غزہ سٹی (الجزیرہ/اے ایف پی) — اسرائیلی فوج کی تازہ بمباری اور فائرنگ میں غزہ شہر کے صابرہ محلے میں ایک ہی خاندان کے کم از کم 25 افراد شہید ہو گئے، جبکہ اتوار کی صبح سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 55 تک پہنچ گئی۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے علی الصبح صابرہ محلے میں کئی گھروں کو نشانہ بنایا۔ یہ علاقہ اگست کے آخر میں اسرائیلی ٹینکوں کی پیش قدمی اور قبضے کے منصوبے کے تحت پہلے ہی بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔
امدادی کارکنوں نے بتایا کہ اب تک کم از کم 17 افراد کو زندہ نکالا گیا ہے جبکہ خدشہ ہے کہ تقریباً 50 افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اہل خانہ نے فوری مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اب بھی ملبے کے نیچے سے زندہ افراد کی آوازیں آ رہی ہیں۔
عینی شاہدین نے الزام لگایا کہ اسرائیلی ڈرونز امدادی کارکنوں پر فائرنگ کر رہے ہیں۔ ایک شخص نے الجزیرہ کو بتایا”جب بھی ہم ملبہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو ڈرونز فائر کھول دیتے ہیں، ہر پانچ میں سے چار لوگ شہید ہو جاتے ہیں اور صرف ایک ہی بچتا ہے۔”
وسطی غزہ کے بریج پناہ گزین کیمپ میں بھی اسرائیلی فضائی حملے میں سات فلسطینی شہید ہوئے جن میں چار بچے شامل تھے۔ یہ حملہ اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کے ایک کلینک کے قریب کیا گیا۔
غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 65 ہزار 283 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 66 ہزار 575 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ بھوک اور قحط سے ہونے والی اموات کی تعداد 440 ہے جن میں 147 بچے شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اتوار کو مزید عمارتوں کو دھماکوں سے اڑا دیا تاکہ غزہ شہر پر قبضے کی کارروائی کو تیز کیا جا سکے۔ فوج کے مطابق تین ڈویژنز غزہ شہر اور شمالی غزہ میں جبکہ ایک ڈویژن خان یونس میں کارروائی کر رہی ہے۔
الجزیرہ کے ہانی محمود نے نصیرات پناہ گزین کیمپ سے رپورٹ کیا کہ ڈرون حملوں اور راستوں میں نصب ریموٹ کنٹرول دھماکا خیز مواد کے خوف سے لوگ اپنے گھروں سے نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ستمبر کے آغاز سے اب تک ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو غزہ شہر سے بے دخل کیا جا چکا ہے، تاہم حماس کا کہنا ہے کہ یہ تعداد تین لاکھ سے بھی کم ہے اور تقریباً نو لاکھ لوگ اب بھی شہر میں موجود ہیں۔

