غزہ میں بھوک سے 4 بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق، اسرائیلی حملوں میں مزید 43 شہید

غزہ/دوحہ/نیویارک ( الجزیرہ، اقوام متحدہ، سیو دی چلڈرن)—غزہ میں آج صبح سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں کم از کم 43 فلسطینی شہید ہوئے ہیں، جن میں امداد کی تلاش میں جانے والے شہری بھی شامل ہیں، جبکہ غذائی قلت اور بھوک کے باعث 4 بچوں سمیت کم از کم 15 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صورتحال کو غزہ میں سنگین انسانی بحران اور قحط کے بڑھتے ہوئے خدشات کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

طبی ذرائع اور غزہ کی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور حملوں سے آج مجموعی طور پر 43 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں سے کم از کم 10 افراد امدادی مراکز کے قریب خوراک اور دیگر امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران نشانہ بنے۔

وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک اور غذائی قلت سے کم از کم 15 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی اسپتالوں—الشفا، الاد Aqsa شہداء ہسپتال دیر البلح، اور ناصر ہسپتال خان یونس—میں غذائی کمی سے متعلق اموات میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مئی کے اواخر سے اب تک غزہ میں خوراک کے حصول کی کوشش کرنے والے 1,000 سے زائد فلسطینیوں کی اموات اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے منسلک کی گئی ہیں؛ ان میں سے بڑی تعداد امریکا و اسرائیل کی حمایت یافتہ ’’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF)‘‘ کے امدادی مقامات کے قریب واقع ہوئی۔

“امدادی رسائی اور انسانی بحران”

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (اوچا) اور یو این آر ڈبلیو اے کی فیلڈ مانیٹرنگ کے مطابق غزہ میں خاندان بدستور عدم تحفظ، بار بار نقل مکانی، بھوک، ناکافی صاف پانی، اور صحت خدمات تک محدود رسائی جیسے شدید بحرانوں سے دوچار ہیں۔ بچوں اور خواتین کے لیے غذائی قلت اور حفاظتی خطرات میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جبکہ امدادی تقسیم کے مقامات پر بھی ہلاکتوں اور زخمیوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

غذائی رسائی کی ناکافی صورتحال پر سیو دی چلڈرن کی انسانی ہمدردی کی ڈائریکٹر ریشل (ریچل) کمنگز نے دیر البلح سے گفتگو میں بتایا کہ بازار خالی ہیں، صاف پانی ناکافی ہے، اور پوری آبادی قحط کے دہانے پر کھڑی ہے؛ ان کے مطابق بچے خالی پیالے لے کر خوراک و پانی کی تلاش میں پھر رہے ہیں۔

“امدادی مقامات پر ہلاکتیں”

الجزیرہ اور اقوامِ متحدہ سے منسلک ذرائع کے مطابق امدادی قطاروں، خوراک کے مراکز اور قافلوں کے قریب فائرنگ اور ہلاکتوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یو این ہیومن رائٹس دفتر نے بتایا کہ بڑی تعداد میں اموات اُن علاقوں میں ہو رہی ہیں جہاں شہری خوراک لینے کے لیے جمع ہوتے ہیں، جن میں GHF کے مقامات بھی شامل ہیں۔

غزہ میں جاری جنگ اور محاصرہ (جسے مارچ میں جزوی طور پر ڈھیلا کیا گیا تھا لیکن امدادی رکاوٹیں برقرار ہیں) کے سبب غذائی کمی، صاف پانی کی قلت اور صحت کے نظام کی تباہی میں شدت آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور امدادی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ اگر بلا رکاوٹ انسانی رسائی ممکن نہ ہوئی تو قحط ناگزیر ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں