پیرس(نمائندہ خصوصی+ایجنسیاں)فرانس کے نئے وزیرِاعظم سیبسٹین لاکورنو نے اچانک استعفیٰ دے دیا، جس کے نتیجے میں یہ حکومت جدید فرانسیسی تاریخ کی سب سے کم مدت والی انتظامیہ بن گئی۔ اس اقدام سے ملک میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا اور اسٹاک مارکیٹ و یورو کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق سیبسٹین لاکورنو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا، کیونکہ حامی اور مخالف دونوں نے نئی حکومت کو گرانے کی دھمکیاں دی تھیں۔ لاکورنو نے کہا کہ ایسے حالات میں وہ اپنا کام مؤثر طریقے سے انجام نہیں دے سکتے۔
اپوزیشن جماعتوں نے فوراً صدر ایمانوئل میکرون سے مطالبہ کیا کہ وہ مستعفی ہوں یا پارلیمانی انتخابات کرائیں۔ یہ بحران ملک میں سیاسی عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ایمانوئل میکرون کی صدارت کے دوران لاکورنو پانچویں وزیرِاعظم تھے اور ان کی حکومت صرف 14 گھنٹے قائم رہی۔
فرانسیسی سیاست 2022 میں میکرون کی دوبارہ کامیابی کے بعد سے غیر مستحکم ہے، کسی بھی جماعت یا اتحاد کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل نہیں۔ اس صورتحال میں میکرون کے پاس تین ممکنہ راستے ہیں: دوبارہ قبل از وقت انتخابات کرانا، خود مستعفی ہونا، یا کسی نئے وزیرِاعظم کو مقرر کرنا، چاہے وہ سیاستدان ہو یا ٹیکنوکریٹ۔
ایمانوئل میکرون کی صدارت مئی 2027 تک ہے، اور گزشتہ مہینوں میں وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ نہ تو وہ مستعفی ہوں گے اور نہ ہی نئے انتخابات کرائیں گے۔ سیبسٹین لاکورنو کے استعفے پر صدر میکرون کی جانب سے ابھی تک کوئی عوامی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔سیبسٹین لاکورنو کے استعفے سے فرانس میں سیاسی بحران مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، اور ملک میں آئندہ سیاسی فیصلوں پر تمام نظریں مرکوز ہو گئی ہیں۔

