امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایک کھلا راز پھر سے آشکار کیا اور اب کھلے الفاظ میں مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ معاہدہ ابراہیمی پر عمل کریں اور اسرائیل کو تسلیم کرکے اس کے ساتھ تعلقات بحال کرلیں، اس سے خطے میں امن ہو جائے گا، اب انہوں نے ذرا واضح انداز میں بات کی، پہلے وہ غزہ کے حوالے سے ایسا کرتے رہے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس واضح نصیحت کے ساتھ ہی یہ خبر بھی ہے کہ اسرائیلی کابینہ نے غزہ پر مکمل قبضے کا فیصلہ کرلیا اور نسل کشی کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اب عملی اور کھلا اعلان کیا ہے۔ یہ سب پہلے سے ظاہر تھا، فرق صرف یہ ہے کہ ہم نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی تھیں اور ہر بار مذمت پر گزارہ کر رہے تھے جب بھی اسرائیل کے کسی نئے ظلم کی خبر آتی۔ او آئی سی کے اراکین بھرپور مذمت کرتے، جب سے فلسطینی عوام کی نسل کشی شروع ہوئی اور عرصہ سے ان مظلوم لوگوں پر قیامت برپا کر دی اور کھانے پینے سے محروم کر دیا گیا، اب ان مناظر کی جو ویڈیوز الیکٹرونک میڈیا یا سوشل میڈیا کی وساطت سے ہم سب تک پہنچتی ہیں، ان کو دیکھ کر تو خود مرنے کو جی چاہنے لگتا ہے۔ ایسا ظلم تاریخ میں بھی نہیں پڑھا تھا، میں تو بچپن میں مشرقی پنجاب سے مہاجروں کی آمد بھی دیکھ چکا ہوا ہوں، اگرچہ میں نے خود خون آلود افراد اور نعشیں نہیں دیکھیں لیکن اپنے والد محترم سے ان کا آنکھوں دیکھا حال ضرور سنا اور والٹن والے مہاجر کیمپ میں اپنے والد کی کزن اپنی پھوپھی کی تلاش کرتے ہوئے جو دیکھا وہی تحت الشعور میں اس حد تک محفوظ ہو چکا کہ کئی بار خواب میں دہشت کے منظر نظر آتے ہیں،لیکن جو غزہ میں ہو رہا ہے اس کے بارے میں تو سوچا ہی نہیں جا سکتا۔ نہتے لوگوں پر بمباری، ٹینک اور دورمار رائفلوں سے گولیوں کی برسات، پانی اور خوراک کی قلت نہیں،قحط کی صورت ہے۔ دنیا بھر سے مظلوموں کی امداد کے حوالے سے جو ٹرک بھیجے گئے ا ن کو داخلے کی اجازت نہیں اور پھر ان بھوکے ننگے، مظلوم افراد کا تماشہ بنانے کے لئے امداد کے نام سے فضائی مدد پھینکنے کے سین، ایک نئی ہی صورت حال کا پتہ دیتے ہیں۔ اب توحالت اور نوبت یہ آ گئی کہ لوگوں کا صبر ختم ہو گیا اور امداد کی بو سونگھتے اور ہوا آتے محسوس کرکے دوڑ پڑتے ہیں، زندگی کتنی عزیز ہوتی ہے ان ویڈیوز سے ظاہر ہے اس کے باوجود انسانیت کے نام پر شو لگانے والی اشرافیہ اور اس نسل کے حکمرانوں کی طرف سے وہ ردعمل نہیں جو ان ممالک کے باشندے اور رہائشی عظیم مظاہروں کے ذریعے مطالبہ کرتے ہیں، اب اتنا دکھ ہوا کہ فرانس، برطانیہ اور ایسے اکا دکا ممالک نے ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا اور ستمبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کے اجلاس تک اسے موخر کر دیا، شاید وہ غزہ کے لوگوں کی نسل کشی مکمل ہونے کے منتظر ہیں۔
قارئین!میں نے دیر بعد اس مسئلہ پر قلم اٹھایا کہ پھر سے مجھے وہی سب یاد آ جاتا ہے جو قیامت کی آمد کے حوالے سے آگاہی کے طور پر ہمیں بتایا گیا اور پھر مجھے قرآن حکیم اور رسول ؐ اکرم کے فرامین آگاہی بھی یاد آجاتے ہیں،آپ سب مجھے خبطی کہہ سکتے ہیں لیکن میں عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ ہم سب خو دغرض ہو چکے ورنہ ہمیں تو قدم قدم پر آگاہ کیا گیا، قرآن کریم میں اللہ نے کھل کر پچھلی قوموں کا حال بیان کیا، ان کی نیکیوں اور نافرمانیوں کی بات ہوئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ کس کس نافرمان قوم کو کیسی کیسی سزا دی گئی، اسی کتاب حکمت سے ہمیں معلوم ہوا کہ فرعون و نمرود اور شداد کا کیا حشر ہوا اور اسی کتاب مقدس نے یہ بھی بتایا کہ حضرت موسیٰ ؑ کی تمام تر کوشش اور اللہ کی خصوصی مہربانیوں کے باوجود بنی اسرائیل نے نافرمانیوں کے ریکارڈ قائم کئے۔ اللہ کے وعدے اور حضرت موسیٰ ؑ کی سفارش پر اسرائیلیوں کے لئے زمین کا وعدہ بھی پور اکیا گیا لیکن اس قوم نے مکمل توبہ نہ کی اور سب عنائتوں کے باوجود واپس گؤ پوجا کی طرف مائل ہوئے اور نافرمانی شروع کی۔ بنی اسرائیل کو یقینا زمین عطا کی گئی لیکن یہ حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے اور ان کے پیروکار افراد کے لئے تھی نہ کہ دجال کو بلانے والے نافرمانوں کے لئے، اب معاہدہ ابراہیمی کا ذکر کیا گیا اور محترم ٹرمپ نے بھی یہی کیا ہے لیکن یہ کون بتائے اور سمجھائے گا کہ یہ معاہدہ حضرت موسیٰ ؑ کے پیروکار یہودیوں کے ساتھ تھا صہیونیوں کے ساتھ نہیں، آج بھی حضرت موسیٰ ؑ کی تعلیمات پر عمل پیرا یہودی اہل کتاب مانے جا سکتے اور مانے جانا چاہئیں لیکن نافرمان صہیونیوں کا اس معاہدے سے کیا تعلق؟
قارئین! امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان فرق تلاش کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ دونوں ایک ہیں، وقت پر اپنے بیانات بدل لیتے ہیں، ٹرمپ ہی نے غزہ کی اس پوری پٹی سے فلسطینیوں کی مکمل بے دخلی اور ان کو قریبی مسلمانوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی کہ غزہ کی اس پٹی پر امریکہ دنیا کی بہترین تفریح گاہ بنائے گا، لیکن جب مسلم ممالک اور خود فلسطینیوں اور مزاحمت کاروں کی طرف سے اس تجویز کو رد کر دیا گیا تو پھر ٹرمپ نے خود خاموشی اختیار کی اور نیتن یاہو کو چارہ ڈال دیا، اب خود اسرائیل سے سابق حکمرانوں کی بہت بڑی تعداد نے صدر ٹرمپ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو کو جنگ بند کرنے کا کہیں اور اسے نسل کشی سے روکیں، اب اسرائیل کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہوئی ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ صرف ٹرمپ ہی نیتن یاہو کو روک سکتے ہیں لیکن انہوں نے تو واضح کر دیا ہے کہ مرنا ہے تو مرتے رہو ورنہ اسرائیل کو نہ صرف تسلیم کرو بلکہ اس کی برتری بھی مان لو۔
قارئین! میں پہلے بھی عرض کر چکا کہ احادیث مبارکہ سے واضح ہے، بتایا گیا کہ ریت سیال سونا اگلے گی۔ مسلمان امیر و کبیر ہوں گے، ریت میں آسمانوں کو چھوتی عمارتیں بنیں گی لیکن مسلمان اپنے دین سے دور ہو جائیں گے اور پھر ان کو رسوائی ملے گی، میں اپنے عالم حضرات سے احترام کے ساتھ پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ بتائیں رسولؐ اکرم نے ان حالات کی روشنی میں دجال کی آمد سے قبل جن تین جنگوں اور شکست کا کہا، ان کا حالات حاضرہ سے کیا تعلق ہے کہ آج دنیا بھر میں ہم کمزور ہو گئے۔ دنیاوی دولت کے باوجود ہم مسلمان صہیونیوں کے ہاتھ نہیں روک سکے اور انتظار کر رہے ہیں کہ امریکہ، اسرائیل منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے اور غزہ کی آبادی ختم کر دی جائے۔ امریکی اور اسرائیلی قبضہ مستحکم ہو جائے تو ہم تسلیمات کا اعلان بھی کر دیں کہ امریکہ کے خوف سے کانپنے کی پوزیشن میں ہیں، چلیں مظلوم فلسطینیوں کی نعشوں پر ہی اگر نوبل انعام کا فیصلہ ہونا ہے تو پھر او آئی سی کو مل کر مبارک بھی دینا چاہیے۔

