں چار روپے سے چار روپے دو آنے اور کہیں سوا چار روپے سیر میں فروخت ہو رہا تھا، مارشل لاء حکام نے اس کے نرخ چار روپے سیر مقرر کر دیئے، میں نے اپنے پیدائشی محلے اکبری منڈی میں اپنے دوست دکان داروں کو دیکھا کہ انہوں نے خوف سے اپنا سارا گھی فروخت کر دیا اور شہریوں نے قطاریں لگا کر لیا، ایوب دور کے بارے میں صنعتی ترقی کا ذکر کیا جاتا ہے جو درست تو ہے لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں بتایا کہ غیر ملکی قرض بھی اسی دور میں لیا جانا شروع ہوا اور سندھ طاس جیسا معاہدہ کرکے دریاؤں ہی سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔

بات تو سیاست کی کرنا ہے لیکن سوئی ادھر گھوم گئی اگرچہ یہ بھی سیاست ہی تھی اور ہے، اتنا بتا کر آگے بڑھتا ہوں کہ جب ایوبی دور میں جشن ترقی منایا گیا اور کراچی میں گوہر ایوب خان کی قیادت میں جلوس نکلا تو اس موقع پر سرکاری سرپرستی میں فائرنگ نے ہی لسانی سیاست پیدا کی اور ایم کیو ایم کے قیام کی ایک وجہ یہ بھی تھی، بہرحال ذکر مقصود ہے، سیاسی حالات کا تو قارئین! تاریخ شاہد ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا اور اب تک کیا ہو رہا ہے، سیاست نے بھی کئی رخ اختیار کئے اور اس وقت سیاست اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے ہوتے ہوئے بھی، اسی حکیم سے دوا لینے کی بھرپور کوشش ہے، موجودہ حکومت اور مقتدر حلقے ’اِک مِک“ ہیں اور ملک کی معیشت کی بحالی کے لئے مل کر کوشش کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی تعریف بھی کرتے ہیں، میں اگر ذکر کروں، حزب اختلاف کے سیاسی عمل کی تو مجھے نوابزادہ نصراللہ خان، خان عبدالولی خان اور اس دور کے سیاست دان یاد آتے ہیں، جو اپنے اصول کے پکے تھے لیکن ریاست مقدم تھی، جس کا ایک ثبوت 1965ء ستمبر کی پاک بھارت جنگ میں بھی ملا کہ ایوب خان نے متحدہ اپوزیشن کی امیدوار مادر ملت و محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی سے صدارتی الیکشن میں ہرایا ہوا تھا، ملک میں انہی کا نافذ آئین (1962) زیر عمل تھا، اس کے باوجود جب 6ستمبر کو حملہ ہوا تو یہی اپوزیشن چل کر ایوب خان کے پاس گئی اور اپنی بھرپور حمائت کا یقین دلایا، اسی طرح جب ذوالفقار علی بھٹو شملہ میں مذاکرات کے لئے بھارت گئے تو پوری اپوزیشن نے ان کی حمائت کی اور وہ بھرپور یقین کے ساتھ گئے، اندرا گاندھی سے مذاکرات ہوئے جو اولاً ناکام ہو گئے لیکن پھر بھٹو اور اندرا گاندھی کی ون او ون میٹنگ نے کرامت کر دکھائی اور شملہ معاہدہ ہو گیا، جنگی قیدی اور بھارت کے زیر قبضہ زمین بھی واپس ہو گئی۔

یہ ماضی کے سیاسی دور کا ذکر ہے، جب مخالفت بھی سخت تھی، جنرل ایوب نے تحریکوں کے نتیجے میں اقتدار چھوڑا اور ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ قومی اتحاد کی تحریک کے باعث الٹا گیا، تاہم فریقین مہذب تھے اور موقع کی نزاکت جانتے اور فیصلہ قومی مفاد میں کرتے تھے لیکن آج صورت حال مختلف ہے۔ سیاسی ماحول پراگندہ ہے، تحریک انصاف کسی بھی صورت حکمران اتحاد سے مذاکرات نہیں کرتی اور اب پھر سے پہلے سے ”درمیان میں کھڑے“ علی امین گنڈا پور کو پھر سے مقتدر حلقوں سے بات چیت کا ٹاسک دے دیا ہے، سیاسی ناقدین اور تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ حالات برقرار رہے اور میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلنے ہی کی حکمت عملی رہی تو ملک میں سیاسی استحکام خواب ہی رہے گا اور عوام بے چارے منہ تکتے رہیں گے۔ یوں اگر دیکھا جائے تو عمرانی سیاست کا قبلہ درست نہیں، ضرورت قومی اتفاق رائے ہی ہے موجودہ موقف اور صورت حال سے یہ ممکن نہیں، بہتر ہوگا کہ خان صاحب غور فرمائیں اور مخالف ٹیم کی بیٹنگ کا اندازہ لگا کر فیلڈ اورباؤلنگ ملکی مفاد میں کرائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں