غربت کا بڑھتا ہوا بوجھ اور ریاستی ترجیحات کا امتحان

مالی سال25-2024 کے ابتدائی تخمینوں نے پاکستان کی معیشت کی ایک بے رحم تصویر پیش کی ہے۔ ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر تقریباً 29 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو گزشتہ گیارہ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ آج اندازاً سات کروڑ افراد ماہانہ 8484 روپے کی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آمدنی میں عدم مساوات کا اشاریہ 32.7 تک پہنچ چکا ہے، جو 1998 کے بعد سب سے زیادہ ہے، جبکہ بے روزگاری 7.1 فیصد تک بڑھ کر اکیس برسوں کی بلند ترین حد کو چھو رہی ہے۔ دیہی غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد اور شہری غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان ، سب میں غربت اور عدم مساوات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ محض معاشی گراف نہیں، ایک معاشرتی ہلچل کا پیش خیمہ ہیں۔

جب کروڑوں افراد بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکیں، جب متوسط طبقہ سکڑتا جائے اور نوجوان بے یقینی کے اندھیرے میں مستقبل تلاش کر رہے ہوں تو مسئلہ محض معیشت کا نہیں رہتا، یہ ریاستی ترجیحات کا سوال بن جاتا ہے۔ اگر ترقی کے ثمرات محدود حلقوں تک مرتکز رہیں اور عام شہری تک نہ پہنچیں تو عدم مساوات صرف اعداد میں نہیں بلکہ ذہنوں اور دلوں میں گہری ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں مایوسی غصے میں اور غصہ بے اعتمادی میں بدل جاتا ہے۔

ایسے میں سب سے کڑا سوال حکمرانی کے معیار پر اٹھتا ہے۔ ایک طرف کروڑوں شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں اور دوسری طرف ریاستی وسائل پر پروٹوکول، لگژری گاڑیوں، خصوصی طیاروں، نمائشی منصوبوں اور غیر ضروری بیرونی دوروں پر اربوں روپے خرچ ہوں تو یہ تضاد محض سیاسی نہیں، اخلاقی بحران ہے۔ یہ طرزِ عمل عوام کے اعتماد کو کھوکھلا کرتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ اقتدار خدمت نہیں بلکہ سہولت کا نام ہے۔ معاشی بحران کے دور میں شاہانہ طرزِ زندگی نااہلی سے بڑھ کر بے حسی کی علامت بن جاتا ہے۔

اس بے حسی کا علاج نرم بیانات یا وقتی اعلانات نہیں بلکہ سخت اور غیر مبہم قوانین ہیں۔ مالیاتی نظم و ضبط کو آئینی حیثیت دینا ہوگی تاکہ حکمرانوں کے اخراجات، سرکاری مراعات، پروٹوکول اور غیر ترقیاتی خریداریوں پر واضح قانونی حدود ہوں۔ان حدود سے تجاوز کو قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے، جس میں بر طرفی ، ااہلی اور فوری جوابدہی شامل ہو۔ ہر وزارت اور ہر اعلیٰ عہدیدار کے اخراجات کی مکمل تفصیل عوام کے سامنے لانا لازمی قرار دیا جائے۔ قومی خزانے کا ہر روپیہ عوامی امانت ہے اور اس کا حساب دینا قانونی ذمہ داری ہونا چاہیے، نہ کہ اخلاقی اپیل۔

سرکاری طیاروں، لگژری گاڑیوں اور دیگر غیر ضروری خریداریوں کو پارلیمانی نگرانی اور شفاف منظوری سے مشروط کیا جائے تاکہ کوئی بھی حکومت اپنی صوابدید پر قومی وسائل کو ضائع نہ کر سکے۔ حکمرانوں کی مراعات کو معاشی کارکردگی سے منسلک کرنا چاہیے؛ اگر غربت، بے روزگاری یا مالی خسارہ بڑھتا ہے تو سرکاری آسائشیں خودکار طور پر کم ہوں۔ قیادت کی سادگی علامتی نہیں بلکہ عملی پیغام ہوتی ہے، جو اعتماد بحال کرتی ہے اور قربانی کے مطالبے کو اخلاقی جواز دیتی ہے۔

مالیاتی اصلاحات کے بغیر یہ تمام اقدامات ادھورے رہیں گے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، بڑے شعبوں کو دستاویزی معیشت میں لانا اور براہِ راست و منصفانہ ٹیکس نظام کی طرف پیش رفت ناگزیر ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کیے بغیر اور اشرافیہ کو دی گئی غیر ضروری مراعات ختم کیے بغیر آمدنی کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں۔ ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں پر بلا امتیاز کارروائی ہی ریاستی رٹ کو مضبوط کر سکتی ہے۔

معیشت کو کھپت پر مبنی ڈھانچے سے نکال کر پیداواری بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ زرعی ویلیو ایڈیشن، صنعتی تنوع، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی معاونت اور آئی ٹی و خدمات کے شعبے کی توسیع روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، فنی تربیت اور خواتین کی معاشی شمولیت کو ترجیح دینا ناگزیر ہے تاکہ نوجوان آبادی بوجھ کے بجائے طاقت میں تبدیل ہو سکے۔

سماجی تحفظ کے پروگراموں کو بھی وقتی نقد امداد سے آگے بڑھانا ہوگا۔ امداد کو ہنر، روزگار اور کاروباری معاونت سے جوڑ کر خود کفالت کا راستہ فراہم کرنا ضروری ہے۔ مستقل روزگار ہی وہ ذریعہ ہے جو عزتِ نفس کو بحال کرتا ہے اور معیشت کو مضبوط بناتا ہے۔

یہ وقت رسمی بیانات یا نمائشی اصلاحات کا نہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ریاست کو اپنے طرزِ حکمرانی پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ سخت مالیاتی قوانین، شفاف احتساب، منصفانہ ٹیکس نظام اور سادہ طرزِ قیادت کے بغیر کوئی بھی معاشی پالیسی پائیدار نہیں ہو سکتی۔ اگر قومی وسائل کو امانت سمجھ کر دیانت، نظم و ضبط اور مثال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بحران کو استحکام میں بدلا جا سکتا ہے۔ ورنہ اعداد و شمار محض رپورٹوں میں نہیں بلکہ سماجی اضطراب کی صورت میں سامنے آئیں گے۔

پائیدار خوشحالی نعروں سے نہیں، کردار سے جنم لیتی ہے۔