فلاحی ریاست کی سہولیات اور نادرا…!

دنیا کو فلاحی ریاست کا تصور آخری نبی محمدۖ نے مدینہ میں اسلامی فلاحی ریاست قائم کر کے دیا مگر بد قسمتی سے خلفائے راشدین کے بعد یہ ریاست زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور اسلامی ریاستیں ملوکیت میں تبدیل ہوتی چلی گئیں۔ ملوکیت میں ہر چیز بادشاہ کی ملکیت ہوتی ہے وہ جس کو چاہے دے چاہے نہ دے۔ آج بیسویں اور اکیسویں صدی میں فلاحی ریاست کا نیا تصور جمہوریت اور جمہوری ریاستوں سے منسلک ہے۔ وہ تمام ریاستیں ، مملکتیں ، وہ تمام ممالک جہاں جمہوریت اصلی معنوں میں موجود ہے۔ جہاں باقاعدہ ، بروقت ایماندارانہ الیکشن ہوتے ہیں۔ جہاں لوگ اپنے نمائندوں کا چناؤ کرتے ہیں اور ” اصلی نمائندے ” ہی جیتتے ہیں۔ وہاں ہی ایسی حکومتیں بنتی ہیں جو اپنے ووٹروں کی بھلائی ، بہتری اور فلاح کے لیے کام کرتی ہیں۔ ایسی ریاست میں سب سے پہلی ترجیح انسان کے جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے۔ یہ ترجیح ہر ذمہ دار حکومت محسوس کرتی ہے۔ ایسا وہی حکومتیں کرتی ہیں جو یہ تصور کرتی ہیں کہ انہیں اپنے ” ووٹرز ، عوام ” کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کرنی ہیں۔ ان سہولیات میں بزرگوں کی دیکھ بھال ، بچوں کی اعلی تعلیم اور اعلی تربیت اہم ترین ہیں۔
میٹرک ایف اے تک مفت تعلیم شامل ہے۔ ملاوٹ سے پاک کھانے پینے کی اشیاء اور صاف ستھرا آلودگی سے پاک ماحول بھی اس میں آتا ہے۔ ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک فلاحی مملکت میں ایک اچھی جمہوریت کی بدولت ممکن ہوتا ہے۔ پاکستان میں ( انتہائی معذرت کے ساتھ بلکہ دکھے دل کے ساتھ ) ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ ایسا کچھ بالکل ہی نہیں ہے۔ البتہ کوئی کوئی محکمہ کام کر رہا ہے۔ شہید وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے شہریوں کو پاکستانی شناختی کارڈ کے شکل میں 1973 میں شناخت دی۔ یہ شناختی کارڈ اس وقت ہاتھ سے لکھ کر جاری کیا جاتا تھا۔ وقت بدلا کمپیوٹر کا زمانہ آیا اور پھر 1999 میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ سامنے آگئے۔ 2000 میں جنرل مشرف کی حکومت نے نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن اور ڈائریکٹر جنرل رجسٹریشن کے انضمام سے ” نادرا “کا محکمہ قائم کیا۔ اس محکمے نے عوام کو مختلف سہولیات دینا شروع کیں جن میں سمارٹ کارڈ بھی شامل ہے۔ جو کہ 2012 میں دیا گیا۔
سمارٹ کارڈ آج پاکستان کے ہر شہری کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ کیونکہ ان کی بدولت مختلف کام آسان ہو گئے ہیں۔ ان سمارٹ کارڈ کو ہم کسی ریاست کی طرف سے عوام کو دی گئی سہولیات میں شمار کر سکتے ہیں۔ ایک ایسی ریاست جو کہ 25 کروڑ عوام پر مشتمل ہو اور جہاں تین کروڑ بچے سکول کی تعلیم سے محروم ہیں۔ وہاں شناختی کارڈ کے ذریعے جو سہولتیں دی جا رہی ہیں اگر وہ نہ دی جائیں تو شاید عام ادمی کے لیے انکا حصول بیحد مشکل ہو۔ نادرا نے ایک تازہ سہولت جو متعارف کرائی ہے ( اس کا تذکرہ پہلے کر دیتے ہیں جو پہلے دی جا رہی ہیں اس کے بارے میں بعد میں بات کریں گے )۔ یہ سہولت جو لاہور میں عوام کو دی گئی ہے کہ اگر وہ 1777 پر فون کر کے نادرا کو درخواست کریں کہ انہیں نادرا کی ” تجدید اور ترمیم ” کی سہولت گھر میں ” بزرگ شہری , بیمار شہری یا معذور شہری ” کے لئے درکار ہے تو نادرا کا نمائندہ موٹر سائیکل پر اس گھر پہنچتا ہے اور شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات کی تجدید و ترمیم کی جاتی ہے۔ اس کام کی مقرر فیس کے علاوہ ایک ہزار روپیہ اضافی فیس وصول کی جاتی ہے۔ یہ فائدہ ایک ایسے ملک میں شہریوں کو مل رہا ہے جہاں نادرا کے دفاتر کے باہر ( جو 24 گھنٹے بھی کام کرتے ہیں) اتنی لمبی قطاریں ہوتی ہیں کہ بزرگ شہریوں کیلئے شناختی کارڈ کی تجدید کرانا یا ضروری کاغذات میں ترمیم کرانا مشکل ہو جاتا ہے لہٰذا اس ”سہولت” کو ایک ریاست کی طرف سے عوام ” سہولت ” ہی تصور کرنا چاہیے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے ملک میں ” بے تحاشا سہولتیں ” مل رہی ہیں۔ چلو کچھ سہولتیں تو مل رہی ہیں۔
