پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں تاریخ غیر معمولی رفتار اور تسلسل کے ساتھ خود کو دہراتی ہے۔ یہ کیفیت قومی زندگی کے کئی شعبوں میں نمایاں ہے، مگر سیاست اور عدلیہ میں اس کی شدت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ پرانے تنازعات نئی صورتوں میں واپس آتے ہیں، آئینی سوالات بار بار سر اٹھاتے ہیں، اور وہ بحران جو ماضی میں طے ہو جانے چاہئیں تھے، دوبارہ عدالتی مداخلت کے متقاضی بن جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں چند عدالتی فیصلے وقتی اہمیت سے نکل کر مستقل رہنمائی کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیض آباد دھرنا کیس (2017) کا فیصلہ بھی ایسا ہی ایک تاریخی فیصلہ ہے جو آج بھی اسی طرح قابلِ اطلاق ہے جیسے اپنے وقت میں تھا۔
نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنا انتخابی حلف نامے میں تبدیلی کے خلاف احتجاج کے طور پر شروع ہوا، مگر جلد ہی اسلام آباد اور راولپنڈی کو مفلوج کرنے والی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ کئی ہفتوں تک جڑواں شہروں کی مرکزی شاہراہیں بند رہیں، کاروبار ٹھپ ہو گئے، تعلیمی ادارے بند رہے، مریض اسپتال نہ پہنچ سکے اور شہریوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی۔ اس دوران ریاستی عمل داری کمزور اور غیر یقینی دکھائی دی۔ بحران کا اختتام قانون کے نفاذ کے بجائے ایک ایسے معاہدے پر ہوا جس نے آئینی حدود اور ریاستی کردار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
اسی پس منظر میں سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا۔ یہ فیصلہ، جسے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا، محض ایک دھرنے تک محدود نہ رہا بلکہ آئینی طرزِ حکمرانی، شہری آزادیوں اور ریاستی اداروں کی حدود جیسے بنیادی سوالات کا احاطہ کرتا ہے۔ فیصلے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ بنیادی حقوق مطلق نہیں ہوتے۔ اگرچہ آئین اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی دیتا ہے، مگر ان حقوق کے استعمال کی ایک حد ہے، خصوصاً وہاں جہاں دوسروں کے حقوق متاثر ہوں۔
جسٹس عیسیٰ نے واضح کیا کہ کوئی گروہ پورے شہر کو یرغمال بنانے کا آئینی حق نہیں رکھتا۔ احتجاج ایک تسلیم شدہ حق ہے، لیکن جب وہ جبر کی صورت اختیار کر لے تو اس کی آئینی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ عدالت نے اس تصور کو مسترد کیا کہ سڑکوں پر طاقت دکھا کر آئینی نظم معطل کیا جا سکتا ہے۔ اختلافِ رائے قابلِ تحفظ ہے، مگر بدنظمی نہیں۔
فیصلے کا سب سے اہم اور دور رس پہلو ریاستی اداروں، بالخصوص خفیہ اداروں اور فوج کے کردار سے متعلق تھا۔ عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آئین پاکستان کسی بھی فوجی یا خفیہ ادارے کو سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ ان اداروں کا دائرۂ اختیار محدود اور واضح ہے اور وہ مکمل طور پر سول اتھارٹی کے ماتحت ہیں۔ کسی بھی قسم کی براہِ راست یا بالواسطہ سیاسی شمولیت آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کے مخصوص سیاسی اور ادارہ جاتی تناظر میں آئینی حدود کی ایسی واضح اور بے خوف تشریح صرف غیر معمولی عدالتی خودمختاری اور جرات رکھنے والے جج، جیسے قاضی فائز عیسیٰ، ہی کر سکتے تھے۔
یہ عدالتی موقف پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک غیر معمولی وضاحت کی حیثیت رکھتا ہے۔ بغیر کسی جذباتی انداز یا الزام تراشی کے، عدالت نے آئینی اصولوں کی بنیاد پر ادارہ جاتی حدود متعین کر دیں۔ فیصلے میں یہ پیغام دیا گیا کہ ریاستی اداروں کی ساکھ آئین کی پابندی سے قائم رہتی ہے، نہ کہ وقتی مصلحت یا استحکام کے نام پر غیر آئینی اقدامات سے۔
فیصلے میں حکومتی ناکامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بے عملی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پسپائی، اور نفرت انگیز تقاریر و مواد کے پھیلاؤ پر ریگولیٹری اداروں کی خاموشی—یہ سب آئینی بحران کے اسباب تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے بحران کسی ایک فریق کی غلطی نہیں بلکہ اجتماعی ادارہ جاتی ناکامی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
اس فیصلے کی ایک نمایاں خصوصیت بلا امتیاز احتساب پر زور تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے اور کوئی ادارہ اس سے بالاتر نہیں۔ احتساب کو تصادم نہیں بلکہ آئینی فریضہ قرار دیا گیا۔
فیض آباد دھرنا کیس پاکستان میں سول ملٹری تعلقات سے متعلق عدالتی تاریخ میں بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس فیصلے نے سول بالادستی کو سیاسی نعرہ نہیں بلکہ آئینی تقاضا قرار دیا اور واضح کیا کہ ریاستی اداروں کی اصل طاقت آئینی حدود میں رہنے میں ہے۔
یہ فیصلہ ایک گہری حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے: ریاست کا اپنے ہی اختیار پر عدم اعتماد۔ قانون شکنی کرنے والوں سے مذاکرات اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے گریز نے بے جا رعایت کو معمول بنا دیا۔ عدالت نے خبردار کیا کہ جب ریاست قانون نافذ کرنے کے بجائے غیر رسمی طاقتوں پر انحصار کرے تو آئینی ڈھانچہ کمزور ہو جاتا ہے۔
آج، کئی برس بعد، فیض آباد دھرنا کیس کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے۔ احتجاج، تعطل اور ادارہ جاتی ابہام کے مناظر بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اس لیے زندہ ہے کہ یہ صرف ایک واقعے پر نہیں بلکہ ایک مستقل قومی مسئلے پر روشنی ڈالتا ہے۔
ایسے ملک میں جہاں بحران بار بار جنم لیتے ہیں، فیض آباد کا فیصلہ یاد دلاتا ہے کہ حل پہلے ہی آئین میں موجود ہے۔ مسئلہ قانون کی وضاحت کا نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنے کے اجتماعی عزم کا ہے۔

