غزہ میں ہولناکیاں تیسرے خوفناک سال میں داخل ہو رہی ہیں:انتونیو گوتریس

نیویارک( اے پی پی/رائٹرز )— اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک انتشار انگیز دور سے گزر رہی ہے جبکہ غزہ میں جاری ہولناکیاں تیسرے سال میں داخل ہو گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے افتتاحی خطاب میں گوتریس نے کہا کہ ’’ہم ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جو انتشار اور مسلسل انسانی مصائب سے عبارت ہے، اقوام متحدہ میں آپ کے وضع کردہ اصول محاصرے میں ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کو انسانیت کی بقا کی عملی حکمتِ عملی کے طور پر قائم کیا گیا تھا، لیکن آج یہ ادارہ بڑے امتحانات سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ، یوکرین اور سوڈان کے تنازعات سفارتکاری کے بغیر ختم نہیں ہو سکتے۔

سیکریٹری جنرل نے اسرائیل کی غزہ میں جاری کارروائیوں پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ’’غزہ میں یہ ہولناکیاں تیسرے خوفناک سال میں داخل ہو رہی ہیں، یہ ایسے فیصلوں کا نتیجہ ہیں جو بنیادی انسانیت کو رد کرتے ہیں، میری مدت میں یہ موت اور تباہی کا سب سے بڑا پیمانہ ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ غزہ جنگ میں اقوام متحدہ نے اپنی تاریخ کا سب سے زیادہ عملہ کھویا ہے، جس سے انسانی بحران کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں بڑھتے سمندروں، بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، اور خود مختار ریاستوں پر حملوں کو عالمی خطرات قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دنیا تعاون کے ذریعے تبدیلی لا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’آئیے مل کر ایک ایسی اقوام متحدہ میں سرمایہ کاری کرنے کا انتخاب کریں جو ڈھلے، اختراع کرے اور دنیا کے ہر انسان کے لیے خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو‘‘۔گوتریس کے مطابق ادارے کو اس وقت شدید مالی بحران کا سامنا ہے، جس کے باعث 2026ء کے بجٹ میں تقریباً 500 ملین ڈالر کی کٹوتی کی گئی ہے اور اصلاحاتی منصوبہ UN80 نافذ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں بڑی طاقتوں کی تقسیم نے اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، تاہم وہ اصلاحات اور شفاف اقدامات کے ذریعے ادارے کو فعال بنانے کیلئےپرعزم ہیں۔انہوں نےتقریر کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا: ’’امن کیلئے، وقار کیلئے، انصاف کیلئے، انسانیت کیلئے، میں کبھی ہار نہیں مانوں گا‘‘۔

اپنا تبصرہ لکھیں