اوٹاوا(نمائندہ خصوصی)کینیڈا کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ کی جانب امداد لے جانے والے فلوٹیلا کو روکتے ہوئے دو کینیڈین شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق قونصلر اہلکار مقامی حکام کے رابطے میں ہیں اور حراست میں لیے گئے شہریوں کو ضروری معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
غزہ فلوٹیلا میں 40 سے زائد غیر فوجی کشتیوں پر تقریبا 500 افراد شامل تھے جن میں پارلیمانی اراکین، وکلاء اور فعال کارکن شامل تھے، جبکہ سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھن برگ بھی اس میں شامل تھیں۔ فلوٹیلا کا مقصد غزہ میں بلاکڈ علاقے کے لیے دوا اور خوراک پہنچانا تھا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے کہ اس اقدام میں کتنے کینیڈین شہری شریک تھے، تاہم قونصلر عملہ ان افراد سے رابطے میں ہے اور جو مدد طلب کریں ان تک پہنچا رہا ہے۔
یہ واقعہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بلاکڈ کی جانے والی پابندی کو توڑنے کی کوشش کے دوران پیش آیا۔کینیڈا کی حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے پرعزم ہے اور مقامی حکام کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ حراست میں لیے گئے شہریوں کی سلامتی اور واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