نادرا نے گزشتہ 25 سال کے دوران خاصی سہولیات فراہم کی ہیں اور اس کی بنیادی وجہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے علاوہ جدید موبائل کی سہولیات ہیں۔ نادرا نے پاکستان بھر میں ” ای سہولت مراکز ” کھولے ہیں۔ اس وقت ” 17 ہزار فرنچائزڈ ای سہولت ” مراکز کام کر رہے ہیں۔ نادرہ کے ان فرنچائزڈ ای سہولت مراکز کی بدولت پاکستان کے ان شہریوں کے لیے جن کو 77 سال میں حکومتوں نے تعلیم فراہم نہیں کی زندگی خاصی آسان بنا دی ہے۔ اب ان لوگوں کو ” سرکاری دفاتر اور سرکاری بابو ” کی ” مشکل ” سے سامنا کرنا نہیں پڑتا۔ اب یہ اپنے ہی جیسے کسی عام پاکستانی کی دکان ، کریانہ سٹور ، جنرل سٹور ، موبائل شاپ سے اپنا کام کر لیتے ہیں۔ کسی کو پیسہ بھیجنا ہو کسی سے پیسہ منگوانا ہو بڑی اسانی سے ہو جاتا ہے۔ بلکہ اب ہر ماہ ساڑھے 12 لاکھ ” ٹرازکشنز ” ای سہولت مراکز کے ذریعے ہو رہے ہیں۔ اگر کسی کو ” کرونا سرٹیفکیٹ ” چاہیے تو نادرا کے دفتر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ، ای فرنچائز مرکز سے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ، پنجاب آرمز لائسنس اتھارٹی ، محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن پنجاب ، محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اسلام آباد ، وزارت ہاؤسنگ ، ایف بی آر سے متعلق معاملات بھی ای سہولت مراکز کے ذریعے ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی نے گھر فروخت کرنا ہے ، ملازم رکھنا ہے ، گاڑی فروخت کرنی ہے ، کوئی بزنس ڈیل کرنی ہے ، رقم کی ادائیگی کرنی ہے تو ” مخالف پارٹی ” کی شناخت کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ چند لمحوں میں پتہ چل جائے گا کہ سامنے والا ” اصلی ” ہے یا دو نمبر ہے۔ ای او بی آئی پینشن غریب اور کم پڑھے لکھے مزدوروں کو ملتی ہے جو کسی فیکٹری میں دکانوں پر چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں۔ ایک مخصوص رقم کٹوانے کے بعد 60 سال کی عمر میں انہیں ای او بی آئی پینشن ملتی ہے۔ اب اس پینشن کے لیے بینک جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ اب نادرا ای سہولت مراکز کے ذریعے یہ کم پڑھے لکھے مزدور پیشہ لوگ بآسانی اپنی پنشن حاصل کر سکتے ہیں۔ سندھ میں حکومت نے 2013 میں نادرہ سے ایک معاہدہ کیا جس کے بعد زکو? کی تقسیم کا نظام نادرا کے حوالے کیا گیا۔ 81 ہزار افراد نے نادرا کو درخواستیں دیں ، 75 ہزار افراد کی بائیو میٹرک کر لی گئی۔ اب پنشن سی مراکز سے مل رہی ہے۔ اب ای مراکز کے ذریعے جب پنشنر انگوٹھا لگا کر پنشن وصول کرتے ہیں تو اپنے زندہ ہونے کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔ یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ پینشن اصل حقدار کو مل رہی ہے۔ کوئی بھائی بہن بیٹا یہ وصول نہیں کر رہا۔
اب اگر ملازم گھر یا دکان میں رکھنا ہے تو نادرا ” ای سہولت مرکز ” کے ذریعے اس شخص کا ریکارڈ مل جاتا ہے۔ یعنی بہت سے مسائل جو کہ حکومت کو حل کرنا ہوتے ہیں وہ حکومت کے اس ایک محکمے کی بدولت یا اس ایک محکمے کے کچھ اقدامات کی بدولت آسان ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے 77 سالہ ماضی کو مدنظر رکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کاش یہاں ہر محکمہ نادرا جیسا بن جائے سہولتیں بانٹے زندگیاں آسان بنا دے۔

اپنا تبصرہ لکھیں