واشنگٹن(ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ (بورڈ آف پیس) کے چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو ارسال کر دیا گیا ہے، جس میں طویل مدت کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کی شرط عائد کی گئی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق چارٹر میں کہا گیا ہے کہ وہ ممالک جو غزہ امن بورڈ میں تین سال سے زائد مدت کی رکنیت حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں ایک ارب ڈالر سے زائد فنڈ فراہم کرنا ہوگا۔ چارٹر کے تحت ہر رکن ملک چارٹر کے نفاذ کی تاریخ سے تین سال کی مدت تک خدمات انجام دے گا، جبکہ بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
چارٹر کے مطابق تین سالہ رکنیت کی شرط ان ممالک پر لاگو نہیں ہوگی جو پہلے سال میں بورڈ کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد نقد رقم فراہم کریں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق میجر جنرل جیسپر جیفرز کو عالمی استحکام فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بورڈ آف پیس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ کیلئے خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں، جبکہ آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام کو بورڈ کے سینئر مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق نکولے ملادینوف کو بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو رکن اور غزہ کیلئےنمائندہ اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے۔
گزشتہ سال اعلان کردہ منصوبے کے تحت غزہ امن بورڈ کے سربراہ خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے۔

