نیویارک( اے ایف پی/رائٹرز )— امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دنیا غزہ میں امن چاہتی ہے تو اسے تمام 20 یرغمالیوں کی فوری رہائی کی حمایت کرنی ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے 57 منٹ طویل خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ اپنے مقصد اور استعداد کار کے مطابق کام نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات ماہ میں سات جنگیں انہوں نے بند کروائیں، جن میں بعض تین دہائیوں سے جاری تھیں، تاہم اس حوالے سے اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ وہ پاک بھارت جنگ رکوانے سمیت کئی تنازعات ختم کرا چکے ہیں لیکن اقوام متحدہ محض کھوکھلے الفاظ تک محدود رہا۔ ٹرمپ نے کہا کہ “ہم غزہ سے تمام 20 یرغمالیوں کی فوری رہائی چاہتے ہیں، اگر امن چاہتے ہیں تو یرغمالیوں کی رہائی کی حمایت کریں۔”
امریکی صدر نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دراصل حماس کو انعام دینے کے مترادف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس نے ہمیشہ امن معاہدوں کو مسترد کیا اور جنگ بندی کی کوششوں کو ناکام بنایا۔
ٹرمپ نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ سے انہیں معاشی بربادی ورثے میں ملی، مگر اب امریکا دنیا کی سب سے مضبوط معیشت اور فوج رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی کم ہوچکی ہے، اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر ہے اور تنخواہوں میں 60 برس کی بلند ترین شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے جبکہ سابقہ پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں افراد امریکا میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے عالمی سطح پر غیر قانونی ہجرت کو بھی سنگین خطرہ قرار دیا۔
روس یوکرین جنگ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر روس جنگ ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تو اس پر مزید ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ انہوں نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ روس سے توانائی کی خریداری فوری طور پر بند کریں۔
ایران کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ بی ٹو طیاروں کے ذریعے ایران کی جوہری صلاحیت کو تباہ کر دیا گیا تھا اور امریکا کبھی ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکی صدر نے بایولوجیکل ہتھیاروں پر مکمل پابندی کی حمایت کی اور کہا کہ امریکا ایک نئے عالمی اقدام کی قیادت کرے گا جس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تصدیقی نظام شامل ہوگا۔
ٹرمپ نے لندن کے میئر صادق خان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ شریعت کا قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ مہنگی گرین انرجی اور امیگریشن آزاد دنیا کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اگر ملک دوبارہ عظیم بننا چاہتے ہیں تو انہیں مضبوط سرحدوں اور روایتی توانائی کے ذرائع کو اپنانا ہوگا۔
خطاب کے دوران ٹیلی پرامپٹر میں تکنیکی خرابی بھی پیش آئی، تاہم اس کے باوجود ٹرمپ کا خطاب جنرل اسمبلی کی تاریخ کا سب سے طویل خطاب قرار پایا۔

