پنجاب میں حکومت کا انتظامی ڈھانچہ بظاہر مضبوط نظر آتا ہے ، باقی صوبوں کے مقابلے میں اس کی آبادی آدھے پاکستان جتنی، اس کے انتظامی امور چلانے کیلئے افسران کی تعداد بھی اسی لئے زیادہ ،دس ڈویژن، درجنوں اضلاع، سینکڑوں افسران مگر اصل سوال ہمیشہ یہی رہا ہے، انتظامیہ کے چھوٹے بڑے افسران کی کارکردگی کا جائزہ کس طرح لیا جائے؟ برسوں تک ڈویژنل سطح پر کمشنرز اور ریجنل پولیس افسرز کی کارکردگی جانچنے کا کوئی باقاعدہ، شفاف اور مقداری نظام موجود نہیں تھا، کام ہو بھی رہا ہو تو اس کا تقابلی جائزہ مشکل اور اگر کمزوری ہو تو اس کی نشاندہی اور اصلاح کا عمل سست، اب صورتحال بدل رہی ہے ،ِ پنجاب حکومت نے پہلی بار ڈویژنل سطح پر کے پی آئیز یعنی کی پرفارمنس انڈیکیٹرز متعارف کروائے ہیں تاکہ کمشنر اور آر پی اوز کی کارکردگی کو صرف روایتی فائل ورک یا رسمی میٹنگز کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس اعداد و شمار، اہداف اور نتائج کی بنیاد پر جانچا جا سکے۔ اگر کیپیٹل سٹی ڈسٹرکٹ لاہور کو الگ رکھ کر باقی آٹھ ڈویژنز کا جائزہ لیا جائے تو جن چند ڈویژنز میں انتظامی اور امن و امان کے محاذ پر واضح بہتری نظر آتی ہے، ان میں فیصل آباد ڈویژن کا نام نمایاں ہے، جہاں اس وقت کمشنر راجہ جہانگیر اور ریجنل پولیس افسر سہیل سکھیرا کی قیادت میں انتظامی اور پولیس کارکردگی کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے،ڈویزن کے دونوں کمانڈرز کی شہرت بہت اچھی،ورکنگ اعلیٰ اور آپس کی کوآرڈینیشن مثالی سمجھی جا رہی ہے ،صوبے کی ٹاپ لیول انتظامی لیڈرشپ کی رائے کے مطابق دونوں افسر سول اور پولیس کا بہترین سٹف ہیں، مختلف اچھی پوسٹوں پر کام کر چکے ہیں جس کی وجہ سے انہیں حکومتی پالیسوں کو سمجھنے ،مختلف صوبائی محکموں کے امور کا جائزہ لینےاور حکومتی ترجیحات پرعمل درآمد میں آسانی رہتی ہے۔
افسروں کے اس لیول پر کی پی آئیز متعارف کروانے کا مقصد صرف اعداد و شمار جمع کرنا نہیں بلکہ فیصلہ سازی کو ڈیٹا بیسڈ بنانا ہے، اب کمشنر کی کارکردگی ریونیو ریکوری، پرائس کنٹرول، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار، ستھرا پنجاب اقدامات، اور عوامی شکایات کے ازالے جیسے پیمانوں پر جانچی جا رہی ہے، اسی طرح آر پی او کی کارکردگی سنگین جرائم کی شرح، ملزمان کی گرفتاری، چالان کی تکمیل، منشیات کے خلاف کارروائی، اشتہاری ملزمان کی گرفتاری، اور پولیس رسپانس ٹائم جیسے اشاریوں سے ناپی جا رہی ہے۔ یہ نظام اس لئے اہم ہے کہ ڈویژنل سطح پر کمشنر اور آر پی او محض انتظامی نمائندے نہیں بلکہ پورے ڈھانچے کے سپروائزر ہوتے ہیں، اگر ان کی نگرانی مؤثر ہو تو نیچے تک اثر پڑتا ہے اور اگر وہ غیر فعال ہوں تو پورا سسٹم سست پڑ جاتا ہے۔ فیصل آباد محض ایک ڈویژن نہیں بلکہ پاکستان کا بڑا صنعتی اور ٹیکسٹائل حب جبکہ پنجاب کا دوسرا اور پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے ، یہاں آبادی کا دباؤ، صنعتوں کی سرگرمیاں، مزدور طبقہ، ٹریفک کا حجم اور شہری مسائل انتظامیہ کے لئے مسلسل چیلنج ہیں، ایسے شہر میں اگر انتظامی کارکردگی بہتر دکھائی دے تو وہ محض اتفاق نہیں ہوتا بلکہ منصوبہ بندی، نگرانی اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کمشنر راجہ جہانگیر فیصل آباد تعیناتی سے قبل پنجاب کے محکمہ اطلاعات سمیت کئی دوسرے اہم محکموں کے سیکرٹری رہنے کے علاوہ بہاولپور میں کمشنر رہ چکے ہیں ،انکی انتظامی گرفت اور فیلڈ مانیٹرنگ کا جائزہ لیا جائے تو چند نمایاں پہلو سامنے آتے ہیں جن میں موثر پرائس کنٹرول ، مارکیٹ مانیٹرنگ اور بغیر اطلاع دیے اچانک دورے نمایاں ہیں ، مہنگائی کے اس دور میں پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی فعال نگرانی، اچانک چھاپے، اور روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا ریویو نے فیصل آباد ڈویژن کو کئی دیگر ڈویزنز کے مقابلے میں بہتر پوزیشن پر رکھا ہے۔ ڈویزن میں جرمانوں کی تعداد نہیں بلکہ قیمتوں کے استحکام کو اہمیت دی جا رہی ہے، اسی طرح ریونیو اور لینڈ ریکارڈ کے حوالے سے ریکوری اور اراضی تنازعات کے حل میں تیزی لانا ایک مشکل کام ہوتا ہے، کمشنر آفس کی باقاعدہ مانیٹرنگ میٹنگز نے اس شعبے میں پیش رفت کو تیز کیا ہے، پٹواری سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر تک جوابدہی کا نظام نسبتاً واضح نظر آتا ہے، جہاں تک ترقیاتی منصوبے ہیں تو ڈویژنل ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی بروقت تکمیل اچھی جا رہی ہے،فیصل آباد میں زیرِ تکمیل منصوبوں کی رفتار اور فنڈز کے استعمال کی شرح دیگر کئی ڈویژنز سے بہتر بتائی جا رہی ہے،صفائی اور شہری نظم، ستھرا پنجاب مہم کے تحت ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی کارکردگی کی نگرانی اور فیلڈ وزٹس نے شہری صفائی کے اشاریوں میں بہتری کے معاملات بتائے ہیں ۔
دوسری طرف آر پی او سہیل سکھیرا، کی قیادت میں پولیسنگ کے انداز میں چند نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں،کرائم کنٹرول، سنگین جرائم کی شرح میں کمی اور ملزمان کی گرفتاری کی شرح میں اضافہ بنیادی اشاریے ہیں، ریجن میں اشتہاری ملزمان کی گرفتاری اور زیرِ تفتیش مقدمات کی تکمیل میں واضح بہتری سامنے آئی ہے،منشیات کے خلاف کارروائی انسدادِ منشیات مہم میں تھانوں کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لے کر کمزور کارکردگی والے علاقوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ پولیس رسپانس ٹائم اور کمیونٹی پولیسنگ ایمرجنسی کالز پر رسپانس ٹائم کم کرنا اور عوامی رابطہ بڑھانا جدید پولیسنگ کا حصہ ہے، اس حوالے سے ٹیکنالوجی کے استعمال اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو فروغ دیا گیا.افسران کی نگرانی اور ڈسٹرکٹ سطح پر ڈی پی اوز کی کارکردگی کی باقاعدہ جانچ نے نیچے تک نظم و ضبط کو مضبوط کیا ہے،سہیل سکھیرا کو قبل ازیں لاہور جیسے بڑے شہر کے ساتھ ساتھ سینٹرل پولیس آفس کی اہم ترین پوسٹوں پر کام کا تجربہ حاصل ہے۔
حکومت کی طرف سے جائزوں میں فیصل آباد ڈویزن اور اس کے دونوں بڑے انتظامی افسروں کی کارکردگی بہترین بتائی جا رہی ہے ،اس کی اہم وجہ یہ بھی نظر آ رہی ہے کہ دونوں ،اعلیٰ صوبائی عہدوں پر کام کر چکے ہیں،اس تجربے نے انہیں حکومتی ترجیحات کو سمجھنے میں سبقت دی ہے،اس کا فائدہ یہ ہے کہ ڈویژنل سطح پر فیصلے کرتے وقت وہ محض مقامی مسئلہ نہیں دیکھتے بلکہ صوبائی حکمتِ عملی کے تناظر میں سوچتے ہیں۔ ان دونوں افسروں کا اچھا ٹیم ورک ہے یا انفرادی کارکردگی؟ یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ کامیابی صرف دو افراد کی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ڈویژنل انتظامیہ ایک ٹیم ورک پر چلتی ہے، کمشنر اور آر پی او اگر ہم آہنگ ہوں تو سول اور پولیس انتظامیہ کے درمیان وہ خلیج کم ہو جاتی ہے جو اکثر مسائل کو جنم دیتی ہے، فیصل آباد میں سول اور پولیس قیادت کے درمیان کوآرڈینیشن کو مضبوط قرار دیا جا رہا ہے، جس کا اثر امن و امان اور انتظامی معاملات دونوں پر پڑ رہا ہے ؟ اگر KPI سسٹم کو سنجیدگی سے جاری اور سیاسی یا ذاتی مداخلت سے پاک رکھا گیا تو فیصل آباد کا ماڈل دیگر ڈویژنز کے لئے مثال بن سکتا ہے مگر اس ڈویزن کا اصل امتحان موجودہ اچھی کارکردگی کا تسلسل ہو گا ،کیا موجودہ کارکردگی وقتی ہے یا پائیدار؟ اس کا جواب تو آئیندہ مہینوں میں ملے گا ،فی الحال تو فیصل آباد ڈویژن میں راجہ جہانگیر اور سہیل سکھیرا کی انتظامی گرفت، ڈیٹا بیسڈ مانیٹرنگ، اور سول و پولیس ہم آہنگی نے مجموعی کارکردگی کو بہتر بنایا ہواہے۔

