شکر ہے اس ہٹ دھرمی کے سیاسی دور میں اپوزیشن اور حکومت کسی ایک بات پر تو متفق ہوئیں ،،، اور وہ ہے تنخواہوں میں اضافہ۔ جی ہاں! پہلے کا تو مجھے یاد نہیں ،، مگر 2018ء سے آج تک قومی و صوبائی اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن اراکین اگر کسی بات پر اکٹھا ہوئے ہیں تو وہ ہے تنخواہوں میں اضافہ،، اور یہ اضافہ اب 200فیصد بڑھانے کے لیے تگ و دو کی جا رہی ہے۔یقین مانیں! تنخواہوں میں اضافے کی بات پر تو دونوں جانب سے ایسے رالیں ٹپک رہی ہیں اور ساتھ ہی ایک دوسرے کے ساتھ ایسے انداز میں مسکراہٹوں کا تبادلہ کررہے ہیں جیسے ایک مظلوم اور حاجت مند کی حاجت پوری ہو گئی ہو، جیسے بے گھر کو گھر مل گیا ہو، یا بے روزگار کو روزگار مل گیا ہو۔۔۔ اور پھر ڈھٹائی ایسی کہ ماسوائے چند ممبران قومی و صوبائی اسمبلیوں کے یہ اپنے آپ کو اس قدر مجبور، لاچار اور بے یار ومدد گار سمجھتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ ان کا تو بس نہیں چلتا کہ یہ سیلاب زدگان، آٹے کی تقسیم یا بے نظیر انکم سپورٹ سکیم حاصل کرنے والی لائنوں میں لگ جائیں۔ ویسے لگتے بھی ہوں گے،،، کیا علم ؟ لیکن یہ لائنیں وہ نہیں ہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں،، بلکہ اندر کھاتے فنڈز ہڑپ کرنے والوں کی لائنیں ہوں گی،،، نہیں یقین تو آپ ہرسال کی آڈٹ رپورٹ پڑھ لیں۔ جتنے ترقیاتی کام ہو تے ہیں تو ان سب میں منتخب نمائندوں کا کمیشن ہوتا ہے،،، یہاں پر بھی نہیں یقین تو کسی سرکاری ٹھیکیدار کو کرید کر دیکھ لیں،،، آپ کے سامنے سب کچھ رکھ دے گا۔ لہٰذاباز آجائیں،،، دونوں ہاتھوں سے اکٹھا نہ کریں،،، آپ تھوڑے بہت پیسے اْن میں سے بھی لگالیں جو آپ نے اسی سیاست کی بدولت بے شمار فیکٹریاں لگائی ہیں۔۔۔ میری اطلاعات کے مطابق 99فیصد ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اس وقت صاحب استطاعت ہیں،،، اور 80فیصد ایسے ہیں جو اپنے کاروبار کو بڑھانے اور اْس کیڈھال بننے کے لیے سیاست میں آئے ہیں۔ بلکہ انہی 99فیصد کو چاہیے کہ جو ایک فیصد ممبران قومی و صوبائی اسمبلی غریب رہ گیا ہے،،، اپنے پیٹی بھائی ہونے کے ناطے اْن کی بھی مدد کریں۔ ویسے ایک سوال میرے ذہن میں آتا ہے، کہ اگر ممبر اسمبلی اتنا ہی غریب تھا تو الیکشن جیتنے کے لیے جو کم از کم پانچ دس کروڑ روپے چاہیے ہوتے ہیں وہ کہاں سے لیے تھے؟ اور جس بندے نے اتنا پیسہ الیکشن میں اْڑا دیا ہو، تو اْسے سیاست کو عبادت سمجھ کر ہی اپنی تنخواہ چھوڑ دینی چاہیے۔۔۔ لیکن اس پر بھی شرط ہے کہ ’’ممبر‘‘ صاحب اس نیت سے ایوان میں تشریف لائے ہوں کہ وہ عوام کی خدمت کرنے جارہے ہیں،،، ورنہ تو یوں ہوتا ہے کہ اگر کوئی مجھ جیسا بندہ ممبر بن جائے تو راہ چلتے لوگوں سے کہتا پایا جاتا ہے کہ کوئی ’’فائل‘‘ وغیرہ لاو،،، جس میں کچھ پیسے تمہیں بھی بچیں اور کچھ مجھے بھی! اور پھر میرے جیسا ممبر اکثر مروت میں ہی مارا جاتا ہے،،، کہ یار اب اس بندے سے کیا ہی پیسے لیے جائیں،،، جس کا کام ہی جینین تھااور بندہ بھی مجبور تھا! لیکن پھر اگر ممبرز کا کہیں چارہ نہیں چلتا تو یہ لوگ اہم پوسٹوں پر اپنے بندے بٹھا دیتے ہیں،،، جن میں ’’سب رجسٹرار‘‘ سب سے اہم ہوتا ہے،،، پھر یہ پٹواری سے لے کر تمام محکموں تک سبھی سے پیسے کھاتے ہیں۔ خیر بات ہو رہی تھی ممبران قومی اسمبلی کی تنخواہ میں 2سو فیصد اضافے کی تو قارئین،،، مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے،،، کہ اگر ممبر 2لاکھ روپے تنخواہ لیتا ہے اور اْس کی تنخواہ 6لاکھ ہو جائے ،،، اور الاوئنسز بڑھا کر 1لاکھ روپے سے 5لاکھ کر دیے جائیں،،، ویسے بھی تو میرے سوہنے ملک میں جب ججز 15سے 20لاکھ روپے تنخواہ لیتے ہیں،،، بیوروکریسی 10سے 15لاکھ روپے یا بعض کیسز میں تو یہ 30،30لاکھ روپے ماہانہ بھی لیتی ہے تو میری کیا مجال کہ میں ان سیاستدانوں کی ناراضگی مول لوں۔ لیکن مہربانی فرما کر انصاف کریں،،، کہ کیا آپ نے سیاست میں اس لیے قدم رکھا تھا کہ اس کو کمائی کا ذریعہ بنائیں؟ کیا آپ عوام کی حالت نہیں دیکھ رہے؟ یقین مانیں مجھے گزشتہ روز یہ خبر پڑھ کر خوشی ہوئی کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ایف بی آر کی 1000گاڑیاں خریدنے کے اقدام کا نوٹس لے لیا ہے،،، ویسے مجھے لگا کہ شاید انہوں نے میرے کالم کو پڑھ کر ایسا قدم اْٹھایا ہے،،، لیکن میں نے سر کو جھٹک دیا کہ نہیں نہیں! کبھی اپنے اندر خوش فہمی یا غلط فہمی نہیں پالنی،،، یہ دونوں ہی بہت تکلیف دیتی ہیں! لیکن یہ کیا؟ کہ آپ نے اْن کی گاڑیاں روک کر اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے،،، یہ تو قومی خزانے کی بندر بانٹ ہوئی ناں! کوئی محب وطن بھلاایسے کیسے کر سکتا ہے؟ کہ عوام کو آپ 49فیصد تک مہنگائی میں جھونک کر اْس کی آمدنی میں 10فیصد اضافہ کریں اور خود کی آمدن میں 200فیصد تک اضافہ کریں؟ خدا کا خوف ہے یا نہیں؟ اور پھر شرم تو اس بات پر بھی آنی چاہیے کہ ابھی گزشتہ ماہ ہی اراکین اسمبلی کی تنخواہ میں چار سو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے،،، یعنی اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار روپے سے بڑھا کر چار لاکھ روپے کردی گئی ہے۔جبکہ صوبائی وزرا کی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر نو لاکھ 60 ہزار روپے کی گئی ہے۔جبکہ ہمارے دوست اسپیکر پنجاب اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے سے بڑھ کر نو لاکھ 50 ہزار روپے جب کہ ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 20 ہزار روپے سے بڑھ سات لاکھ 75 ہزار روپے ہوگی۔اِسی طرح پارلیمانی سیکرٹریز کی تنخواہ 83 ہزار روپے سے بڑھا کر چار لاکھ 51 ہزار روپے اور اسپیشل اسسٹنٹ کی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔حد تو یہ ہے کہ بل میں صوبائی حکومت کے مشیروں کی تنخواہ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور اسے ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔مطلب! لٹ ہی مچا دی گئی ہے!مجھے بتائیں کہ دنیا کے کس ملک میں آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں سیاستدان اس لیے بنتے ہیں کہ اچھی تنخواہ ملے گی،،، اچھے الاونسز ملیں گے،،، یا پروٹوکول ملے گا! آپ اپنے بھائی بنگلہ دیش کو چیک کر لیں جہاں ممبر اسمبلی کی تنخواہ محض 55ہزار ٹکا یعنی پاکستانی ایک لاکھ روپے کے قریب ہے،،، سری لنکا میں 54ہزار،،، ایران میں 180ڈالر ماہانہ یعنی 50ہزار پاکستانی روپے،،، جبکہ انڈیا میں 2لاکھ روپے ماہانہ ہے،،، لیکن ہم جیسے تیسرے درجے کے ملک میں کہیں پر بھی 6لاکھ روپے ماہانہ نہیں ہے۔۔۔ اس لیے عوام کا خیال کریں! میں بطور مقروض عوام اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔ خدمت کرنے پیسے کیوں؟ لیکن اگر پھر بھی تنخواہ میں اضافہ ناگزیر ہے تو پھر جس طرح 10،15یا 20فیصد اضافہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ہوتا ہے،،، اْتنا ہی اضافہ ان کی تنخواہوں میں بھی کر دیا جائے۔ورنہ عوام کو ایک ہی بار مار دیا جائے۔

