اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)سابق چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک اہم آئینی نظرثانی درخواست دائر کی ہے جس میں 7 مئی 2025 کو سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت 9 اور 10 مئی 2023 کے واقعات میں ملوث سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل جائز قرار دیا گیا تھا۔
درخواست میں وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا گیا ہے اور مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینی بینچ نے عدالتی نظیروں پر غلط انحصار کرتے ہوئے فیصلہ دیا، جس میں ایف بی علی کیس، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کیس اور شاہدہ ظہیر عباسی کیس شامل ہیں.
آئینی بینچ کے فیصلے میں واضح تضاد پایا جاتا ہے جہاں ایک طرف ملٹری ٹرائل کو آئینی قرار دیا گیا، وہیں پارلیمان کو اپیل کے قانون کی ہدایت دی گئی، جو اس بات کا اعتراف ہے کہ فوجی عدالتیں فی الوقت آزاد اور مکمل نہیں.بنیادی آئینی حقوق کے خلاف قوانین کو کالعدم قرار دینا عدلیہ کی آئینی ذمہ داری ہے، جس سے نظریں چُرا کر یہ اختیار پارلیمان کے سپرد نہیں کیا جا سکتا.
نظرثانی درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سات رکنی بینچ میں شامل دو ججز نے فیصلے سے اختلاف کیا، جبکہ اصل مقدمے میں چار ججز اور انٹرا کورٹ اپیل میں دو ججز نے واضح طور پر کہا کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل غیر آئینی ہے۔
جواد ایس خواجہ نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل آئینی مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پورے سول عدالتی نظام کو ایگزیکٹو کے تابع کر دیا گیا ہے، جو آئین کے بنیادی ڈھانچے اور شہری آزادیوں کی روح کے خلاف ہے۔
انہوں نے عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ 7 مئی 2025 کے فیصلے کو کالعدم اور سپریم کورٹ کے اُس پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ بحال کیا جائے جس نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

