غزہ/لندن/پیرس(ایجنسیاں)غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں اور امدادی سامان کی بندش کے نتیجے میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھوک اور غذائی قلت کے باعث مزید 9 شہری جان کی بازی ہار گئے، جس سے اب تک بھوک سے جاں بحق افراد کی تعداد 122 ہو چکی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 83 بچے شامل ہیں۔
ادھر، الجزیرہ عربی کے مطابق، جمعہ کی صبح سے اسرائیلی بمباری میں کم از کم 52 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ شہداء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
ایک سابق امریکی فوجی، جو غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے ساتھ کام کر چکا ہے، نے بی بی سی کو انٹرویو میں بتایا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے شہریوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا — جسے ماہرین بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم قرار دے رہے ہیں۔

جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے سربراہان نے اسرائیل سے فوری طور پر غزہ میں امدادی سامان کے داخلے پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قحط کا شکار آبادی تک ریلیف پہنچائی جا سکے۔واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے جاری حملوں میں اب تک 59676فلسطینی شہید اور تقریباً 144000افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ کے 221 اراکین نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق کانفرنس سے قبل فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں۔ یہ مطالبہ ایک بین الجماعتی کھلے خط میں کیا گیا ہے، جس پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے دستخط کیے۔
اسی سلسلے میں جمعہ کو لندن میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ تک خوراک کی رسائی بحال کرنے اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔فرانس کے صدر نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کرے گا۔

